جیو نے صفر سے آغاز کیا اور جون ۲۰۲۶ء تک اس کے صارفین کی تعداد ۵ء۷۹؍ کروڑ تک پہنچ گئی۔ پہلے ماہ میں ۱۵ء۵؍ لاکھ صارفین سے شروع ہونے والا جیو کا صارفین کا دائرہ تقریباً ۴۵؍ فیصد کی سالانہ مرکب شرحِ نمو سے بڑھااو ردوسرے نمبر پر پہنچنے کیلئے دو سال سے بھی کم وقت لیا۔ سستا ڈیٹا، مفت آؤٹ گوئنگ کالز اور براہِ راست فور جی نیٹ ورک کے ساتھ آمد نے ٹیلی کام مارکیٹ کی پرانی روایت کو بدل دیا۔
l جیو دو سال سے بھی کم عرصے میں دوسرے اور چار سال سے بھی کم عرصے میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا۔
ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں جیو ایک نئے آپریٹر سے مارکیٹ لیڈر بن چکا ہے۔ تصویر: آئی این این
دس سال قبل، ستمبر ۲۰۱۶ء میں ریلائنس جیو نے ممبئی اور مہاراشٹر کی ٹیلی کام صنعت میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز کرتے ہوئے مارکیٹ میں قدم رکھا تھا۔ صفر (زیرو) صارفین سے ابتداء کرنے والے جیو نے پہلے ہی ماہ دونوں سرکل میں تقریباً ۵ء۱۵؍ لاکھ صارفین جوڑ لئے۔ جون ۲۰۲۶ء تک اس کے صارفین کی تعداد بڑھ کر ۵ء۷۹؍ کروڑ ہو گئی۔ستمبر ۲۰۱۶ء میں رپورٹ کئے گئے ۵ء۱۵؍ لاکھ صارفین سے جون ۲۰۲۶ء میں ۷۹ء۵؍ کروڑ تک پہنچنے کے دوران جیو کے صارفین کی تعداد میں تقریباً ۴۵؍ فیصد کی سالانہ مرکب شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی۔ اب ممبئی اور مہاراشٹر کے مشترکہ وائرلیس صارفین کی مارکیٹ میں جیو کی حصہ داری تقریباً ۴۰؍ فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مرکز نے غیر قانونی لون ایپس سمیت ۳۷۱۸؍ موبائل ایپس بلاک کر دیں
موبائل فون کی معاشیات کیسے بدلی؟
جیو نے مارکیٹ میں براہِ راست فور جی اور آل آئی پی نیٹ ورک کے ساتھ قدم رکھا۔ سستے ڈیٹا اور مفت آؤٹ گوئنگ کالز نے اس وقت کے رائج ٹیرف ڈھانچے کو چیلنج کیا اور موبائل فون کے استعمال کی معاشیات ہی بدل دی۔ اس کے 4G VoLTE پر مبنی نیٹ ورک اور مفت کالنگ نے صارفین کیلئے موبائل خدمات کی لاگت میں نمایاں کمی کی۔
پوری مارکیٹ سے جیو کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی آمد سے قبل اگست ۲۰۱۶ء میں ممبئی اور مہاراشٹر میں تمام موجودہ ٹیلی کام کمپنیوں کے مجموعی طور پر تقریباً ۵۲ء۱۱؍ کروڑ وائرلیس صارفین تھے۔ جون ۲۶ء تک مجموعی مارکیٹ بڑھ کر تقریباً ۴۷ء۱۴؍ کروڑ صارفین تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹاٹا ٹرسٹ نے ٹاٹا سنز کے اگلے چیئرمین کی تلاش شروع کردی
دیگر آپریٹروں سے موازنہ
ان میں جیو کے ۷۹ء۵؍ کروڑ کنکشن تھے۔ دیگر تمام آپریٹروں کے مشترکہ صارفین کی تعداد تقریباً ۶۷ء۸؍ کروڑ رہ گئی، جو جیو کی آمد سے قبل ۵۲ء۱۱؍ کروڑ تھی۔ یعنی اس دوران تقریباً ۲ء۸۴؍ کروڑ صارفین کی کمی ہوئی، جو تقریباً ۲۵؍ فیصد ہے۔ دیگر آپریٹروں کے صارفین نے بڑی تعداد میں جیو کا رُخ کیا۔ اس کی بڑی وجوہات میں ممبئی اور مہاراشٹر میں جیو کی وسیع نیٹ ورک کی موجودگی، مضبوط فورجی کوریج اور سستے ٹیرف شامل تھے۔ اس کے نتیجے میں دیگر آپریٹروں کے مشترکہ صارفین کی تعداد کم ہونے کے باوجود جیو نے تیزی سے مارکیٹ میں اپنی حصہ داری بڑھائی۔ جیو کی آمد کے بعد مسابقت میں تیزی آئی اور مارکیٹ کا ڈھانچہ بھی تیزی سے تبدیل ہوا۔ کچھ کمپنیاں آپس میں ضم ہوئیں، جبکہ کئی پرانی ٹیلی کام کمپنیاں مارکیٹ سے نکل گئیں۔ بڑے موجودہ آپریٹروں میں ایئرٹیل نے اس عرصے میں اپنے صارفین کی تعداد میں اضافہ کیا جبکہ ووڈافون آئیڈیا اور بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کے صارفین کی تعداد میں کمی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: اے بی انٹرپرائز،جائیکاآرگینکس اور نارائنی فوڈز کے لائسنس معطل کر دیے گئے
چار سال سے بھی کم عرصے میں پہلے نمبر پر
جیو نے ممبئی اور مہاراشٹر کی مشترکہ مارکیٹ میں دوسرے نمبر پر پہنچنے کیلئے دو سال سے بھی کم وقت لیا۔ ستمبر ۱۶ء میں لانچ ہونے کے بعد اپریل ۱۸ء میں اس نے ایئرٹیل کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔جولائی ۲۰ء میں ووڈافون آئیڈیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جیو سب سے بڑا آپریٹر بن گیا۔ اس طرح لانچ کے چار سال مکمل ہونے سے پہلے ہی جیو پہلے نمبر پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد سے اس نے اپنی برتری برقرار رکھی ہے۔
جیو کی ترقی صرف ممبئی اور مہاراشٹر تک محدود نہیں رہی۔ جون ۲۶ء تک ملک بھر میں اس کے صارفین کی تعداد ۵۳ء۳۳؍ کروڑ ہو چکی تھی جن میں ۲۸ء۵؍ کروڑ فائیو جی صارفین شامل تھے۔ اس کے نیٹ ورک پر فی صارف ماہانہ ڈیٹا استعمال بڑھ کر ۴۳ء۷؍ جی بی ہو چکا تھا۔
۱۰؍ سال بعد کا منظرنامہ:
دس سال بعد ٹیلی کام شعبے میں مسابقت اب صرف صارفین کی تعداد تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیٹا کے استعمال، نیٹ ورک کی گنجائش اور فائیو جی کو اپنانے کی رفتار بھی اس کے اہم پیمانے بن چکے ہیں۔
ممبئی اور مہاراشٹر میں جیو کا سفر اس تبدیلی کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ ۱۶ء میں صفر صارفین سے آغاز کرنے والا جیو آج ۵ء۷۹؍ کروڑ صارفین اور تقریباً ۴۰؍ فیصد مارکیٹ حصہ داری تک پہنچ چکا ہے، جبکہ دیگر تمام آپریٹروں کے مشترکہ صارفین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں جیو ایک نئے آپریٹر سے مارکیٹ لیڈر بن چکا ہے۔