Inquilab Logo Happiest Places to Work

مظاہرین کے خلاف درج کیس واپس لینے کا حکم جاری

Updated: August 14, 2026, 3:18 PM IST | Agency | Mumbai

ریاستی محکمہ داخلہ نے جی آر جاری کیا، طلبہ اور مظاہرین کو بڑی راحت۔

A major success for students. Picture: INN
طلبہ کیلئے بڑی کامیابی۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر حکومت نے نیٹ  پیپر لیک کے خلاف احتجاج میں شامل طلبہ اور مظاہرین کے خلاف درج معاملات واپس لینے کے عمل کو منظوری دیدی ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں ایک سرکاری قرارداد (جی آر) جاری کیا ہے محکمہ داخلہ کے ذرائع نے اس کی اطلاع دی۔ بدھ کی شام جاری کردہ جی آر کے مطابق، ایسے مقدمات واپس لینے کی آخری تاریخ، جو پہلے ۳۱؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو مقرر کی گئی تھی اس میں، ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۷ءتک توسیع کر دی گئی ہےجن میں سیاسی احتجاج سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں جن میں اس مدت تک چارج شیٹ داخل کی جانی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ممی شدہ انسانی باقیات سے خطرناک پھپھوندی پھیلنے کا خدشہ، سائنس دانوں کا انتباہ

نیٹ  پیپر لیک ہونے کے خلاف مہاراشٹر کے کئی حصوں بالخصوص ممبئی میں ہزاروں طلبہ نے احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران، جو ۱۸؍ جولائی سے لگاتار ۷؍ دن تک جاری رہے، ممبئی پولیس نے غیر قانونی اجتماع اور امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کے الزام میں ۱۶؍ ایف آئی آر درج کیں۔ ان معاملات میں ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ ۱۸۹؍(۲)اور مہاراشٹر پولیس ایکٹ کی دفعہ ۳۷؍(۱)، ۳۷؍(۳) اور ۱۳۵؍ کے تحت کارروائی کی گئی۔ ممبئی کے علاوہ ناگپور، ناندیڑ اور پونے میں بھی احتجاج کئے گئے تھے۔ قانون کے مطابق تفتیش مکمل کرنے کے بعد پولیس عدالت میں چارج شیٹ داخل کرے گی ۔ اس کے بعد ہی حکومت مقدمات کی واپسی کیلئے آگے بڑھ سکتی ہے۔ چارج شیٹ کی عدم موجودگی میں پولیس کی طرف سے عدالت میں کلوزر رپورٹ جمع کروانے کے بعد واپسی کا عمل بھی شروع ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوئزرلینڈ: خشک سالی کے دوران پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہوگئی

ریاست کے محکمہ داخلہ نے مہاراشٹرا بالخصوص ممبئی میں ان مظاہروں کے دوران درج مقدمات کی تفصیلات جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے حال ہی میں محکمہ داخلہ کی ایڈیشنل چیف سیکریٹری منیشا مہسکر کو مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔حکومت کے اس فیصلے سے نیٹ  پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور مظاہرین کو اہم راحت ملنے کی امید ہے۔ یاد رہے کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی میں اپنا احتجاج ختم کرنے کیلئے جو شرائط رکھی تھیں ان میں مظاہرین پر کیس واپس لینے کی شرط بھی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK