Updated: October 03, 2026, 7:05 PM IST
| Kolkata
عالیہ یونیورسٹی کے تین مسلم طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ سیالدہ جاتے ہوئے دو افراد نے انہیں مبینہ طور پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر گالم گلوچ، مارپیٹ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ طلبہ کے مطابق حملہ آوروں نے انہیں ’’جہادی‘‘ اور دیگر توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کیا، جبکہ پولیس سے شکایت کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
علامتی تصویر: آئی این این
۲۴؍ ستمبر کو تقریباً دوپہر۲؍ بج کر۴۰؍ منٹ پر عالیہ یونیورسٹی کے تلاتلا کیمپس میں کلاس ختم کرنے کے بعد۲۴؍ سالہ محمد عاشق بلّاہ، ۲۳؍سالہ موجیم حسین اور ۲۴؍سالہ حسنور زمان کولکاتا کے سیالدہ ریلوے اسٹیشن کی جانب پیدل جا رہے تھے۔ یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات کے یہ تینوں طلبہ روزانہ دوپہر۲؍ بج کر۵۴؍ منٹ پر سیالدہ-حسن آباد گیلپنگ لوکل ٹرین پکڑتے ہیں اور ان کا روزانہ کا سفر تقریباً چار گھنٹے پر محیط ہوتا ہے۔ لیکن اس روز ان کا معمول کا سفر مبینہ طور پر جسمانی تشدد اور اسلام مخالف جملوں پر مشتمل فرقہ وارانہ حملے میں تبدیل ہوگیا۔ لینن سرانی روڈ پر جی ڈی اسپتال اینڈ ڈائبیٹیز انسٹی ٹیوٹ کے قریب شارٹ کٹ راستے کے داخلی مقام پر تقریباً ۳۵؍سے۴۰؍ سال عمر کے دو افراد نے ان کا راستہ روک لیا۔
عاشق بلّاہ، جو ایک کسان اور گھریلو خاتون کے بیٹے ہیں، نے مکتوب کو بتایا کہ سیاہ و سفید رنگ کی اسکوٹی پر سوار دونوں افراد نے مبینہ طور پر فرقہ وارانہ تصادم پر اکسانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق طلبہ نے ان سے بچنے کی کوشش کی، لیکن وہ مسلسل ان کی جانب بڑھتے رہے اور گالم گلوچ شروع کردی، جس کے بعد شدید تلخ کلامی ہوگئی۔ عاشق کے مطابق ایک شخص نے ہاف پینٹ اور بنیان جبکہ دوسرے نے پتلون اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ دونوں کے ماتھے پر زعفرانی تلک لگا ہوا تھا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ ان افراد کو نہیں جانتے تھے اور انہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ دونوں افراد نے طلبہ پر گالی دینے کا الزام عائد کیا، جس کی طلبہ نے تردید کی اور وہاں سے جانے کی کوشش کی۔ عاشق کے مطابق انہوں نے کہا، ’’ہم آپ کو گالی کیوں دیں گے؟ ہم تو طلبہ ہیں۔ ‘‘’’وہ ہمیں جہادی کہہ رہے تھے اور ہندی میں گالیاں دے رہے تھے‘‘
یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ: پانچ سال سے زیادہ زیر سماعت قید کے بعد محمد شہزاد کمال کو ضمانت
طلبہ کے مطابق جب وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزام کی تردید کر رہے تھے تو ہاف پینٹ پہنے شخص نے عاشق کو تھپڑ مار دیا۔ عاشق نے بتایا کہ انہیں ہندی زیادہ اچھی طرح نہیں آتی اور دونوں افراد ہندی میں مسلسل گالیاں دے رہے تھے۔ ان کے مطابق گالیوں میں ماؤں اور بہنوں کے حوالے سے انتہائی نازیبا اور توہین آمیز الفاظ بھی شامل تھے۔ عاشق نے بتایا کہ دونوں افراد نے انہیں ’’جہادی‘‘ اور ’’جنگی‘‘ بھی کہا۔ ان کے مطابق حملہ آوروں نے ان کی داڑھی اور ٹوپی کو دیکھ کر انہیں ’’جہادی‘‘ قرار دیا۔ طلبہ پاجامہ اور کرتا پہنے ہوئے تھے، جبکہ ان میں سے ایک نے ٹوپی پہن رکھی تھی۔ عالیہ یونیورسٹی کے طلبہ نمائندے محمد متصم بلّاہ، جنہوں نے کیمپس واپس آنے کے بعد تینوں طلبہ سے بات کی، نے بتایا کہ صرف ان کے لباس کی بنیاد پر انہیں ’’جہادی‘‘ قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق طلبہ کسی تنازع میں پڑنا نہیں چاہتے تھے اور حملہ آوروں سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ طلبہ کے مطابق جب وہ کچھ آگے نکل گئے اور حملہ آوروں نے دیکھا کہ وہ جوابی کارروائی نہیں کر رہے تو دونوں افراد اسکوٹی سے اتر آئے اور مبینہ طور پر جسمانی حملہ مزید بڑھا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: نومسلم آیوش ملک نے اپنے اغوا کی تردید کی
طلبہ کے بیان کے مطابق ان پر تھپڑ اور مکے برسائے گئے، دھمکیاں دی گئیں اور ان کے کپڑے بھی کھینچے گئے۔ بعد ازاں طلبہ نے یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار کے نام تحریری شکایت پیش کی، جس میں کہا گیا کہ گھر واپس جاتے وقت تلاتلا مارکیٹ کے قریب ’’کچھ شرپسندوں ‘‘ نے ان پر حملہ کیا اور انہیں بری طرح مارا پیٹا۔ متصم نے بتایا کہ حملہ آوروں نے صرف مارپیٹ ہی نہیں کی بلکہ طلبہ کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے۔ ان کے مطابق حسنور کے چہرے پر مکے مارے گئے جس سے اس کے دانتوں سے خون نکلنے لگا۔ طلبہ کے مطابق جب وہ سڑک سے آگے جانے کی کوشش کر رہے تھے تو دونوں حملہ آوروں نے عاشق کو گلی کی جانب گھسیٹنے کی کوشش کی۔ عاشق کو بچانے کیلئے جب دیگر دونوں طلبہ آگے بڑھے تو موجیم کو بھی تھپڑ اور مکے مارے گئے۔ متصم کے مطابق عاشق نے انہیں بتایا کہ ایک حملہ آور نے اسے اتنی زور سے تھپڑ مارا کہ اس کا سر فوراً چکرانے لگا۔ مسلسل کئی تھپڑ مارے جانے کے بعد عاشق کے سر پر بھی شدید چوٹ آئی۔ طلبہ نے مک تووب کو یہ بھی بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
’’وہ ہمیں ملا اور جہاد کی اولاد کہتے ہیں‘‘
۲۴؍ستمبر کے واقعے کے بعد یونیورسٹی کی طالبات کی جانب سے پہلے کی گئی شکایات بھی دوبارہ سامنے آئیں۔ متصم اور عاشق کے مطابق بعض طالبات نے اس علاقے سے گزرتے ہوئے پہلے بھی اسلام مخالف جملے اور نازیبا الفاظ استعمال کئے جانے کی شکایت کی تھی۔ متصم کے مطابق طالبات نے بتایا تھا کہ وہاں بعض افراد انہیں ’’ملا‘‘ اور ’’جہاد کی اولاد‘‘ کہتے ہیں۔ طالبات نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے بارے میں مزید ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جنہیں وہ کسی کے سامنے دہرانا نہیں چاہتیں۔ متصم کے مطابق ان طالبات کا تعلق حسن آباد، بسیرہاٹ اور کیننگ سمیت دور دراز علاقوں سے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’لاٹھی سے بھیڑ کوروکا جاسکتا ہے، سوال نہیں، گیانیش کمار جائیں گے‘‘
پولیس نے مبینہ حملہ آور کو ذہنی طور پر غیر متوازن اور نشہ کرنے والا قرار دیا
عاشق، موجیم اور حسنور ابتدا میں خوف زدہ تھے، تاہم بعد میں انہوں نے پولیس سے رجوع کرنے کی ہمت کی۔ حملے کے تقریباً ایک گھنٹے کے اندر۲۴؍ ستمبر کو تقریباً سات طلبہ ان کے ساتھ تلاتلا پولیس اسٹیشن پہنچے۔ متصم کے مطابق انہوں نے ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر سے مشورہ طلب کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کیسے کی جائے تاکہ حملہ آوروں کے حوصلے مزید بلند نہ ہوں۔ ان کے مطابق پولیس افسر نے طلبہ کو ایف آئی آر درج نہ کرانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور اس کے بجائے صرف ایک شکایت لکھنے کو کہا۔ طلبہ نے اپنی جانب سے واقعے کی تحریری شکایت دی اور کہا کہ اس میں وہی حقائق درج کئے گئے ہیں جو ان کے ساتھ پیش آئے تھے۔ پولیس اسٹیشن میں طلبہ کی موجودگی کے دوران مبینہ حملہ آوروں میں سے ایک شخص بھی وہاں پہنچ گیا۔ متصم کے مطابق ہاف پینٹ پہنے اس شخص نے عاشق کو دھمکی آمیز انداز میں اشارے کئے اور اس طرح دیکھا جیسے وہ اسے خبردار کر رہا ہو کہ اگر شکایت کی گئی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ طلبہ نے پولیس سے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کرنے اور واقعے کی حقیقت معلوم کرنے کی درخواست بھی کی۔ تاہم متصم نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے مبینہ حملہ آور کے رویے کو یہ کہہ کر نظرانداز کرنے کی کوشش کی کہ وہ ’’ذہنی طور پر غیر متوازن‘‘ ہے اور ’’گانجا پیتا ہے‘‘۔
پولیس اسٹیشن کے باہر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک مقامی لیڈرنے طلبہ کو ایف آئی آر درج کرانے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف بھی جوابی مقدمہ درج ہوسکتا ہے۔ طلبہ کیلئے یہ خدشہ بھی پریشانی کا باعث تھا کہ وہ کسی فوجداری مقدمے میں نہ پھنس جائیں۔ متصم نے کہا کہ وہ سب غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے پاس وکیل کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔ آخرکار ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ طلبہ نے احتیاطی کارروائی اور ان راستوں پر زیادہ سکیوریٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جہاں سے وہ روزانہ گزرتے ہیں۔ مکتوب نے تلاتلا پولیس سے اس معاملے پر تبصرے کیلئے رابطہ کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے جواب ملنے کی صورت میں خبر کو اپ ڈیٹ کئے جانے کی بات کہی گئی ہے۔