ریلائنس انڈسٹریز گروپ کی کمپنی ریلائنس جیو کے تقریباً ۱۶۰۰۰؍ مواصلاتی سیٹیلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک تیار کرنے کی تجویز کو خلائی شعبے کے ریگولیٹری ادارے ان-اسپیس (انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر) نے تکنیکی اعتبار سے موزوں قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 9:03 PM IST | Mumbai
ریلائنس انڈسٹریز گروپ کی کمپنی ریلائنس جیو کے تقریباً ۱۶۰۰۰؍ مواصلاتی سیٹیلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک تیار کرنے کی تجویز کو خلائی شعبے کے ریگولیٹری ادارے ان-اسپیس (انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر) نے تکنیکی اعتبار سے موزوں قرار دیا ہے۔
ریلائنس انڈسٹریز گروپ کی کمپنی ریلائنس جیو کے تقریباً ۱۶۰۰۰؍ مواصلاتی سیٹیلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک تیار کرنے کی تجویز کو خلائی شعبے کے ریگولیٹری ادارے ان-اسپیس (انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر) نے تکنیکی اعتبار سے موزوں قرار دیا ہے۔ ذرائع نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ کو ۱۱؍سال مکمل، سلمان خان فلمز نے جشن منایا
اس پیش رفت کے ساتھ ہندوستان کے پہلے مقامی لو ارتھ آربٹ (ایل ای او) سیٹیلائٹ نیٹ ورک کی راہ مزید ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جیو کی اس تجویز کو تکنیکی منظوری ملنا اس کی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ خدمات کے پرعزم منصوبے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس تجویز کا تکنیکی جائزہ ان-اسپیس، اسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) اور محکمہ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) کے وائرلیس پلاننگ اینڈ کوآرڈینیشن (ڈبلیو پی سی) ونگ نے مشترکہ طور پر لیا۔ جائزے میں جیو کے مجوزہ نیٹ ورک کو تکنیکی صلاحیت کے لحاظ سے اسٹارلنک جیسے عالمی مواصلاتی سیٹیلائٹ نظاموں کے ہم پلہ قرار دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد سے قبل جیو کو اب بھی کئی ضابطہ جاتی منظوریوں اور دیگر قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا۔
یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد نجی شعبے میں تیار کیا جانے والا ملک کا پہلا وسیع مقامی ایل ای او مواصلاتی سیٹیلائٹ نیٹ ورک ہوگا۔ جیو نے اس سلسلے میں حکومت سے بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) میں ضروری اطلاع درج کرانے، سیٹیلائٹس کے مداری حقوق اور مداری مقام (آربیٹل سلاٹ) حاصل کرنے میں تعاون کی درخواست کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ فائنل سے قبل نیویارک اور نیو جرسی میں فضائی آلودگی نے خدشات بڑھا دیے
جیو اس نیٹ ورک کے ذریعے سیٹیلائٹ براڈبینڈ، سیلولر بیک ہال اور موبائل سیٹیلائٹ خدمات فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کمپنی مستقبل میں ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس سروس بھی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے ذریعے موبائل فون براہِ راست سیٹیلائٹ سے منسلک ہو سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے ۲۰؍ سے۲۲؍ گراؤنڈ اسٹیشن قائم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔