• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اشوک سین کو فزکس کا باوقار آسکر کلین میڈل، پہلے ہندوستانی سائنسداں بنے

Updated: October 24, 2026, 6:34 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے ممتاز نظریاتی طبیعیات داں پروفیسر اشوک سین نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرتے ہوئے۲۰۲۶ء کا آسکر کلین میڈل(Oskar Klein medal) حاصل کر لیا ہے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی طبیعیات داں ہیں۔ یہ تمغہ طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے سائنسدانوں کو دیا جاتا ہے اور اس کے سابقہ وصول کنندگان میں کئی نوبیل انعام یافتہ سائنسداں بھی شامل ہیں۔

Professor Ashoke Sen.Photo: X
پروفیسر اشوک سین۔ تصویر: ایکس

ہندوستان کے معروف طبیعیات داں پروفیسر اشوک سین کو نظریاتی طبیعیات کے شعبے میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں آسکر کلین میڈل۲۰۲۶ءسے نوازا گیا ہے۔ بنگلورو میں واقع انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل سائنسز (آئی سی ٹی ایس) نے ۲۲؍ اکتوبر کو اس اعزاز کا اعلان کیا۔ اشوک سین اس ادارے میں آئی سی ٹی ایس۔ انفوسس مادھوا چیئر پروفیسر ہیں۔ وہ اس باوقار تمغے کو حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی طبیعیات داں بن گئے ہیں۔ 
اسٹرنگ تھیوری میں نمایاں خدمات
اشوک سین کو جدید طبیعیات کے ایک اہم نظریاتی شعبے، اسٹرنگ تھیوری (String Theory)، میں ان کی تحقیق کیلئے بین الاقوامی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔ اس نظریے کے ذریعے سائنسداں کائنات کی بنیادی قوتوں اور ذرات کو ایک متحد فریم ورک میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا ایک اہم مقصد کوانٹم میکانیات اور کششِ ثقل کے درمیان موجود نظریاتی فرق کو سمجھنا اور دونوں کو ایک مشترکہ نظریے میں یکجا کرنا ہے۔ اشوک سین کی تحقیق میں ایس ڈوئلٹی (S-Duality)، بلیک ہولز کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ ان کے کام نے اسٹرنگ تھیوری کی ترقی اور کائنات کے بنیادی قوانین کو سمجھنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی چھاپے کے دوران ۱۰؍ فلسطینی فنکاروں نے تحفظ دیا: یہودی امریکی اداکار

آسکر کلین میڈل کی اہمیت
آسکر کلین میڈل کا نام سویڈن کے معروف نظریاتی طبیعیات دان آسکر کلین کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ اعزاز ۱۹۸۸ءمیں شروع کیا گیا تھا اور ہر سال اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبیل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد طبیعیات کے شعبے میں نمایاں اور غیر معمولی خدمات انجام دینے والے سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے کام کا اعتراف کرنا ہے۔ اس اعزاز کے ابتدائی وصول کنندگان میں نوبیل انعام یافتہ سائنسداں چن ننگ یانگ، اسٹیون وائنبرگ اور ہانس بیتھے شامل ہیں۔ ان ممتاز سائنسدانوں کی فہرست میں اب اشوک سین کا نام بھی شامل ہو گیا ہے، جو ہندوستانی سائنسی برادری کیلئے ایک اہم کامیابی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رائے گڑھ میں طلبہ کی شدید کمی، ضلع پریشد کے۳۶۰؍ اسکول بند ہونے کے دہانے پر

پہلے بھی کئی بڑے اعزازات حاصل کر چکے ہیں 
آسکر کلین میڈل اشوک سین کو ملنے والا پہلا بڑا عالمی اعزاز نہیں ہے۔ انہیں ۲۰۱۲ء میں اسٹرنگ تھیوری کے متحد نظریاتی ڈھانچے کو آگے بڑھانے میں نمایاں خدمات کیلئے بریک تھرو پرائز اِن فنڈامینٹل فزکس دیا گیا تھا، جبکہ ۲۰۱۴ء میں انہیں ڈائراک میڈل سے بھی نوازا گیا۔ ان کے دیگر اعزازات میں ۲۰۰۹ءکا انفوسس پرائز برائے ریاضیاتی علوم، ۱۹۹۴ءکا شانتی سوروپ بھٹناگر انعام اور۱۹۸۹ءکا آئی سی ٹی پی پرائز شامل ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ۲۰۰۱ء میں پدم شری اور۲۰۱۳ءمیں پدم بھوشن سے نوازا تھا۔ انہیں ۱۹۹۸ءمیں رائل سوسائٹی کا فیلو بھی منتخب کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: رام کدم کے پاس آڈیو کلپ کی تاریخ کہاں سے آئی؟: منوج جرنگے

اسٹاک ہوم یونیورسٹی میں خصوصی لیکچر
آسکر کلین میڈل کے سلسلے میں اشوک سین نے۲۲؍اکتوبر۲۰۲۶ءکو اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے البانووا سینٹر میں خصوصی یادگاری لیکچر دیا۔ اس لیکچر کا عنوان ’’گریویٹی فرام اسٹرنگز اینڈ اسٹرنگز فرام گریویٹی‘‘ (Gravity from Strings and Strings from Gravity) تھا۔ اس کا موضوع اسٹرنگ تھیوری اور کششِ ثقل کے درمیان تعلق کی وضاحت سے متعلق ہے۔ آئی سی ٹی ایس کے ڈائریکٹر راجیش گوپال کرشنا نے اشوک سین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ادارے کیلئے یہ خوشی کی بات ہے کہ پروفیسر سین اس کے ساتھ وابستہ ہیں اور انہوں نے یہاں علمی معیار اور تحقیق میں عمدگی کی روایت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اشوک سین کو آسکر کلین میڈل ملنا نہ صرف ان کی کئی دہائیوں پر محیط سائنسی تحقیق کا اعتراف ہے بلکہ عالمی نظریاتی طبیعیات میں بھارتی سائنس دانوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK