• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہشت گرد اب نوجوانوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کے لئے گیمنگ پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں: یواین

Updated: September 14, 2026, 3:06 PM IST | Agency | New York

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹوریٹ کی ایک تازہ ترین ٹرینڈز رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ دہشت گرد گروہ اب نوجوانوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کیلئے گیمنگ پلیٹ فارمز، انتہائی پُرتشددمشمولات اور منفی آن لائن ذیلی ثقافت کا سہارا لے رہے ہیں۔

Gaming platforms prove dangerous for youth and children. Photo: INN
نوجوانوں اوربچوں کیلئے گیمنگ پلیٹ فارمزخطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹوریٹ کی ایک تازہ ترین ٹرینڈز رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ دہشت گرد گروہ اب نوجوانوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کیلئے گیمنگ پلیٹ فارمز، انتہائی پُرتشددمشمولات اور منفی آن لائن ذیلی ثقافت کا سہارا لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نائن الیون کو مسلمانوں کیخلاف نفرت کیلئے استعمال نہ کریں: متاثرہ کے بیٹے کی اپیل

’بیونڈ میسجنگ: ٹیررسٹ پروپیگنڈا ایز آپریشنل انفراسٹرکچر‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں بھرتی، انتہا پسندی پھیلانے، فنڈنگ جمع کرنے، عملی منصوبہ بندی اور یہاں تک کہ اپنے زیر اثر علاقوں میں حکومت سے متعلق سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کیلئے گمراہ کن پروپیگنڈے کا استعمال کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہ اس پروپیگنڈے کا استعمال صرف ایک مواصلاتی ذریعے کے طور پر نہیں  بلکہ اپنی مہمات کے اہم بنیادی ڈھانچے کے طور پر کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد نئی نسل کو متاثر کرنے کیلئے گیمنگ پلیٹ فارمز کے علاوہ  آن لائن ایکو سسٹم میں پُرتشدد انتہا پسندانہ نظریات کے بڑھتے ہوئے ہم آہنگی اور ٹیکنالوجی پر مبنی صنفی تشدد اور خواتین مخالف آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال کو بھی تشویش کا باعث بنا رہے ہیں۔ خاص طور پر افریقہ، وسطی اور جنوبی ایشیا میں متحرک دہشت گرد گروہ مقامی شکایات سے فائدہ اٹھانے اور رقم اکٹھا کرنے کیلئے پروپیگنڈے کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: اسپیکر حافظ کا معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ پرگمشدگیوں اور قتل کا الزام

ڈائریکٹوریٹ نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی تیز رفتاری سے بدلتی ہوئی حکمت عملیوں اور رکن ممالک، قانونی ڈھانچوں نیز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ردِعمل کی صلاحیت کے درمیان ایک بڑا ’فرق‘ پیدا ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دہشت گردی مخالف اقدامات کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے دائرے میں رکھتے ہوئے  پروپیگنڈے کو صرف مشمولات نہ سمجھ کر دہشت گردی کے اہم محرک کے طور پر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK