اسرائیل نے مفتی اعظم شیخ محمد حسین کو جمعہ کی نماز کے بعد حراست میں لیا اور ایک ہفتے کیلئےمسجد اقصیٰ میں جانے پر روک لگا دی۔
EPAPER
Updated: July 11, 2026, 3:08 PM IST | Jerusalem
اسرائیل نے مفتی اعظم شیخ محمد حسین کو جمعہ کی نماز کے بعد حراست میں لیا اور ایک ہفتے کیلئےمسجد اقصیٰ میں جانے پر روک لگا دی۔
یروشلم گورنریٹ کے مطابق،جمعہ کی نماز کے بعد حراست میں لے کر یروشلم کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ایک ہفتے کے لیے داخلے سے روک دیا۔گورنریٹ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسیز نے شیخ حسین کو اس وقت حراست میں لیا جب انہوں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ میں جمعہ کا خطبہ دیا اور نماز پڑھائی۔اس میں کہا گیا کہ حکام نے بعد میں مفتی صاحب کو ایک ہفتے کے لیے مسجد کے احاطے میں داخلے پر پابندی کا حکم جاری کرنے کے بعد رہا کر دیا۔ تاہم اسرائیلی پولیس کی طرف سے فوری کوئی تبصرہ نہیں آیا۔
ذہن نشین رہے کہ اسرائیلی حکام نے گزشتہ برسوں میں بھی مسجد اقصیٰ کے خطیبوں کے خلاف ایسی ہی پابندیاں عائد کی ہیں۔جمعہ کو قبل از وقت، دسیوں ہزار فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں جمعہ کی نماز ادا کی۔یہ تازہ اقدام اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے کے دوران سامنے آیا ہے۔ بعد ازاں فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور کی اتوار کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فورسیز نے جون کے مہینے میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ۲۶؍ بار دھاوابولا۔وزارت کے مطابق، غیر قانونی یہودی آباد کار اسرائیلی فورسیزکی حفاظت میں صبح و شام کے وزٹ اوقات میں مغربی دروازے (مغربی دیوار کے قریب) کے راستے مسجد کے احاطے میں داخل ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: محمود عباس نے۲۰؍ سال بعد پہلے فلسطینی قانون ساز انتخابات کی تاریخ مقرر کی
واضح رہے کہ اسرائیل نے مسلمانوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کو محدود کرنے کیلئے متعدد پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج غیر قانونی یہودی آبادکاروں کے جبراً داخلے کی پشت پناہی کرتی ہے، اس کے علاوہ امام مسجد کو اس سے قبل بھی مسجد میں داخلے سے روکا جا چکا ہے۔