ملنڈمیں میٹرو ۴؍ کیلئے تعمیر کئے جارہے بریج کا سیمنٹ کا ایک وزنی حصہ گرنے سے ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ دیگر۳ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس ہولناک واقعے کے بعد کلیان۔شیل پھاٹا روڈ سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
کلیان۔شیل پھاٹا روڈ جہاں جاری تعمیراتی کام کا سیفٹی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تصویر:آئی این این
ملنڈمیں میٹرو ۴؍ کیلئے تعمیر کئے جارہے بریج کا سیمنٹ کا ایک وزنی حصہ گرنے سے ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ دیگر۳ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس ہولناک واقعے کے بعد کلیان۔شیل پھاٹا روڈ سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ملنڈمیں میٹرو ۴؍ کیلئے تعمیر کئے جارہے بریج کا سیمنٹ کا ایک وزنی حصہ گرنے سے ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ دیگر۳ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس ہولناک واقعے کے بعد کلیان۔شیل پھاٹا روڈ سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔مقامی شہریوں اور مسافروں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے قبل فوری طورپر کلیان۔تلوجہ میٹرو ۱۲؍ کا جامع اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔عیاں رہے کہ ۳؍ ماہ قبل شیل پھاٹا روڈ پر سونار پاڑہ میں میٹرو کا ایک ۲۵؍ فٹ اونچا سیمنٹ کنکریٹ کا ستون کام مکمل ہونے کے بعد ایک طرف جھک گیا تھا۔اگرچہ تکنیکی عملے نے فوری طور پر جدید مشینری کا استعمال کرتے ہوئے ستون کو سیدھا کر دیا لیکن اس واقعہ نے اس منصوبے کی مضبوطی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیےہیں۔
ملنڈ میں میٹرو کے کام کے دوران سیمنٹ پلر کا حصہ گرنے سے ایک مسافر کی ہلاکت اور کئی افراد کے زخمی ہونے کے افسوسناک واقعے کے بعد شیل پھاٹا روڈ کے مسافروں اور مقامی رہائشیوں نے حکام سے فوری طور پر اس پورے منصوبے کے اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شیل روڈ پر دن رات ٹریفک کا شدید دباؤ رہتا ہےجبکہ ملنڈ حادثے کے وقت وہاں ٹریفک کم تھا۔ اس لئے یہاں خطرہ کہیں زیادہ ہے۔ تعلیمی اداروں کے منتظمین نے بھی اس سڑک سے گزرنے والی اپنی بسوں کی حفاظت کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی افراد کی جانب سے یہ شکایت بھی سامنے آئی ہے کہ جہاں میٹرو کا کام چل رہا ہے وہاں اکثر کنسلٹنٹ اور سپروائزر انجینئر موجود نہیں ہوتے اور ٹھیکیدار محض مزدوروں کے بھروسے کام چلا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے نئی تعمیر شدہ کنکریٹ سڑک بھی کئی جگہوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے جس سے ٹریفک جام کے مسائل مزید سنگین ہو گئے ہیں۔اس معاملے میں ایم ایم آر ڈی اے کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔