ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں سماجی کارکن کی عرضداشت، اراکین اسمبلی پر خرچ ہونے والی رقم پر روک لگانے کی اپیل۔
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 3:27 PM IST | Agency | Nagpur
ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں سماجی کارکن کی عرضداشت، اراکین اسمبلی پر خرچ ہونے والی رقم پر روک لگانے کی اپیل۔
اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی پر حکومت کی جانب سے خاصی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ ان پر خرچ ہونے والے فنڈ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص صرف ایک دن کیلئے بھی رکن اسمبلی رہتا ہے تو اسے تاحیات ۵۰؍ ہزارروپے ماہانہ پنشن ملتی ہے۔ اب اسے بمبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں براہ راست چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق اراکین اسمبلی کو بغیر کسی خدمت یا کم سے کم خدمت کیلئے تاحیات پنشن فراہم کرنے کا یہ التزام غیر آئینی ہے ، ساتھ ہی حق مساوات کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگائوں میں آدھی رات کو پولیس کی مسجد میں تلاشی
فی الحال اس پنشن کی مد میں ریاستی حکومت کے خزانے سے ہر سال ۸۲؍ کروڑ ۹۸؍ روپے ضائع ہو رہے ہیں۔ چارودت ونایک شاہ جے کی داخل کردہ عرضداشت پر جسٹس انل کلور اور جسٹس رجنیش ویاس کی بنچ نے سماعت کی اور اگلی سماعت ۲۳؍ ستمبر کو مقرر کی ہے۔ پوری ریاست کی توجہ اس طرف لگی ہوئی ہے کہ سابق اراکین اسمبلی کی پنشن کے بارے میں ہائی کورٹ کیا فیصلہ کرے گی۔مہاراشٹر لیجسلیٹو اسمبلی ممبرس پنشن ایکٹ ۱۹۷۶ء کی متنازع دفعات کے خلاف ناگپور بنچ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے اور سابق ایم ایل اے کی پنشن اسکیم پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے استدلال کیا ہے کہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد کم از کم سروس کی مدت کے بغیر ۵۰؍ ہزار روپے ماہانہ پنشن فراہم کرنا معقول نہیں ہے۔عرضی گزاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ مہاراشٹر لیجسلیٹو اسمبلی ممبرز پنشن ایکٹ ۱۹۷۶ء کی دفعہ ۳؍(۱) غیر آئینی ہے اور برابری کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ درخواست میںکہاگیا ہے کہ ۲؍ ایسے لوگوں کو ایک ہی پنشن فراہم کرنا درست نہیں ہے جس میں سے ایک صرف ایک دن کیلئے رکن اسمبلی رہا ہو اور دوسرے نے ۵؍ سال کی مدت پوری کی ہو۔ ۵؍ سال سے زیادہ کی ہر اضافی سال کی خدمت کیلئے، ۲؍ ہزار روپے کی اضافی ماہانہ پنشن فراہم کی جاتی ہے، لیکن پنشن حاصل کرنے کیلئے کوئی کم از کم سروس کی مدت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی مصنوعات کو عالمی سطح پر لے جانے کی اپیل
واضح رہے کہ اس وقت ریاست میں ۶۳۰؍ سابق اراکین اسمبلی کو ۳؍ کروڑ۶۹؍ لاکھ ۹۰؍ ہزار روپے کی پنشن دی جاتی ہے، جبکہ ۱۴۴؍ سابق ایم ایل سی کو ۸۳؍ لاکھ ۲۳؍ ہزار روپے کی پنشن دی جاتی ہے۔ ۵۹۶؍ مستحقین کو ۲؍ کروڑ ۳۸؍ لاکھ ۴۰؍ ہزار روپے کی فیملی پنشن دی جاتی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پنشن پر حکومت کے سالانہ کل ۸۲؍ کروڑ ۹۸؍ لاکھ ۳۶؍ ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔