Updated: October 11, 2026, 7:06 PM IST
| Mumbai
ریلائنس جیو کی ممکنہ حصص فروخت سے قبل مالی پوزیشن مضبوط بنانے پر توجہ، قرض میں کمی اور نقد رقم پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اہم پیش رفت۔ریلائنس انڈسٹریز کے ٹیلی کام کاروبار جیو کے مجوزہ ابتدائی عوامی اجرا (آئی پی او) سے پہلے کمپنی کی مالی صورتِ حال پر سرمایہ کاروں کی توجہ بڑھ رہی ہے۔
جیو آئی پی او۔ تصویر:آئی این این
ریلائنس جیو کی ممکنہ حصص فروخت سے قبل مالی پوزیشن مضبوط بنانے پر توجہ، قرض میں کمی اور نقد رقم پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اہم پیش رفت۔ریلائنس انڈسٹریز کے ٹیلی کام کاروبار جیو کے مجوزہ ابتدائی عوامی اجرا (آئی پی او) سے پہلے کمپنی کی مالی صورتِ حال پر سرمایہ کاروں کی توجہ بڑھ رہی ہے۔ قرض کے بوجھ میں کمی اور کاروبار سے زیادہ نقد رقم پیدا ہونے کی رفتار کو جیو کی ممکنہ حصص فروخت کے لیے اہم عوامل سمجھا جا رہا ہے۔ کسی بڑی کمپنی کے حصص پہلی مرتبہ بازار میں پیش کیے جانے سے پہلے اس کی مالی مضبوطی، آمدنی، منافع، قرض کی سطح اور نقد رقم پیدا کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا ہے، کیونکہ یہ عوامل کمپنی کی قدر کے تعین اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نصیرالدین شاہ سلمان رشدی کی قاتلانہ حملے سے متعلق یادداشت کو اسٹیج پر پیش کریں گے
جیو نے گزشتہ برسوں کے دوران موبائل ٹیلی کام، انٹرنیٹ اور ڈجیٹل خدمات کے شعبوں میں اپنا کاروبار وسیع کیا ہے۔ اس توسیع کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی، جس میں نیٹ ورک کی تعمیر، فائیو جی خدمات، بنیادی ڈھانچے اور صارفین تک رسائی بڑھانے جیسے شعبے شامل ہیں۔ اب اگر کمپنی اپنے کاروبار سے زیادہ نقد رقم پیدا کر رہی ہے اور قرض کم کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے تو اس سے مالی دباؤ میں کمی اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ ء میں جیو پلیٹ فارمز کا خالص قرض اور آمدنی کے مقابلے میں قرض کا تناسب نمایاں طور پر کم ہوا۔ کمپنی کے دستاویزات پر مبنی رپورٹ کے مطابق، خالص قرض اور سود، ٹیکس، فرسودگی و دیگر غیر نقد اخراجات سے پہلے کی آمدنی کے تناسب کو ظاہر کرنے والا پیمانہ مالی سال۲۴۔ ۲۰۲۳ء میں ۰ء۸۸ ؍گنا تھا، جو مالی سال۲۵۔ ۲۰۲۴ءمیں ۰ء۷۱ گنا اور مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ءمیں گھٹ کر ۰ء۳۶ گنا رہ گیا۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ کمپنی کی آمدنی کے مقابلے میں اس کے خالص قرض کا بوجھ کم ہوا ہے۔
نقد رقم پیدا کرنے کی صلاحیت میں بہتری بھی اس پیش رفت کا اہم حصہ ہے۔ سرمایہ جاتی اخراجات منہا کرنے کے بعد جیو کی آمدنی مالی سال۲۴۔ ۲۰۲۳ءمیں ۱۴۴۹؍ کروڑ روپے تھی، جو مالی سال۲۴۔ ۲۰۲۴ ء میں بڑھ کر۱۹۹۰۲؍ کروڑ روپے اور مالی سال۲۶۔ ۲۰۲۵ ء میں۴۲۰۷۱؍ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیٹ ورک کی توسیع پر بڑے اخراجات کے مرحلے میں نسبتاً کمی آنے کے بعد کمپنی کے پاس کاروباری سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ بچنے لگا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا کی ٹیم کو الوداع کہنے کے بعد پہلے ہی میچ میں میسی کے انٹر میامی کیلئے ۲؍ گول
جیو پلیٹ فارمز کی عملی آمدنی مالی سال۲۴۔۲۰۲۳ء میں تقریباً ۱ء۱۰ لاکھ کروڑ روپے تھی، جو مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵؍ میں بڑھ کر تقریباً ۱ء۴۷ لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی مدت میں سود، ٹیکس اور فرسودگی سے پہلے کی آمدنی ۵۴۹۵۹؍کروڑ روپے سے بڑھ کر۷۶۲۵۵؍ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ ٹیکس کے بعد منافع ۲۱۴۲۳؍ کروڑ روپے سے بڑھ کر۳۰۰۴۹؍ کروڑ روپے ہو گیا۔ منافع میں یہ اضافہ کمپنی کی مالی کارکردگی اور کاروباری صلاحیت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ جیو پلیٹ فارمز کے مجوزہ ابتدائی عوامی اجرا کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ کمپنی نئے حصص جاری کرکے سرمایہ اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پیش کردہ دستاویزات کے مطابق، اس اجرا سے حاصل ہونے والی رقم میں سے زیادہ سے زیادہ ۲۷۵۰۰؍ کروڑ روپے ریلائنس جیو انفوکام کے قرضوں کی ادائیگی یا قبل از وقت واپسی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس اقدام سے قرض کی لاگت اور سود کے اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے مستقبل میں کاروبار کی مالی گنجائش بڑھنے کا امکان ہے۔ جیو کی حکمت عملی صرف موبائل خدمات تک محدود نہیں ہے۔ کمپنی گھریلو براڈبینڈ، کاروباری رابطہ کاری، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ خدمات اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز میں بھی اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لیے قرض میں کمی اور نقد رقم کی بہتر دستیابی اسے ان شعبوں میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کے ساتھ مالی استحکام برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔