۲۰۲۳ءمیں تعمیراتی کام مکمل ہوچکاہے۔قبضے کا سرٹیفکیٹ، فائر سیفٹی کمپلائنس، لفٹیں، ایسکلیٹرز اور آگ بجھانے کا نظام زیر التواء ہونے سے پریشانی۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 10:55 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
۲۰۲۳ءمیں تعمیراتی کام مکمل ہوچکاہے۔قبضے کا سرٹیفکیٹ، فائر سیفٹی کمپلائنس، لفٹیں، ایسکلیٹرز اور آگ بجھانے کا نظام زیر التواء ہونے سے پریشانی۔
جے جے اسپتال کمپلیکس میں ۱۰؍ منزلہ سپر اسپیشلیٹی اسپتال کے سنگ بنیاد کو رکھے ہوئے ۷؍سال گزر چکےہیں لیکن ابھی تک اس عمارت میں مریضوں کاعلاج شروع نہیں ہوسکا ہے۔حالانکہ عمار ت کی اے اور بی ونگ کا تعمیراتی کام مکمل ہوچکا ہے لیکن قبضے کا سرٹیفکیٹ (او سی)، فائر سیفٹی کمپلائنس، لفٹیں، ایسکلیٹرز اور آگ بجھانے کا نظام زیر التواء ہےجس کی وجہ سے عمارت کے تیار ہونے کے باوجود اس کا استعمال نہیں ہو پا رہاہے ۔اس اسپتال کو ۲۰۲۳ءمیں شروع ہوجاناچاہئے تھالیکن اسپتال کے شروع نہ ہونے سےعلاج کیلئے آنےوالے مریضوںکو پریشانی ہو رہی ہے۔
روزانہ آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد کیلئے لفٹوں اور ایسکلیٹرز کا مکمل طور پر فعال ہونا ضروری ہے۔ اگرچہ کچھ لفٹیں لگائی گئی ہیں لیکن وہ پوری صلاحیت کے ساتھ شروع نہیں ہوسکی ہیں۔ مانسون کے دوران لفٹوں میں پانی داخل ہونے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے تکنیکی اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:شہر اورمضافات کے الگ الگ علاقوں میں سی پی ایم کی احتجاج کی تیاری
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حفاظت پر سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔ ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسپتال شروع کرنے کیلئے عمارت کے کام کی تکمیل کے ساتھ مریضوں کیلئے لفٹیں، ایسکلیٹرز، فائر سیفٹی اور دیگر بنیادی سہولیات کو مکمل طور پر فعال ہونا چاہئے کیونکہ مریضوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے ۔
اس کے علاوہ متذکرہ اسپتال کے گیٹ نمبر ۲؍ کے اطراف میں ۱۷۰؍غیر قانونی قبضہ جات قائم ہیں۔ جن کا سروے کر کے ان کی فہرست تیار کی گئی ہے ۔انہیں ہٹانے کیلئے انتظامی کارروائی جاری ہے۔عوامی نوٹس جاری کرنے کیلئے کارروائی کی جا رہی ہے ۔ اس سلسلے میں میونسپل کارپوریشن، ضلع انتظامیہ اور محکمہ پولیس کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تجاوزات ہٹانے کیلئے پولیس کی تعیناتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔