مسجد انتظامیہ نے آج یکم جنوری سے تمام کلاسیں مکمل طور پر مفت کرنے کافیصلہ کیاہے۔دارالسلام مسجدکی پہلی منزل پر بھی طبی و تعلیمی مر کز قائم کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 01, 2026, 4:17 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan
مسجد انتظامیہ نے آج یکم جنوری سے تمام کلاسیں مکمل طور پر مفت کرنے کافیصلہ کیاہے۔دارالسلام مسجدکی پہلی منزل پر بھی طبی و تعلیمی مر کز قائم کیا گیا ہے۔
کلیان(اعجاز عبدالغنی):مساجد کو عموما صرف عبادت گاہوں کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ ادارے ہمیشہ سے تعلیمی، سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کے مرکز رہے ہیں۔ آج کے دور میں بھی اگر مساجد کو اسی جامع کردار کے تحت فعال کیا جائے تو معاشرے میں نمایاں مثبت تبدیلیاں ممکن ہیں۔ کلیان شہر کی دو مساجد اس کی عملی مثال بن چکی ہیں جہاں ذمہ داران نے اسٹڈی سینٹر قائم کرکے نہ صرف تعلیمی معاونت فراہم کی ہے بلکہ طبی اور فلاحی خدمات بھی باقاعدگی سے انجام دی جارہی ہیں۔ ان مراکز سے اب تک سیکڑوں طلبہ اور خواتین مستفید ہوچکے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ مذہبی ادارے اگر صحیح سمت میں استعمال ہوں تو سماج کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔کلیان کے مختلف علاقوں میں واقع دو مساجد دارالفلاح اور دارالسلام اس وقت محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ مقامی آبادی کے لئے تعلیم، ٹیکنالوجی، صحت اور سماجی بہبود کے اہم مراکز بن چکی ہیں۔ گووندواڑی کی دارالفلاح مسجد کے ذمہ دار شبیر میمن نے نمائندہ انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل مسجد کی پہلی منزل پر ٹیوشن، کمپیوٹر، مہندی اور سلائی کی کلاسیں شروع کی گئی تھیں۔ طلبہ سے صرف ۲۰۰ ؍روپے فیس لی جاتی تھی جس سے اساتذہ کی تنخواہیں ادا کی جاتی تھیں۔تاہم علاقے میں بڑی تعداد محنت کش اور کم آمدنی والے گھرانوں کی ہے جن کے لئے یہ معمولی فیس بھی بوجھ بنتی جا رہی تھی۔ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مسجد انتظامیہ نے یکم جنوری سے تمام کلاسیں مکمل طور پر مفت کرنے کافیصلہ کرلیا ہے۔شبیر میمن کے مطابق یہ تمام کلاسیں شام ۴؍بجے سے رات ۱۰؍ بجے تک بلا رکاوٹ جاری رہتی ہیں۔مسجد میں پہلے ہی سے ہومیوپیتھی کلینک اور سرکاری دستاویزات کی تیاری کی خدمات بغیر کسی فیس کے فراہم کی جا رہی ہیں جس سے علاقے کے درجنوں خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔اسی طرز پر بیل بازار میں واقع دارالسلام مسجد کے ذمہ داران رفیق اقبال سید اور نور اقبال سید نے بھی مسجد کی پہلی منزل پر طبی و تعلیمی مرکز قائم کیا ہے۔حالیہ دنوں میں یہاں ۱۲ ؍روزہ اے آئی ٹریننگ کورس منعقد کیا گیا جس میں ۳۰؍طلبہ نے شرکت کی۔ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کے ڈیجیٹل تقاضوں سے روشناس کرانے کے اس اقدام کو علاقے میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔