Updated: August 14, 2026, 3:03 PM IST
| London
سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ممی شدہ انسانی اور حیوانی باقیات کی خرید و فروخت اور انہیں غیر محفوظ طریقے سے سنبھالنے سے خطرناک پھپھوندی اور جراثیم انسانوں میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف اسٹافورڈ شائر کی تحقیق میں آن لائن فروخت کی جانے والی ممی شدہ باقیات کا جائزہ لینے کے بعد صحت اور حیاتیاتی تحفظ سے متعلق سنگین خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ممی شدہ انسانی باقیات کو چھونے اور سنبھالنے سے پھپھوندی کے انسانوں میں منتقل ہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے، جو صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یونیورسٹی آف اسٹافورڈ شائر کے سائنس دانوں کی ایک تحقیق کے مطابق ممی شدہ انسانی اور حیوانی باقیات پر موجود جراثیمی افزائش ان افراد تک منتقل ہوسکتی ہے جو ان باقیات کو سنبھالتے ہیں یا انہیں خریدتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسی ممی شدہ باقیات، جن میں ہاتھ اور پاؤں بھی شامل ہیں، خرید رہے ہیں۔ محققین نے آن لائن شائع کی گئی ۱۲۸؍ پوسٹس اور نیلامی کی فہرستوں کا جائزہ لیا اور پایا کہ ان میں سے بہت کم میں باقیات کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے سے متعلق رہنما اصول فراہم کئے گئے تھے۔ یہ آن لائن فہرستیں ڈاک کے ذریعے اشیاء بھیجنے سے متعلق ضوابط کی بھی پابندی نہیں کر رہی تھیں، جس کے باعث باقیات کی ترسیل کے عمل میں شامل تمام افراد، بشمول ڈیلیوری ورکرز اور کسٹمز حکام، کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ مختلف درجے میں محفوظ انسانی ہاتھ، پاؤں اور سر بھی ان فہرستوں میں فروخت کیلئے پیش کئے گئے تھے۔ بعض پوسٹس میں لوگوں کو ممی شدہ انسانی باقیات کو بغیر دستانے کے چھوتے اور سنبھالتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: سوئزرلینڈ: خشک سالی کے دوران پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہو گئی
اگر ممی شدہ باقیات کو مناسب طریقے سے پیک اور محفوظ نہ کیا جائے تو حیاتیاتی زوال(Biodeterioration) اور پھپھوندی کی افزائش تیز ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں پھپھوندی کے ذرات ہوا میں پھیل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لاشوں کو محفوظ رکھنے کے عمل میں استعمال ہونے والے بعض کیمیائی مادے انتہائی زہریلے ہوسکتے ہیں، جن میں آرسینک، پارہ اور سیسہ شامل ہیں۔
جب ممیوں کی پھپھوندی سے انسانوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایسپرجیلس (Aspergillus) نامی پھپھوندی کے ذرات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ۱۹۷۰ء کی دہائی میں کراکوف میں بادشاہ کازیمیر چہارم جاگیلون کے مقبرے کو کھولنے والے ۱۲؍ ماہرینِ تحفظ میں سے ۱۰؍ کی موت کا سبب بنے۔ اسی طرح یہ بھی امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ لارڈ کارناروَن کی موت کی وجہ ایسپرجیلاسس تھی، کیونکہ مبینہ طور پر انہوں نے توتن خامن کے مقبرے میں موجود پھپھوندی کے ذرات سانس کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کرلئے تھے۔
یونیورسٹی آف اسٹافورڈ شائر میں انسانی حیاتیاتی آثارِ قدیمہ کی پروفیسر اور تحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹر کرسٹی اسکوائرز نے کہا، ’’انٹرنیٹ، بالخصوص سوشل میڈیا کے فروغ نے بین الاقوامی سطح پر ایسی اشیا کی غیر قانونی تجارت کو بڑھایا ہے اور منفرد ثقافتی ورثے، بشمول ممی شدہ انسانوں اور جانوروں، کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔‘‘ سائنس دانوں نے کہا کہ اگرچہ پھپھوندی کی افزائش بظاہر دکھائی نہ دے اور سطح پر شدید حیاتیاتی زوال بھی ہمیشہ موجود نہ ہو، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقیات میں جراثیم موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جراثیمی افزائش ہمیشہ آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی۔ ڈاکٹر اسکوائرز نے کہا، ’’ان محفوظ شدہ باقیات میں صحت اور حیاتیاتی تحفظ سے متعلق خطرات موجود ہیں، کیونکہ انہیں محفوظ کرنے کیلئے استعمال کئے جانے والے کیمیائی طریقے زہریلے ہوسکتے ہیں اور نامناسب طریقے سے ذخیرہ کئے جانے کی صورت میں جراثیمی افزائش کو فروغ مل سکتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایکواڈور: فٹبالر ہالینڈ کی تصویر والے ۴۶۹؍ کوکین کے پیکٹ ضبط، خاتون گرفتار
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ آن لائن فروخت ہونے والی ممی شدہ باقیات میں ’’حیاتیاتی زوال‘‘ کی علامات پائی جاتی ہیں، تاہم ’’فروخت کنندگان کی جانب سے کوئی حفاظتی رہنمائی فراہم نہیں کی جاتی، جو خطرات سے متعلق محدود آگاہی یا جان بوجھ کر انہیں نظرانداز کئے جانے کی نشاندہی کرتی ہے۔‘‘ اسکوائرز نے کہا کہ ممی شدہ باقیات کو صحت اور حفاظتی مضمرات پر مناسب غور کئے بغیر دنیا کے مختلف حصوں میں بھیجا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شپنگ اور ترسیل سے متعلق پالیسیوں میں مزید واضح اور نمایاں رہنما اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خریدار اور فروخت کنندگان ضوابط کی غلط تشریح نہ کرسکیں اور نہ ہی ان میں موجود خامیوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔