Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’نیٹ پیپر لیک کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں‘‘

Updated: June 27, 2026, 9:58 AM IST | Z. A. Khan | Nanded

این سی پی (شرد) رکن اسمبلی روہت پوار کا مطالبہ، حکومت کو پیپر لیک معاملے میں عہدیداروں کی ذمہ داری طے کرنے کی تلقین۔

Rohit Pawar, during a press conference. Photo: INN
روہت پوار، پریس کانفرنس کے دوران۔ تصویر: آئی این این

این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے اپنے ناندیڑ دورے کے موقع پرایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سال ۲۰۲۴ء بھی نیٹ کا پرچہ لیک ہوا تھا، اس کے باوجود متعلقہ محکمے کے ذمہ دار اعلیٰ افسر کو سزا دینے کے بجائے بی جے پی کےاقتدار والی ریاست کا چیف سیکریٹری بنا کر ترقی دے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے متعلقہ محکمے کے افسران کے حوصلے بلند ہوئے اور ۲۰۲۶ء میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر پرچہ لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’نوجوانوں میں اتنی سفاکی کہاں سے آرہی ہے؟‘‘

روہت پوار نے مطالبہ کیا کہ نیٹ پرچہ لیک معاملے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ اس کے علاوہ اس معاملے سے ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو حکومت فوری مالی اور دیگر ضروری امداد فراہم کرے۔یاد رہے کہ روہت پوار لگاتار  اس وقت بی جے پی حکومت اور مہایوتی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ اس  سے پہلے بھی نیٹ پیپر لیک معاملے میںاحتجاج کر چکے ہیں۔ انہوں نے نیٹ امتحان معاملے میں اعلیٰ عہدیداروں کی ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نوجوان رکن اسمبلی نے کہا کہ اگر نیٹ پیپر لیک معاملے میں خاطیوں کو سزا نہیں ہوئی اور طلبہ کو مزید پریشانیوں کا سامناکرنا پڑا تو وہ اور ان کے کارکنان حکومت کے خلاف سڑکوں پر اترنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اکولہ میں اردو ہائی اسکول کے صدر مدرس کی خود کشی سے سنسنی

اس دوران انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت جدوجہد کا ہے اور عوام کے مسائل کیلئے مضبوط موقف اختیار کرنا ضروری ہے، تاہم بعض لوگوں کو عوام سے زیادہ اقتدار عزیز ہے۔ روہت پوار نے کہا کہ اجیت پوار کے حادثے کے معاملے کی پیروی وہ خود بھی کر رہے ہیں اور اجیت پوار گروپ کے بعض لیڈران بھی اس سلسلے میں سرگرم ہیں۔  البتہ اس معاملے میں صحافیوں کا تعاون انتہائی اہم رہا ہے۔ان کے بقول تمام سرکاری افسران ایک جیسے نہیں ہوتے، بعض ذمہ دار افسران نے بھی مکمل تعاون کیا، جس کی بدولت معاملہ یہاں تک پہنچ سکا۔روہت پوار نے کہا کہ اجیت پوار کی موت کے معاملے میں وہ اس وقت تک آواز اٹھائیں گے جب تک کہ اس تعلق سے تسلی بخش جوابات نہیں مل جاتے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK