• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی سطح پر جیفری آرچر کی آخری کتاب کی دھوم، ۳۰؍ کروڑ کاپیاں فروخت

Updated: October 13, 2026, 11:01 AM IST | London

برطانوی مصنف جیفری آرچر کی آخری ناول ’’ایڈم اینڈ ایو‘‘ کی اشاعت کے ساتھ ان کی عالمی مقبولیت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مصنف کی کتابوں کی دنیا بھر میں ۳۰؍ کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔

Cover page of Jeffrey Archer`s book. Photo: INN
جیفری آرچر کی کتاب کا سرورق۔ تصویر: آئی این این

دنیا بھر میں سنسنی خیز کہانیوں، غیر متوقع موڑ اور دلچسپ کرداروں کے لیے مشہور برطانوی مصنف جیفری آرچر کی آخری ناول ’’ایڈم اینڈ ایو‘‘ ان کی ادبی زندگی کے اختتام کے ساتھ قارئین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ آرچر کی کتابوں کی عالمی سطح پر ۳۰؍ کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور ان کی تحریریں ۱۱۹؍ ممالک میں قارئین تک پہنچی ہیں۔ ان کا آخری ناول ۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو شائع ہوئی، جب کہ مصنف ۵؍ اکتوبر کو ۸۶؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ اس غیر معمولی اتفاق نے کتاب کی اشاعت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ برطانیہ میں کتاب کی مقبولیت کا ایک نمایاں اشارہ ایپل بکس کے چارٹ سے ملتا ہے۔ دستیاب چارٹ میں ’’ایڈم اینڈ ایو‘‘ افسانوی آڈیو بُکس کی فہرست میں پہلے مقام پر درج ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی کتاب ڈاؤن لوڈ فہرست میں اس کے چوتھے مقام پر پہنچنے کی اطلاع بھی دی گئی تھی۔ یہ دونوں پوزیشنیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ کتاب نے قارئین اور آڈیو بُک سننے والوں کی توجہ حاصل کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران کے درمیان بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ جاری؛ ایران امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے

آرچر کی مقبولیت کا ہندوستانی پہلو بھی خاصا اہم ہے۔ ہندوستان میں ان کی کتابوں کی اشاعت اور فروخت کے تعلق سے ہارپر کولنز کے ایک نمائندے نے بتایا تھا کہ مصنف کی نئی کتابیں عموماً ابتدائی چند ماہ میں ۵۰؍ سے ۶۰؍ ہزار کاپیوں تک فروخت ہوتی رہی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہندوستانی بازار میں آرچر کی دیرینہ مقبولیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ نئی دہلی کے کتاب بازار سے ملنے والی اطلاعات بھی اس کتاب کے لیے دلچسپی کا ایک ابتدائی منظر پیش کرتی ہیں۔ انڈیا ٹوڈے کی ۶؍  اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، مڈلینڈ بک شاپ کو ہارپر کولنز کی جانب سے ابتدائی طور پر ۷۲؍ کاپیاں موصول ہوئی تھیں، جب کہ اسی شام تقریباً ۲۵۰؍ مزید کاپیاں پہنچنے کی توقع تھی۔ ان میں سے ۶۰؍  کاپیاں آن لائن پیشگی آرڈر کرنے والے قارئین کے لیے مختص تھیں۔ اس طرح ابتدائی اور متوقع سپلائی ملا کر تقریباً ۳۲۲؍ کاپیوں کا ذکر سامنے آیا، مگر یہ تعداد فروخت شدہ کتابوں کی نہیں بلکہ دکان کو موصول ہونے والی اور متوقع کتابوں کی تھی۔

’’ایڈم اینڈ ایو‘‘ کی کہانی پہلی عالمی جنگ کے اختتام کے دن سے شروع ہوتی ہے۔ ۱۱؍ نومبر ۱۹۱۸ء کو دو بچے پیدا ہوتے ہیں، جن کا تعلق معاشرے کے دو بالکل مختلف طبقوں سے ہے۔ ایو ایک ارل کی بیٹی ہے، جب کہ ایڈم ایک چرواہے کا بیٹا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے اور ان کی زندگی دوسری عالمی جنگ کے اہم واقعات سے جڑ جاتی ہے۔ ناول میں ستمبر ۱۹۴۰ء کے اس تاریخی مرحلے کو تخیلاتی انداز میں پیش کیا گیا ہے جب ایڈولف ہٹلر برطانیہ پر حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ کہانی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اگر اس وقت تاریخ کا رخ بدل جاتا تو جنگ اور برطانیہ کا مستقبل کس طرح مختلف ہو سکتا تھا۔ جیفری آرچر نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا تھا کہ اس ناول کا بنیادی خیال ۱۹۴۰ء میں ہٹلر کی ایک تقریر اور اس کے جواب میں ونسٹن چرچل کی تقریر کے مطالعے سے پیدا ہوا۔ انہوں نے ناول لکھنے سے پہلے اس دور کی تاریخ پر مزید تحقیق کی اور دو مؤرخین سے مشورہ بھی کیا۔ یوں یہ کتاب محض ایک محبت کی کہانی نہیں بلکہ طبقاتی فرق، جنگ، قربانی اور تاریخی امکانات کو ایک ساتھ پیش کرنے کی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام برائے معاشیات ۲۰۲۶ء کا اعلان، رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ فاتح

آرچر نے پانچ دہائیوں پر محیط اپنے ادبی سفر میں ناولوں، مختصر کہانیوں اور دیگر تحریروں کے ذریعے ایک وسیع قارئین حلقہ بنایا۔ ان کی معروف تصانیف میں ’’کین اینڈ ایبل‘‘، ’’دی کلِفٹن کرانیکلز‘‘ اور ’’ولیم واروک‘‘ سلسلے کی کتابیں شامل ہیں۔ ان کی عالمی فروخت ۳۰؍ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جب کہ ان کی کتابیں ۱۱۹؍ ممالک میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ ان کے آخری ناول کی اشاعت کے موقع پر یہی طویل ادبی ورثہ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے، لیکن ’’ایڈم اینڈ ایو‘‘ کی اپنی تجارتی کامیابی کا حتمی فیصلہ مصدقہ فروخت کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK