جبکہ سال کے بقیہ دنوں میں مندر میں پوجا پاٹ حسب معمول ہوگی وہیں عیدگاہ کی اراضی پر اسلامی عبادت و اجتماع پر پابندی برقرار رہے گی۔
بکرا منڈی۔ تصویر:آئی این این
عیدالاضحی کے موقع پر عید گاہ اور اس سے متصل درگا مندر کے احاطے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور کسی بھی طرح کی کشیدگی کو روکنے کے لیے ضلع انتظامیہ کی جانب سے سخت ترین حفاظتی احکامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ کی خصوصی ہدایات پر مقامی پولیس نے ایک اہم حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت عید کے روز درگا مندر میں ہندو عقیدت مندوں کے داخلے پر مکمل پابندی رہے گی جبکہ اس کے برعکس سال کے باقی تمام ایام میں عید گاہ اور مندر کی حدود میں مسلمانوں کے نماز ادا کرنے یا کسی بھی قسم کی اسلامی عبادت پر ممانعت ہوگی۔
کئی دہائیوں پر محیط عیدگاہ۔درگا مندر مذہبی تنازع کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورس ہائی الرٹ پر ہے۔جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے عیدگاہ اور اس کے اطراف کے حساس علاقوں میں اسٹیٹ ریزرو پولیس فورس اور بھاری پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ واضح رہےکہ عیدگاہ اور اطراف کا علاقہ طویل عرصے سے دو سماج کے درمیان شدید تنازع کا مرکز رہا ہے۔ عیدگاہ کی مشرقی سمت میں درگا دیوی کا مندر قائم ہے۔ ہندو تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ بنیادی طور پر تاریخی مندر تھا جبکہ مسلم برادری کا موقف ہے کہ یہ جگہ عیدگاہ کی ملکیت ہے۔
یہ حساس معاملہ فی الوقت ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے اور عدالت کے ’’جیسے تھے‘‘ کے احکامات کے باعث دونوں سماج اپنی مذہبی رسومات ادا کرتی آئی ہیں۔ تاہم قطعہ اراضی کی اصل ملکیت اور نوعیت کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ امسال ۲۸؍ مئی کو عیدالاضحی کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کیلئے انتظامیہ نے ایک درمیانی راستہ اختیار کیا ہے۔پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق عید کے دن مندر میں پوجا پاٹ تو روایتی طور پر جاری رہے گی لیکن امن عامہ کے پیشِ نظر ہندو عقیدت مندوں کو مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عید کے دن صرف مسلم سماج کے لوگوں کو عیدگاہ کے قریب مقررہ وقت پر نمازِ عید الاضحی ادا کرنے کیلئے داخلہ دیا جائے گا۔ نماز کے فوری بعد سال کے باقی ایام کیلئے وہاں کسی بھی قسم کی اسلامی عبادت پر پابندی کا قانون دوبارہ لاگو ہو جائے گا۔ پولیس انتظامیہ نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ شہر میں بھائی چارے اور امن کو برقرار رکھیں نیز کسی بھی ذرائع سے پھیلنے والی افواہوں پر بالکل یقین نہ کریں ۔عیاں رہے کہ۱۹۸۲ء میں شیو سینا لیڈر آنند دیگھے نےعیدین کی نماز کے دوران مندر میں جانے پر پابندی کے خلاف ’گھنٹہ ناد‘ تحریک شروع کی تھی جو روایتی طور پر آج تک جاری ہے۔