اسپین کو تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی، میڈرڈ نے ٹکا سا جواب دیا، یورپی یونین نے بھی تائید کی۔
وزیرِاعظم پیدرو سانچیز۔ تصویر:آئی این این
ایران پر حملہ کے بعد اس کے غیر متوقع جوابی حملوں سے جھلاہٹ کا شکار ڈونالڈٹرمپ نے اس جنگ میں ساتھ نہ دینے پر اپنے یورپی اور مغربی اتحادیوں پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ اسپین جس نے ایران پر حملے کیلئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے، کو ٹرمپ نے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے جس کے جواب میں میڈرڈ نے ٹکا سا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر متبادلات موجود ہیں۔
اس کے ساتھ ہی اسپین نے جنگ کے خلاف اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکہ کو بین الاقوامی قانون اور یورپی یونین کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘ بدھ کو یورپی یونین کے انٹرنل مارکیٹ کمشنر اسٹیفن سیجورنے نے میڈیڈ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے واشنگٹن کو متنبہ کیا ہے کہ ’’یورپی یونین کے کسی بھی رکن ملک کو دھمکی، پوری یونین کو دھمکی کے مترادف ہے۔‘‘ انہوں نے امریکی صدر کو گرین لینڈ کے معاملے میں یورپی ممالک کے اتحاد کی یاد بھی دلائی۔
امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسپین نے ایران پر حملوں سے متعلق مشن کیلئے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکہ اسپین کے ساتھ تمام تجارتی معاملات ختم کر دے گا۔ امریکی صدر نے اس کے ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر وہ چاہیں تو اسپین میں جا کر ان کا فوجی اڈہ استعمال کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی نہیں روک سکتا ہے۔اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں اور جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔اسپین کے وزیر خارجہ حوزے مینول البیرس نے واضح کیا کہ ملک کے فوجی اڈے جو امریکہ کے ساتھ مشترکہ طور پر چلائے جاتے ہیں وہ ایران کے خلاف کسی کارروائی کیلئے استعمال نہیں ہوں گے۔اس فیصلے کے بعد امریکہ نے جنوبی اسپین سے۱۵؍ طیارے منتقل کر د یئے ہیں۔