Inquilab Logo Happiest Places to Work

جسٹس جامدار کا دم دار فیصلہ، چوطرفہ پزیرائی، اُمید کی کرن قرار دیا گیا

Updated: July 06, 2026, 11:19 AM IST | Mumbai

’’شہریوں  کو غلام بنانے‘‘ کے خلاف جرأت مندانہ حکم سنانے کے ساتھ ہی بامبے ہائی کورٹ کے جج نے اراکین اسمبلی و پارلیمان کی خریدوفروخت پر بھی طنز کیا، کہا: واشنگ مشین چل رہی ہے، آپ بھی پالا بدل لیں۔

Justice Jamdar. Photo: INN
جسٹس جامدار۔ تصویر: آئی این این

حکومت کے خلاف احتجاج پر ایف آئی آر کو ’’شہریوں  کو حکومت کا غلام بنانے‘‘ کی کوشش قرار دیتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جامدار نے جمعرات کو شہری حقوق کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے کو جو دم دار اور تاریخی فیصلہ سنایا ہے اس کی ملک بھر میں  پزیرائی ہو رہی ہے اور اسے ایسے حالات میں امید کی کرن کے طورپر دیکھا جا جارہا ہے جب اختلاف رائے کو بھی جرم کے زمرہ میں  شامل کرنا معمول بن چکا ہے اور عوامی حقوق کیلئے احتجاج کو جرم تصور کیا جانے لگا ہے۔ مودی سرکار کے فیصلے کے خلاف احتجاج، ’’بی جےپی سرکار مردہ باد‘‘ اور ’’امیت شاہ مردہ باد‘‘ کا نعرہ بلند کرنے کی پاداش میں  ایف آئی آر درج کرکے ایس ڈی پی آئی کے ممبئی کے جنرل سیکریٹری سعید احمد چودھری کو شہر بدر کرنے کے فیصلے کو منسوخ کر تے ہوئے جسٹس جامدار نے پولیس کو بھی یاد دہانی کرائی کہ وہ اعلیٰ  عہدوں  پر فائز سیاستدانوں  کے نہیں عوام کے ملازم ہیں۔ 
اراکین کی خریدوفروخت : جسٹس جامدار نے صرف سعید چودھری کی شہر بدری (تڑی پار) کو ہی منسوخ نہیں  کیا بلکہ ریاست اور ملک کے سیاسی حالات پر بھی زبانی تبصرہ کیا اور کہا کہ ’’ابھی ۲؍ روز قبل ہی ایک ۱۰؍ سال کا بچہ(اسکول وین پر درخت گرنے کے) حادثہ میں ہلاک ہوگیا اور اسمبلی میں  یہ بحث ہورہی تھی کہ کونسل کا ڈپٹی چیئر مین کیسے منتخب ہوگا اور کس طرح انہوں نے ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں  شمولیت اختیار کی... یہ سب کیا ہے؟‘‘ اس کے ساتھ ہی جسٹس جامدار نے عرضی گزار اور ایس ڈی پی آئی کے لیڈر سعید چودھری کو طنزیہ مشورہ دیا کہ ’’آپ کے خلاف چند ایف آئی آر ہیں  نا...آپ بھی پالا بدلنے کے بارے میں  غور کریں، واشنگ مشین چل رہی ہے۔ ‘‘ ان کا اشارہ  بدعنوانی کے الزامات میں گھرے اپوزیشن کے اراکین اسمبلی و پارلیمان کے حکمراں  محاذ میں شامل ہونے پر ’’پاک صاف ‘‘ سمجھ لئے جانے کی طرف تھا۔

یہ بھی پڑھئے: سمندر کے نمکین پانی کو استعمال کے قابل بنانے والا پروجیکٹ ۴؍ سال میں مکمل ہوگا

اپوزیشن نے خیر مقدم کیا : جسٹس جامدار کے اس تبصرہ کا اپوزیشن پارٹیوں   نے خیرمقدم کیا ہے۔ شیوسینا (اُدھو)کی سابق رکن پارلیمان اور سینئر لیڈر پرینکا چترویدی نے جسٹس جامدار کے فیصلے کی خبر کا عکس شیئر کرتے ہوئے مختصر اً لکھا ہے کہ ’’شکریہ جسٹس جامدار۔ ‘‘ واضح رہے کہ حال ہی میں شیوسینا (اُدھو) کے ۷؍ ایم پی بی جےپی کی اتحادی شندے سینا میں شامل ہوئے ہیں۔ اُدھر ٹی ایم سی جس کے ۲۰؍ اراکین پارلیمان اور ۶۰؍ اراکین اسمبلی نے پالا بدل لیا ہے، کے جنرل سیکریٹری ابھیجیت بنرجی نے جسٹس جامدار کی جرأت کی پزیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب خاموش رہنا آسان ہو تو حق بات کہنا ہمت کا کام ہوتا ہے۔ جسٹس مادھو جامدار کو سلام، جنہوں نے آئینی حقوق کا دفاع کرتے ہوئے ہمیں یاد دلایا کہ عدلیہ کی حقیقی آزادی اورخودمختاری کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے۔ ‘‘
اصلاح کا اہم موقع: انڈین ایکسپریس نے اس تاریخی فیصلے کی پزیرائی میں  ’’شکریہ، جسٹس جامدار‘‘ کے عنوان سے اداریہ لکھا اور کہا کہ ’’یہ فیصلہ نظام انصاف کیلئے خود احتسابی اور اصلاح کا ایک اہم موقع بن سکتا ہے۔ ‘‘اس کے ساتھ ہی اخبار نے لکھا ہے کہ ’’اگر بدگمانی ہی غالب رہے اور یہ فیصلہ محض عدالتی تاریخ کا ایک عارضی لمحہ ثابت ہو، تب بھی یہ اپنی غیر معمولی اہمیت کے باعث روشنی بکھیرتا رہے گا۔ ‘‘ اخبار نے یاد دہانی کرائی کہ یہی عدلیہ کی ذمہ داری ہے، جسٹس جامدار کافیصلہ آئین کی روح کے مطابق ہے۔ 
غیر معمولی فیصلہ: معروف صحافی راج دیپ سردیسائی نے ملک کے موجودہ حالات کی وجہ سے فیصلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’جو عام حالات میں   احتجاج کے آئینی حق کی معمولی کی عدالتی توثیق کے طورپر دیکھاجاتا وہ آج غیر معمولی محسوس ہونے لگی ہے۔ یہ ملک کے موجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ جب اختلافِ رائے کو جرم بنا کر اسے جمہوری حق کے بجائے امن و قانون کا مسئلہ سمجھا جانے لگے تو ایسے وقت میں عدلیہ کی جانب سے دی جانے والی یہ یاد دہانیاں بے حد اہم ہو جاتی ہیں۔ ‘‘ انہوں  نے اس کیلئے بامبےہائی کورٹ کے بے باک جج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایکس پوسٹ کیا ہے کہ ’’جسٹس جامدار، آپ قابلِ تحسین ہیں۔ ‘‘
رویش کمار کا تبصرہ: معروف صحافی رویش کمار نے اپنے یوٹیوب چینل پر جسٹس جامدار کے فیصلے پر خصوصی شو کیا جس میں انہوں  نےکہا کہ’’ یہ حقیقت کہ جسٹس مادھو جامدار کےزبانی تبصرہ پر ملک بھر میں بحث اس بات کی نشاندہی ہے کہ عدالتوں سے ہماری توقعات کس قدر محدود ہو چکی ہیں۔ ‘‘  انہوں نے کہا کہ ’’ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ  عدلیہ عوام کی امیدوں سے کتنی دور جا پہنچی ہے۔‘‘ رویش کمار نے یاد دہانی کرائی کہ ’’ ممبئی ہی نہیں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور دھرنے دینے والوں کے ساتھ کئی برسوں سے سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔۲۰۱۴ء کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا رجحان عام ہو گیا۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ بہت سے لوگ حکومت کی کسی پالیسی کی مخالفت کرنا چاہتے ہوئے بھی ایف آئی آر کے خوف سے باہر نہیں نکلتے۔ لوگوں نے گویا یہ مان لیا ہے کہ اب کہیں سے بھی کوئی راحت یا انصاف نہیں ملے گا۔ ایسے ماحول میں جسٹس مادھو جامدار کا یہ زبانی تبصرہ بجلی کی کڑک کی طرح سنائی دیا کہ کیا شہریوں کو حکومت کا غلام بنایا جا رہا ہے؟ کیا احتجاج کرنے پر ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے؟‘‘انہوں نے کہا کہ ’’ایک جج کی جانب سے شہری آزادیوں اور پولیس کی نیت پر اس انداز میں سوال اٹھانا آج غیر معمولی محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے جسٹس جامدار کے یہ الفاظ خود عدالتی راہداریوں میں چھائی خاموشی کو توڑ رہے ہوں اور ان لوگوں کو امید دلا رہے ہوں جو عدالتوں سے مایوس ہو چکے تھے کہ اب بھی ایسے جج موجود ہیں جو شہریوں کی بے چینی کو سمجھتے ہیں اور اس حقیقت کو محسوس کرتے ہیں کہ اس ملک میں احتجاج کو آہستہ آہستہ جرم بنایا جا رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر میموریل اسپتال میں ریئل ٹائم پیشنٹ فیڈ بیک سسٹم کا آغاز

جسٹس مادھو جامدار کون ہیں؟
جسٹس مادھو جامدار ۱۳؍جنوری ۱۹۶۷ء کو پونے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ممبئی کے کیرتی کالج سے بی ایس سی اور نیو لاء کالج، دادر سے ۱۹۹۱ء میں ایل ایل بی مکمل کی۔ وکالت کے دوران انہوں نے دیوانی، فوجداری، آئینی، تجارتی اور جائیداد سے متعلق مقدمات میں طویل عرصے تک پریکٹس کی۔ جنوری۲۰۲۰ء میں انہیں  بامبے ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیاگیا اور جنوری۲۰۲۲ء میں وہ مستقل جج بنا دیئے گئے۔ ان کے والد جے ڈی جامدار بھی عدالتی خدمات سے وابستہ تھے۔ وہ بامبے سٹی سول اینڈ سیشنس کورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔ 
جسٹس مادھو جامدار کے والد جسٹس جے دیو جامدار بھی عدالتی شعبے سے وابستہ ایک ممتاز شخصیت تھے۔ بامبے سٹی سول اینڈ سیشن کورٹ میں بطور جج خدمات انجام دینے کے بعد وہ مہاراشٹر اسٹیٹ کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن کے صدر بھی رہے۔ وہ قانون کے شعبے میں اپنی دیانت داری اور عدالتی خدمات کے لیے جانے جاتے تھے۔ جسٹس مادھو جامدار نے متعدد مواقع پر اپنے والد کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کیلئےمشعلِ راہ قرار دیا ہے۔ جمعرات ۲؍ جولائی کے اپنے فیصلے کے بعد جسٹس جامدار کا شمار ان ججوں  میں  ہونےلگا ہے جو شہری حقوق کے تحفظ کے معاملے میں  عدلیہ کی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK