اے ٹی ایس اورکرائم برانچ کی ٹیموں نے آس پاس کے مکانات میں بھی چھان بین کی، مگر یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس چیز کی تلاش ہے۔
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 3:12 PM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon
اے ٹی ایس اورکرائم برانچ کی ٹیموں نے آس پاس کے مکانات میں بھی چھان بین کی، مگر یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس چیز کی تلاش ہے۔
صنعتی شہر مالیگائوں میںواقع ایک مسجد اور اس کے اطراف میں کئی مکانات کی پولیس کے ذریعے تلاشی لی گئی۔اس واقعہ سے مالیگاؤں میں سنسنی اور استعجاب کا عالم ہے۔ اِس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا۔پولیس نے باضابطہ بیان جاری کرکے تلاشی کے عمل سے متعلق معلومات یا موقف ظاہر نہیںکیاالبتہ پولیس افسران یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ معمول کے مطابق کی کارروائی ہے۔ یومِ آزادی قریب ہے اور پولیس کے پاس خفیہ اطلاعات کا ذخیرہ ہے۔واضح رہے کہ تلاشی کے عمل میںمقامی پولیس کےعلاوہ ناسک کرائم برانچ یونٹ اور اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈبھی شامل رہا۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی الیکشن : خواتین کو ’’بڑی رشوت ‘‘ دینے کی تیاری ، ۵۰؍ ہزار دئیے جاسکتے ہیں!
مالیگاؤں کے اسلام پورہ وارڈمیں محلّہ برکت پورہ کی مسجد اہل سنّت خانقاہ برکتیہ نقش بندیہ میں۱۳؍مئی کی رات دیر گئے (دو سے تین بجےکےدرمیان) پولیس اہلکاروں کےکئی دستے داخل ہوئے۔ مسجد میں جانےسے قبل اہلکاروں نے اہل محلّہ اور ذمے دار افرادکوجائے مقام پر طلب کیا۔جُوتے اُتارے اورمقامی نوجوانوں کی مدد ورہنمائی میںمسجد میںداخل ہوئے۔پوری مسجد کی تلاشی لی گئی۔کئی مقامات پرپولیس نے اپنے انداز میںٹھونک بجاکر بھی دیکھا۔مسجد کےمصلّی جمیل احمد عبدالغفارنےمیڈیاکودئےگئےبیان میںکہا کہ پولیس انتظامیہ کے اس عمل سےنمازیوںاوراہلِ محلّہ حیرت میںمبتلا ہیں۔اطمینان کی بات یہ ہے کہ کوئی قابل ذکر مشتبہ یا مشکوک شئےمسجد یااس کے اطراف کے مکانات سے نہیںحاصل ہوسکی۔اس معاملے میںبرکت پورہ کے مکینوںکےایک وفد نےڈپٹی ایس پی سدھارتھ بروال سے ملاقات کرکے صورتحال پرتبادلہ خیال کیا۔جمیل احمد نے مزید کہا کہ یہ مسجد وخانقاہ ۱۰۳؍ سال قدیم ہے۔مالیگاؤں کی پہلی خانقاہ بھی یہی ہے جسے نقشبندی سلسلے کے بزرگ حضرت مولانا سیّد ابومحمد برکت علی شاہ ؒ نے قائم فرمایا تھا ۔اس لحاظ سےپورے شہر مالیگاؤںکےمسلمانوںکاایک روحانی وجذباتی لگائواِس مسجد وخانقاہ سے ہے۔
رُکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی (ایم آئےایم)نےکہا کہ واقعہ کا علم ہوتے ہی بعد نمازفجرمسجدخانقاہ برکتیہ پہنچا۔ نمازیوں اورمقامی افرادسے گفت وشنید کی۔اس معاملے میںڈپٹی ایس پی سدھارتھ بروال سےملاقات کرکے استفسار کیاگیاتوڈپٹی ایس پی نے بتایا کہ ڈائریکٹرجنرل آف پولیس کےپاس کی گئی شکایت کے نتیجے میںناسک کرائم برانچ ٹیم مالیگاؤں پہنچی تھی۔اس کارروائی کیلئے مقامی پولیس کی مدد مانگی گئی۔رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ تلاشی کے عمل میںپولیس اہلکاروں نے حددرجہ احتیاط سے کام لیا۔مسجد میںداخلے سے قبل جُوتے اُتارے۔کلام مجیدکے نسخوںکوہاتھ نہیں لگایا۔ مسجد کے آس پاس رہنے والے مسلم نوجوانوںکی مدد سےسرچ آپریشن کیاگیا۔وہ کیاتلاش کررہےتھے؟اس سوال کا کوئی جواب پولیس وتفتیش کاروں نےنہیں دیا ہے۔ مالیگاؤں پولیس ڈپارٹمنٹ کوبھی اس معاملے کی پوری معلومات نہیں ہے۔تشویشناک بات یہی ہے کہ کون سی ایسی اطلاع ڈائریکٹرجنرل آف پولیس تک پہنچی کہ انہوں نے مسجد کی تلاشی کے احکامات جاری کر د یئے۔
واضح ر ہے کہ پولیس کے ذریعے تلاشی کے عمل میںشریک مقامی نوجوانوںاورچندپولیس اہلکاروںکےمطابق کئی گھنٹوںتک سرچ کےبعدبھی کوئی مشکوک یامشتبہ شئے؍اشیاء تفتیش کاروں کے ہاتھ نہیں لگی ہے۔