• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حملے کی صورت میں امریکی اڈوں اور بحری بیڑوں کو نشانہ بنایا جائیگا،ایران کی دھمکی

Updated: January 30, 2026, 12:05 PM IST | Tehran

ایران نے امریکہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں امریکی فوجی اڈوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کو فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ بیان امریکہ اور یورپی یونین کے دباؤ کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ فوری طور پر امریکی فوجی اڈوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔ یہ دھمکی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے انتباہات اور یورپی یونین کی جانب سے ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ ایرانی فوج کے ایک ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ کی کسی بھی کارروائی کے جواب میں تہران کا ردِعمل فیصلہ کن اور فوری ہوگا، جو گزشتہ برس مختصر جھڑپوں کے دوران دیئے گئے محدود ردِعمل سے بالکل مختلف ہوگا۔ 
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں میں ’’سنگین کمزوریاں ‘‘ موجود ہیں اور خلیجی خطے میں امریکی اڈے’’ہماری درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی حد میں ‘‘ ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر امریکیوں کی جانب سے ایسی کوئی غلطی کی گئی تو یہ ہرگز اس طرح نہیں ہوگا جیسا کہ ٹرمپ تصور کرتے ہیں، ‘‘اور کسی تیز اور محدود کارروائی کے تصور کو مسترد کر دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ڈومز ڈے کلاک نصف شب سے صرف ۸۵؍ سیکنڈ دور: انسانی بقا کیلئے خطرات بلند ترین حد پر

علاقائی سفارت کاری
دریں اثنا علاقائی سفارت کاری کا سلسلہ جاری رہا، جہاں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ اسی دوران یورپی یونین نے حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران پرتشدد کریک ڈاؤن میں کردار کے الزام میں پاسدارانِ انقلاب کو بلیک لسٹ کر کے تہران پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ایران نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’غیر منطقی اور غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا اور یورپی یونین پر امریکہ اور اسرائیل کی تابعداری میں کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کیلئے اپنے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے تک پہنچنے کا وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔ بدھ کو انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی بحری بیڑا ’تیار، آمادہ اور جواب دینے کے قابل‘ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا

امریکی وزیرِ دفاع کی ایران کو جوہری پروگرام سے باز رہنے کی وارننگ، امریکی کارروائی کیلئے تیار
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلئے ’’تمام آپشنز‘‘ استعمال کرنے کیلئے تیار ہے، تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن اب بھی سفارتی معاہدے کیلئے دروازہ کھلا رکھے ہوئے ہے۔ پیٹ ہیگسیتھ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہمراہ کابینہ اجلاس کے دوران کہا، ’’اس وقت ایران کے معاملے میں ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ ان کے پاس معاہدہ کرنے کے تمام مواقع موجود ہوں۔ انہیں جوہری صلاحیتوں کی جانب نہیں جانا چاہئے۔ ‘‘ہیگسیتھ نے اس بات پر زور دیا کہ پینٹاگون صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی ہدایت پر عمل درآمد کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو فوجی آپشنز بدستور موجود ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اس صدر کی ہر اس توقع کو پورا کرنے کیلئے تیار ہیں جو وہ محکمۂ جنگ (پینٹاگون) سے رکھتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے اس ماہ کیا تھا، ‘‘ یہ کہتے ہوئے انہوں نے۳؍ جنوری کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی حراست کا حوالہ دیا۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے ٹرمپ کی تازہ دھمکیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران ایک امریکی بحری بیڑا ایرانی پانیوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ نے ۲۶؍ ممالک کو بانی ارکان قرار دیا

ٹرمپ کی ایران کی جانب ’انتہائی بڑے اور طاقتور بحری جہازوں‘ کی روانگی کی تصدیق
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات (۲۹؍ جنوری) کو کہا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز کرنا چاہتے ہیں، تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ’انتہائی بڑے اور بہت طاقتور بحری جہاز‘ ایران کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ممکنہ جوہری معاہدے پر تہران کے ساتھ مزید بات چیت کا منصوبہ موجود ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن قبل ایران نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اس کی مسلح افواج کی “انگلیاں ٹریگر پر ہیں ” اور اگر امریکا نے فوجی حملہ کیا تو جواب “پہلے سے کہیں زیادہ سخت” ہوگا۔ یہ پیغام ٹرمپ کی اس دھمکی کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے “بڑی تباہی” کی بات کی اور کہا کہ امریکی بحری بیڑا تیزی سے ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: شام کا ’نیا دور‘: الشرع کی قیادت کو ایک سال مکمل؛ ملک تعمیرِ نو، استحکام اور قومی وحدت کی طرف گامزن

امریکہ ایرانی حملوں کو روکنے کیلئے’پیشگی‘ حملے بھی کر سکتا ہے: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو 
مارکوروبیو نے کہا’’ہمیں خطے میں اتنی فوجی طاقت موجود رکھنی ہوگی کہ کم از کم اس امکان کے خلاف دفاع کیا جا سکے کہ ایرانی حکومت ہمارے فوجیوں پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’صدر ہمیشہ پیشگی دفاعی آپشن محفوظ رکھتے ہیں، یعنی اگر ہمیں اشارے ملیں کہ وہ واقعی خطے میں ہمارے فوجیوں پر حملہ کرنے والے ہیں، تو ہم اپنے اہلکاروں کے دفاع کیلئے کارروائی کر سکتے ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK