Updated: October 24, 2026, 5:34 PM IST
| New Delhi
ایپل کے پہلے فولڈ ایبل اسمارٹ فون آئی فون ڈیو کا ابتدائی اسٹاک ہندوستان میں فروخت کے آغاز سے پہلے ہی بک ہوگیا، جبکہ دہلی اور نوئیڈا کے اسٹورز کے باہر لانچ کے دن غیر معمولی خاموشی رہی۔ ایک طرف آن لائن فروخت کے چند منٹ میں فون ختم ہونے کی خبریں ہیں، دوسری طرف دکانوں کے باہر لمبی قطاریں غائب ہیں۔ محدود سپلائی، پہلے سے بکنگ کے نظام اور تقریباً ۳؍ لاکھ روپے کی ابتدائی قیمت نے اس تضاد کو نمایاں کردیا ہے۔
آْئی فون ڈیو۔ تصویر: آئی این این
ایپل کے پہلے فولڈ ایبل اسمارٹ فون آئی فون ڈیو نے ہندوستان میں فروخت کے پہلے ہی دن غیر معمولی طلب اور محدود دستیابی کے باعث توجہ حاصل کرلی۔ ۲۳؍ اکتوبر کو فروخت شروع ہوتے ہی مختلف آن لائن پلیٹ فارموں اور ریٹیل اسٹورز میں ابتدائی اسٹاک ختم ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کوئیک کامرس پلیٹ فارم بلنک اِٹ پر دہلی-این سی آر میں فون صبح ۸؍ بج کر ۱۵؍ منٹ پر دستیاب ہوا اور کمپنی کے سربراہ البندر ڈھنڈسا کے مطابق، تمام دستیاب یونٹ محض ۵؍ منٹ میں فروخت ہوگئے۔ تاہم، فروخت کی یہ تیزی ایپل اسٹورز کے باہر نظر آنے والی بھیڑ میں تبدیل نہیں ہوئی۔ فنانشیل ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، فون کی شدید مانگ کے مقابلے میں سپلائی بہت محدود رہی۔ آل انڈیا موبائل ریٹیلرز اسوسی ایشن (اے آئی ایم آر اے) نے بتایا کہ کئی بڑے ریٹیلرز کو توقع کے برخلاف صرف ۵؍ سے ۷؍ فروخت کے قابل یونٹ ملے، حالانکہ بعض دکانوں کو مختلف ماڈلوں کو ملا کر کم از کم ۱۰۰؍ فون کی طلب کی توقع تھی۔ محدود اسٹاک کے باعث کچھ دکانداروں نے پیشگی بکنگ لینا بند کردیا، جبکہ نئے خریداروں کو فون کی فراہمی کی تاریخ بتانا بھی مشکل ہوگیا۔ بعض بڑے اسٹورز کو فروخت کے لیے دستیاب فونوں کے مقابلے میں نمائش کے لیے زیادہ یونٹ ملنے کی اطلاعات بھی ہیں۔
آئی فون ڈیو کی ہندوستان میں ابتدائی قیمت ۲۵۶؍ جی بی ماڈل کے لیے ۲؍ لاکھ ۹۹؍ ہزار ۹۰۰؍ روپے ہے، جبکہ ۲؍ ٹی بی اسٹوریج والے ماڈل کی قیمت ۴؍ لاکھ ۴۹؍ ہزار ۹۰۰؍ روپے تک پہنچتی ہے۔ اس قیمت پر یہ فون عام خریداروں کے بجائے انتہائی مہنگے اسمارٹ فون خریدنے والے محدود طبقے کو ہدف بناتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، بعض خریدار فوری فون حاصل کرنے کے لیے سرکاری زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت سے ۲۵؍ ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک اضافی ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔ دہلی، غازی آباد اور نوئیڈا کے بعض ریٹیلرز نے بھی اضافی رقم طلب کیے جانے کی اطلاعات کی تصدیق کی۔ تاہم، یہ صورت حال تمام دکانوں پر یکساں نہیں؛ اے آئی ایم آر اے کے مطابق کچھ دکاندار اپنے پرانے گاہکوں کو سرکاری قیمت ہی پر فون فراہم کرنے پر قائم ہیں۔ اس کے باوجود، فروخت کے پہلے دن ایپل کے اسٹورز کے باہر وہ ہجوم نہیں دکھائی دیا جو نئے آئی فون کی لانچ کے موقع پر عموماً خبروں اور سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے ٹیکنالوجی ایڈیٹر سائرس جان نے دہلی کے ساکیت اسٹور کا دورہ کیا تو صبح ۷؍ بجے باہر انتظار کے لیے رکھی گئی کرسیاں تقریباً خالی تھیں۔ اسٹور کھلنے کے وقت قطار میں صرف ۳؍ سے ۴؍ افراد موجود تھے۔ نوئیڈا میں بھی اسٹور کھلنے سے پہلے خریداروں کی تعداد تقریباً اتنی ہی بتائی گئی۔ یہ منظر اس خبر سے بظاہر متضاد تھا کہ فون کا ابتدائی اسٹاک پہلے ہی بک ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ملئے ریاست بہار کے ’تکا رام منڈے‘ کمار روی سے، ملاوٹی اشیاء کے خلاف مہم جاری
اس تضاد کی ایک بڑی وجہ خریداری کا طریقہ ہوسکتا ہے۔ ہندوستان میں لانچ کے دن اسٹور سے فون حاصل کرنے کے لیے آن لائن بکنگ اور مقررہ وقت پر فون وصول کرنے کا انتظام اہم تھا۔ جن خریداروں نے پہلے ہی اپنا وقت حاصل کرلیا تھا، ان کے لیے اسٹور کھلنے سے کئی گھنٹے پہلے پہنچ کر قطار میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ دوسری جانب، بغیر بکنگ آنے والے خریداروں کے لیے بھی قطار میں لگنے کا فائدہ محدود تھا، کیونکہ فون ملنے کی ضمانت نہیں تھی۔ ایپل نے دہلی-این سی آر کے ہر اسٹور کو فراہم کیے گئے فونوں کی تعداد عوامی طور پر ظاہر نہیں کی، اس لیے مقامی سطح پر دستیاب اسٹاک کی مکمل تصویر سامنے نہیں آسکی۔ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں چند خریداروں کے تجربات بھی سامنے آئے۔ چندی گڑھ سے دہلی پہنچنے والے انمول سنگھ نے بتایا کہ فون کی بکنگ کے لیے انہیں تقریباً آدھا گھنٹہ کوشش کرنا پڑی، جس کے بعد انہیں صبح ۸؍ بجے فون وصول کرنے کا وقت ملا۔ انہوں نے پہلی نسل کے فولڈ ایبل فون کی بعض خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے اس فون کی کشش صرف اسکرین کے مڑنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کی پیداواری صلاحیت اور ایپل کے نظام کے ساتھ اس کا تال میل بھی اہم ہے۔ تاہم، اسٹور پر موجود چند خریداروں کی رائے سے تمام صارفین کے رجحان کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: ڈومبیولی: پراپرٹی ٹیکس کی عدم ادائیگی پر کینرا بینک کا اے ٹی ایم سیٖل
اسٹورز کے باہر بھیڑ کم رہنے کی ایک اور ممکنہ وجہ فون کی غیر معمولی قیمت ہے۔ تقریباً ۳؍ لاکھ روپے کی ابتدائی قیمت اسے ایسی خریداری بناتی ہے جس کے لیے صارف عموماً پہلے تحقیق کرتا ہے، بجٹ طے کرتا ہے اور بکنگ کا انتظام کرتا ہے۔ ایپل کے لیے بھی لانچ کے دن اسٹور کے باہر قطاروں کی لمبائی سے زیادہ اہم یہ ہوسکتا ہے کہ کتنے فون بک ہوئے، کتنے فروخت ہوئے اور استعمال کے بعد خریدار اس سے کتنے مطمئن رہتے ہیں۔ البتہ، قطاریں مختصر رہنے کی کوئی ایک حتمی وجہ سامنے نہیں آئی؛ پہلے سے بکنگ، محدود اسٹاک اور مہنگی قیمت ممکنہ عوامل ہیں، جنہیں مصدقہ وجوہات نہیں کہا جاسکتا۔ اس دوران محدود دستیابی نے غیر سرکاری بازار میں اضافی قیمت وصول کیے جانے کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ فنانشیل ایکسپریس اور انڈیا ٹوڈے کی رپورٹوں کے مطابق، بعض خریدار فون فوری حاصل کرنے کے لیے سرکاری قیمت سے کہیں زیادہ رقم ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔ ایپل کی جانب سے ہندوستانی آن لائن اسٹور پر فی آرڈر زیادہ سے زیادہ ۲؍ آئی فون خریدنے کی حد بھی رپورٹ کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، محدود اسٹاک کے باعث غیر سرکاری فروخت کو فروغ مل سکتا ہے، تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ اضافی قیمت وصول کرنے کا عمل ہر ریٹیلر میں عام ہے۔
ہندوستان میں ایپل کے کاروبار کی بڑھتی ہوئی اہمیت بھی اس لانچ کے پس منظر کا حصہ ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق، ایپل انڈیا کی مالی سال ۲۰۲۶ء میں کاروباری سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ایک لاکھ ۳؍ ہزار ۸۵۳؍ کروڑ روپے رہی، جو مالی سال ۲۰۲۵ء کے ۷۹؍ ہزار ۶۰؍ کروڑ روپے کے مقابلے میں ۳۱؍ فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، کمپنی کی مجموعی آمدنی میں اضافے کو آئی فون ڈیو کی کامیابی کا براہِ راست ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ یہ ایپل کے پورے کاروبار کے اعداد و شمار ہیں۔ فولڈ ایبل فون کی طویل مدتی کامیابی کا اندازہ اس کی مسلسل فروخت، صارفین کے تجربات اور آئندہ اسٹاک کی دستیابی سے ہی لگایا جاسکے گا۔