Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوگل کے ملازمین کا سندر پچائی سے منتخب کاموں کیلئے پنٹاگون کے اےآئی استعمال پر روک کا مطالبہ

Updated: April 28, 2026, 8:01 PM IST | New York

گوگل کے ملازمین نے سندر پچائی پر زور دیا کہ وہ منتخب کاموں کیلئے پینٹاگون کو اے آئی استعمال نہ کرنے دیں ، جبکہ اطلاع ہے کہ گوگل امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کر رہا ہے کہ خفیہ کاموں کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا ممکنہ طور پر استعمال کیا جائے۔

Google CEO Sundar Pichai. Photo: INN
گوگل کے سی ای او سندر پچائی۔ تصویر: آئی این این

گوگل کے سینکڑوں ملازمین نے کمپنی کے سی ای او سندر پچائی پر زور دیا ہے کہ وہ پینٹاگون کو خفیہ ماحول میں کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ایک کھلے خط میں،اے آئی منصوبوں پر کام کرنے والے ملازمین نے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ کمپنی کی جاری بات چیت پر تشویش کا اظہار کیا، اور دلیل دی کہ یہ ٹیکنالوجی ’’خفیہ کام ‘‘ کیلئے موزوں نہیں ہے۔خط میں کہا گیا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی سے ہماری وابستگیہم پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ ہم اس کے غیر اخلاقی اور خطرناک استعمال کو اجاگر کریں اور روکیں۔ لہٰذا، ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارےاے آئی نظام کو خفیہ کاموں کے لیے مہیاکرنے سے انکار کر دیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: کیا پینٹاگون نے صحافیوں کی رسائی مکمل طور پر ختم کردی؟

ملازمین نے مزید کہاکہ’’ ہم چاہتے ہیں کہ اے آئی انسانیت کے مفادمیں استعمال ہو، نہ کہ غیر انسانی یا انتہائی نقصان دہ طریقوں میں۔‘‘ بعد ازاں ان کا کہنا تھا کہ اے آئی میں کام کرنے والے افراد کے طور پر، ہم جانتے ہیں کہ یہ نظام غلطیاں کرتے ہیں۔اس کے علاوہ خط میں خودکار مہلک  ہتھیاروں اور وسیع پیمانے پر نگرانی کو اس بات کی مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا کہ اے آئی کا غلط استعمال کیسے ہو سکتا ہے۔ تاہم خط نے خبردار کیا کہ اس مرحلے پر ایک غلط فیصلہ گوگل کی ساکھ، کاروبار اور عالمی حیثیت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ڈجیٹل پے منٹس کی خلل نے زندگی مفلوج کردی، کھانا اور نقل و حمل متاثر

واضح رہے کہ دی انفارمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق، گوگل محکمہ دفاع کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کر رہا ہے کہ خفیہ کاموں کے لیے اس کے اے آئی کا ممکنہ طور پر استعمال کیا جائے۔ دراصل سال کے اوائل میں، اوپن اے آئی نے پینٹاگون کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس میں یہ شرط شامل تھی کہ اس کی ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر داخلہنگرانی یا خودکار ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK