Updated: October 01, 2026, 2:06 PM IST
| New Delhi
این سی ای آر ٹی کی نو یں جماعت کی تاریخ کی کتاب کے بابوں میں کئی ترمیمات کی گئی ہیں، جن میں بالخصوس سکھوں اور مغلوں کی سیاسی اقتدار کی لڑائی کو مذہبی بتایا گیا ہے، جس کے بعد مورخین نے کتاب کے ان بابوں کے متعلق کئی سوالات کھڑے کئے ہیں اور اس کی شدید مذمت کی ہے۔
این سی ای آر ٹی کی نویں جماعت کی سوشل سائنس کی نئی نصابی کتاب میں سکھ گروؤں کے ساتھ مغلیہ حکومت کے رویوںکو انتہائی ظالمانہ بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کی جڑیں ’’سخت مذہبی اور امتیازی پالیسیوں‘‘میں تھیں۔یہ حوالہ منگل کو شائع ہونے والی کتاب انڈر اسٹینڈنگ سوسائٹی: انڈیا اینڈ بیونڈ قسط۲؍ کے تاریخ کے باب ’’مزاحمت اور ثابت قدمی (۱۰۰۰ ؍ تا ۱۷۰۰؍ عیسوی)‘‘میں سامنے آیا ہے۔ اس باب میں گرو ارجن دیو، گرو تیغ بہادر اور گرو گوبند سنگھ کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کی شہادتوں کو سکھ مزاحمت کے آغاز و ارتقاء سے جوڑا گیا ہے۔کتاب میں کہا گیا ہے کہ ’’عقیدے اور مذہب کی خاطر‘‘سکھ گروؤں کی ’’بہادری اور قربانیاں‘‘سکھ مت کی بنیادی اور امتیازی خصوصیات بن گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: اگر ایس آئی آر کا معاملہ بے نقاب ہوا تو اقتدار چلانا مشکل ہوجائےگا: نانا پٹولے
علاوہ ازیں کتاب کے مطابق، ’’سکھ گروؤں، بالخصوص گرو ارجن دیو، گرو تیغ بہادراور دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ کے خلاف مغلیہ حکومت کے مظالم کی تاریخ میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔‘‘اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی قربانیوں نے سکھ برادری کے اس عقیدے کو مزید مضبوط کیا کہ ظلم و ستم کا مقابلہ ’’مضبوط مزاحمت اور ثابت قدمی‘‘ کے ساتھ کیا جانا چاہئے۔کتاب کے مطابق، سترہویں صدی کے آغاز سے جیسے جیسے سکھ گروؤں کا سماجی و ثقافتی اثر و رسوخ بڑھتا گیا، مغلیہ حکومت نے ان کے معاملات میں مداخلت بڑھا دی۔ کتاب میں لکھا گیا ہے کہ مغل شہنشاہ جہانگیر نے گرو ارجن دیو کے قتل کا حکم اس بنیاد پر دیا تھا کہ انہوں نے جہانگیر کے باغی بیٹے خسرو مرزا کی مبینہ طور پر حمایت کی تھی۔ نصابی کتاب گرو ارجن دیو کی شہادت کو سکھ تاریخ میں ایک ’’اہم اور بڑا موڑ‘‘قرار دیتی ہے۔اس باب میں گوالیار کے قلعے میں گرو ہرگوبند کی قید اور دنیوی و سیاسی اقتدار کے مرکز کے طور پر اکال تخت کے قیام کا بھی ذکر ہے۔ اس میں میری پیری یعنی روحانی اور دنیوی اختیار کے امتزاج کے تصور کو بھی جوڑا گیا ہے۔ جبکہ گرو تیغ بہادر کے بارے میں کتاب میں کہا گیا ہے کہ اورنگزیب نے ۱۶۷۵ءمیں ان کے قتل کا حکم دیا تھا اور ان کی شہادت کو ہندستانی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا گیا ہے۔ کتاب کے مطابق، مظالم اور سیاسی دباؤ نے منظم مزاحمت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، جس میں اجتماعی تنظیم سازی اور ’’ضرورت پڑنے پر‘‘ مسلح مزاحمت شامل تھی۔اس کے علاوہ اس باب میں ۱۶۹۹ء میں گرو گوبند سنگھ کے ذریعہ خالصہ کے قیام کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے سماجی و سیاسی حالات کے جواب میں خالصہ نے ایک الگ جنگجوئی کے ضابطے کو اپنایا اور اس طرح سکھوں کی روحانی شناخت کا سیاسی شناخت کے ساتھ گہرا تعلق قائم ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کتب خانہ ماضی کے ورثے، حال کی تشکیل اور مستقبل کی تعمیر کا امین ہے‘‘
بعد ازاں نصاب میں یہ نئی پیشکش این سی ای آر ٹی کی بعض پرانی کتابوں کے مقابلے میں مختلف انداز اور نقطہ نظر رکھتی ہے۔مورخ ستیش چندر کی لکھی ہوئی این سی ای آر ٹی، گیارہویں جماعت کی تاریخ کی ایک پرانی کتاب میں جہانگیر اور شاہجہاں کے دور میں سکھ گروؤں اور مغلوں کے درمیان ہونے والے تصادم کو ’’مذہبی کے بجائے سیاسی اور ذاتی‘‘بتایاگیا تھا۔گرو تیغ بہادر کے اعدام کے حوالے سے، اس کتاب میں کئی مختلف روایات پیش کی گئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ اس کی اصل اور دقیق وجوہات کا تعین کرنا مشکل ہے۔ اس میں فارسی تاریخی تحریروں کا حوالہ دیا گیا تھا جن میں سیاسی بدامنی کا الزام لگایا گیا تھا، جبکہ سکھ روایات کا بھی ذکر تھا جو اس اعدام کو دیگر وجوہات سے منسوب کرتی تھیں۔اسی طرح ۲۰۰۷ء میں پہلی بار شائع ہونے والی ساتویں جماعت کی این سی ای آر ٹی کی ایک پرانی کتاب میں بھی گرو ارجن دیو کے اعدام کو بنیادی طور پر اس تناظر میں پیش کیا گیا تھا کہ مغلیہ حکومت بڑھتی ہوئی سکھ برادری کو ایک سیاسی خطرہ سمجھتی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ جہانگیر سکھ برادری کو ایک ممکنہ خطرہ مانتا تھا اور اسی لئے اس نے ۱۶۰۶ء میں گرو ارجن دیو کے قتل کا حکم دیا تھا۔
تاہم اس ضمن میںمورخین کی جانب سے بھی نئی نصابی کتابوں پر سوالات کھڑے کئے جا رہے ہیں ۔قرونِ وسطیٰ کی ہندستانی تاریخ کی ماہر، مورخ روچیکا شرما نے نئی نصابی کتاب کی اس تعبیر اور تشریح پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکھ-مغل تصادم بنیادی طور پر سیاسی تھا نہ کہ مذہبی۔روچیکا شرما کا کہنا ہے کہ خسرو کیلئے گرو ارجن دیو کی حمایت جہانگیر کی سیاسی مخالفت کا ایک عمل تھا اور بعد میں اکال تخت کا قیام، فوجی سرگرمیاں اور دیگر پیش رفتیں مغل اقتدار کیلئے چیلنج بنتی گئیں۔ یہ فرق اس لئےاہم ہے کیونکہ مورخین طویل عرصے سے سکھ-مغل تصادم میں سیاسی، مذہبی اور سماجی عوامل کی اہمیت پر بحث کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، گرو ارجن دیو کے بارے میں علمی اور تحقیقی کام ان کے اعدام کو جہانگیر کے دور میں سکھ برادری اور مغلیہ حکام کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مرکز ی ڈیموگرافی پینل کا ریاستوں سے مذہب کے لحاظ سے ڈیٹا طلب، کانگریس کا احتجاج
مزید برآں یہ باب صرف سکھوں تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان بھر کی دیگر مزاحمتوں کا بھی احاطہ کرتا ہے، بلکہ اس میں مختلف حکمران طاقتوں کے خلاف جاٹوں، اہوموں، راجپوتوں اور دیگر گروہوں کی مزاحمت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اس میں چالوکیہ سلطنت کی نائیکی دیوی اور العال کی رانی اباکا چوٹا کے ساتھ مہارانا پرتاپ اور سرائے گھاٹ کی جنگ میں مغلوں پر اہوموں کی فتح جیسی شخصیات اور واقعات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ باب میں مغلیہ سلطنت کے خلاف جاٹ بغاوتوں پر بھی بات کی گئی ہے اور انہیں ٹیکس، استحصال اور دیگر عوامی شکایات سے جوڑا گیا ہے۔
واضح رہے کہ نویں جماعت کی سوشل سائنس کی یہ نئی نصابی کتاب قومی تعلیمی پالیسی (نیشنل ایجوکیشن پالیسی ۲۰۲۰؍ ) اور اسکول تعلیم کے قومی نصابی ڈھانچے (نیشنل کریکیولر فریم ورک فار اسکول ایجوکیشن ۲۰۲۳ ؍ ) کے تحت این سی ای آر ٹی کی جانب سے اسکول کی کتابوں میں کی جانے والی حالیہ ترمیم و تجدید کا حصہ ہے۔جو این سی ای آر ٹی کے آفیشل نصابی پورٹل پر نویں جماعت کی موجودہ مطبوعات کی فہرست موجود ہے۔