نو منتخب کارپوریٹروں سے جتیندر اوہاڑ کی اپیل، کہا کہ ممبرا میں ہمارا ملک ہندوستان اور جمہوریت بستی ہے، ممبرا نفرت، دھرم ، زبان کی تفریق سے بہت آگے جاکر سوچتا ہے۔
رکن اسمبلی ڈاکٹر جتیندر اوہاڑخطاب کرتےہوئے۔ تصویر: آئی این این
تھانے میونسپل کارپوریشن ( ٹی ایم سی ) الیکشن میں ممبرا کوسہ میں این سی پی ( شرد) کی ٹکٹ پر جیت حاصل کرنے والے ۱۰؍ کارپوریٹروں کی ’فتح کا جشن ‘منگل کو ممبرا میں منایاگیا ۔ اس موقع پر سابق وزیر اور مقامی رکن اسمبلی ڈاکٹر جتیندر اوہاڑ نےاپنے خطاب کیا اور کل ہند مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم) کی ٹکٹ پر نو منتخبہ کارپوریٹروں سے اپیل کی کہ وہ ممبرا کو منفی انداز میں پیش کر کے بدنام نہ کریں اور سرخیوں میں نہ لائیں، ایسا کرنے سے ممبرا کے نوجوانوں ، طلبہ اورعام شہریوں کا ہی نقصان ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ’’ممبرا میںچھوٹا ہندوستان اور جمہوری ملک بستا ہے۔ اسے فرقہ وارانہ مت بنائیے اور جہاں تک نفر ت انگریزی اور جھگڑا کرنے کی بات ہے تو حضور اور گاندھی جی نے ہمیں پیار کی تعلیم دی ہے نفرت پھیلانے کی نہیں اور مقابلہ اپنے برابر والوں میں کیاجاتا ہے۔‘‘واضح رہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کی ٹکٹ سے میونسپل الیکشن جیتنے والی سحر یونس شیخ نے پینل نمبر ۳۰؍ سے پہلے این سی پی (شرد) سے ٹکٹ سے الیکشن لڑنے کی متمنی تھیں لیکن جب وہاں سے انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا تو انہو ں نے ایم آئی ایم کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ان کا پورا پینل جیت گیا بلکہ ممبرا کوسہ سے پہلی مرتبہ ۵؍ کارپوریٹر منتخب ہوئے۔ اس فتح کے بعد سحر شیخ نے اپنی پہلی عوامی ریلی میں مقامی رکن اسمبلی کو چڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’کیسے ہرایا‘‘اور یہ بھی کہا تھا کہ ہماری تمنا ہے کہ اگلے الیکشن میں ہم پورے ممبرا کو ہرا کردیں یعنی ایم آئی ایم کا پرچم لہرا دیں۔سحر کا یہ بیان سوشل میڈیا اورقومی میڈیا پر کافی وائرل ہوا تھا۔ اس تعلق سے بی جےپی کے لیڈر کریٹ سومیا نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی اور الزام لگایاتھاکہ سحر نے ممبرا کے ہندوؤں کو دھمکانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بعد ایم آئی ایم کے ریاستی صدر امتیاز جلیل بھی سحر کی حمایت میں سامنے آئے تھے۔اس طرح ممبرا ایک بار پھر سوشل میڈیا اور اخباروں میں سرخیوں میں منفی انداز میںپیش کیاگیاتھا۔
این سی پی ( شرد) کی فتح کی ریلی کی رپورٹنگ کرنے کیلئے بڑی تعداد میں قومی میڈیا بھی آیاتھااور سبھی کو تجسس تھی کہ رکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ ، ایم آئی ایم کے لیڈروں کی تنقید کا کیاجواب دیتے ہیں لیکن رکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ نے اپنی تقریر میں انہیں کوئی جواب نہیں دیاالبتہ یہ ضرور کہا کہ وہ ایک بچی ہے اس لئے جذبات میں یہ کہہ گئی اور سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی ہے لیکن مَیں اس کا جواب نہیں دوں گا ۔ مقابلہ برابر والوں میں ہوتا ہے۔
رکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ نے کہاکہ ’’ ممبرا رکن اسمبلی بننے سے قبل یہاں پر جب تب ممبئی کرائم برانچ کےافسران چھاپہ مار کارروائی کرتے تھےاور یہاں سےبے گناہوں کو اٹھا کر لے جاتے تھے، یہاں کے بچوں کو دیگر علاقوں کی اچھی اسکول اور کالج میں داخلہ نہیںملتا تھا لیکن مَیں نے ممبرا کوسہ کی شبیہ بدلی ، علاقے کی ترقی کی، سڑکیں بنائیں ، خوبصورت ریلوے اسٹیشن بنایا۔ یہاں کی روایت رہی ہے کہ یہاں ہندو مسلم مل جل کر رہتے رہے ہیں۔ممبرا جامع مسجد کے خوبصورت مینا ر کودیکھیں تو اس کے پیچھے ممبرا دیوی مندر بھی نظر آتا ہے۔ ‘‘
انہوںنے دیگر پارٹیوں کے لیڈروں سے درخواست کرتے ہوئے کہاکہ ’’ ممبرا میں ہمارا ملک ہندوستان اور جمہوریت بستی ہے۔ممبرا نفرت ، دھرم ، زبان کی تفریق سے بہت آگے جاکر سوچتا ہے۔یہ شہر ہمیشہ متحد رہا ہے ۔‘‘
انہوںنے مزیدکہا،’’ یہاں کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کبھی پیدا نہیں ہوئی ہے، اس لئے میں درخواست کرتا ہوںکہ ممبرا کو ایک بار پھر بدنام مت کیجئے۔ورنہ اس سے ممبرا میں رہنے والے شہریوں ، نوجوانوں اور طلبہ کا نقصان ہوگا۔ ممبرا پھر بدنام ہو جائے گا اور برسوں میں جو اس کی اچھی شبیہ بنائی ہے وہ برباد ہو جائے گی۔‘‘’
رکن اسمبلی نے یقین دلایا کہ’’ اس الیکشن میں منتخب ہونے والے کارپوریٹر ممبرا کو مزید بہتر بنانے ، یہاں پانی اور دیگر سہولت کو مہیا کرانے کیلئے کام کریں گے اور ہم سب ایک ہو کر شہر کی ترقی کیلئے کام کریں گے۔‘‘