فلسطینی صدر محمودعباس بے ۲۰؍ سال سے زائد عرصے کے بعد ۲۸؍ نومبر کی تاریخ مقرر کردی، صدارتی فرمان کے مطابق جنوری۲۰۰۰۶ء کے بعد پہلے قانون ساز انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا؛ صدارتی ووٹ قانون کے مطابق بعد میں ہوگا۔
EPAPER
Updated: July 10, 2026, 3:45 PM IST | Jerusalem
فلسطینی صدر محمودعباس بے ۲۰؍ سال سے زائد عرصے کے بعد ۲۸؍ نومبر کی تاریخ مقرر کردی، صدارتی فرمان کے مطابق جنوری۲۰۰۰۶ء کے بعد پہلے قانون ساز انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا؛ صدارتی ووٹ قانون کے مطابق بعد میں ہوگا۔
سرکاری نیوز ایجنسی وفا نے جمعرات کو بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک صدارتی فرمان جاری کیا جس میں۲۸ء نومبر کو قانون ساز انتخابات کی تاریخ مقرر کی گئی۔اس فرمان میں یروشلم، مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی قانون ساز کونسل کے اراکین کے انتخاب کے لیے آزاد اور براہ راست قانون ساز انتخابات میں حصہ لیں۔یہ فرمان عام انتخابات سے متعلق۲۰۰۷ء کے فرمان-قانون نمبرایک اور اس میں ترامیم کے تحت جاری کیا گیا، اور یہ جنوری ۲۰۰۶ءکے بعد پہلا قانون ساز انتخاب ہے۔
عباس نے کہا کہ صدارتی انتخابات کی تاریخ، جو پہلی سہ ماہی کے لیے منصوبہ بند ہیں، قانون کے مطابق اعلان کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ عباس، جو جنوری۲۰۰۵ء میں اقتدار میں آنے کے بعد ۲۱؍ سال سے برسرِ اقتدار ہیں، حالانکہ وہ چار سال کی مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے لیکن بعد میں صدارتی اور قانون ساز انتخابات بار بار ملتوی ہونے کی وجہ سے وہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔