Updated: October 01, 2026, 10:05 PM IST
| Tokyo
جاپان میں ۶۵؍ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد ملک کی مجموعی آبادی کا ۴ء۲۹؍ فیصد ہوگئی ہے، جو ۲۰۲۰ء کے مقابلے میں ۹ء۰؍ فیصد زیادہ ہے۔ دوسری جانب ۲۰۲۵ء میں ملک کی مجموعی آبادی میں ۵ء۲؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ شرحِ پیدائش بھی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
جاپان میں معمر افراد کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ ملک کی مجموعی آبادی مسلسل تیسری مردم شماری میں کم ہوئی ہے۔ کیوڈو نیوز نے منگل کو حتمی ۲۰۲۵ء کی مردم شماری کے نتائج کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ ۲۰۲۵ء میں ۶۵؍ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد جاپان کی مجموعی آبادی کا ۴ء۲۹؍ فیصد رہے، جو ۲۰۲۰ء کی گزشتہ مردم شماری کے مقابلے میں ۹ء۰؍ فیصد زیادہ ہے۔ غیر ملکی باشندوں سمیت جاپان کی آبادی یکم اکتوبر ۲۰۲۵ء تک کم ہو کر ۱۲۲،۹۷۲،۵۲۸ رہ گئی، جو ۲۰۲۰ء کے مقابلے میں ۳۱؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار یعنی ۵ء۲؍ فیصد کی کمی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین کو مٹایا یا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر منصور
۱۹۲۰ء سے ہر پانچ سال بعد ہونے والی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی مسلسل تیسری مرتبہ کم ہوئی ہے۔ دوسری جانب جاپان کی مجموعی آبادی کا ۱ء۳۰؍ فیصد ٹوکیو میٹروپولیٹن علاقے میں مرکوز ہوگیا، جو پہلی مرتبہ ۳۰؍ فیصد کی حد سے تجاوز ہے۔ جاپان میں آبادی میں کمی کے ساتھ شرح پیدائش بھی مسلسل کم رہی ہے۔ وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۵ء میں جاپانی باشندوں میں ۶،۷۱،۲۳۶؍ بچوں کی پیدائش ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۱۴،۹۳۷؍ کم اور ۱۸۹۹ء میں قابلِ موازنہ ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سب سے کم تعداد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یمن: سرکاری فوج کے حوثیوں کے ٹھکانوں پر تین دن میں ۷۰۰؍ سے زائد حملے
اسی طرح مجموعی شرحِ پیدائش بھی ۲۰۲۴ء کی ۱۵ء۱؍ سے کم ہو کر ریکارڈ سطح ۱۴ء۱؍ پر پہنچ گئی۔ تاہم، وزارتِ صحت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں غیر ملکی باشندوں سمیت ۳،۴۲،۰۶۸؍ بچوں کی پیدائش ہوئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ۸ء۰؍ فیصد زیادہ ہے۔ جنوری سے جون کے دوران پیدائش میں یہ ۱۱؍ سال میں پہلی مرتبہ اضافہ ہے۔ اسی عرصے میں ۷،۷۸،۹۸۲؍ اموات ریکارڈ کی گئیں، جس کے نتیجے میں قدرتی آبادی میں ۴،۳۶،۹۱۴؍ افراد کی کمی واقع ہوئی۔