Updated: May 27, 2026, 7:02 PM IST
| Mumbai
فلم ساز زویا اختر نے اپنی پروڈکشن کمپنی ’’ٹائیگر بےبی فلمز‘‘ کے ممبئی دفتر میں ہونے والی چوری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’’اندرونی کام‘‘ تھا۔ مبینہ طور پر ۶۶؍ ہارڈ ڈسک چوری کی گئیں جن میں غیر ریلیز شدہ فوٹیج، پوسٹ پروڈکشن مواد اور دیگر حساس ڈیٹا موجود تھا۔ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
زویا اختر۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ کی معروف فلمساز زویا اختر نے اپنی پروڈکشن کمپنی ’’ٹائیگر بےبی فلمز‘‘ کے ممبئی دفتر میں ہونے والی بڑے پیمانے کی چوری کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’’اندرونی کام‘‘ قرار دیا ہے۔ زویا اختر نے بالی ووڈ ہنگامہ سے گفتگو میں کہا کہ ان کے دفتر سے ہارڈ ڈسک چوری کی گئی تھیں، جس کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی گئی اور بعد میں کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہاں، میرے دفتر میں چوری ہوئی ہے۔ ہارڈ ڈسک غائب تھیں۔ ہم نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور انہوں نے کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ یہ اندرونی کام تھا۔ افسوس ہوتا ہے کہ لوگ پیسے کیلئے کس حد تک جا سکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کم بجٹ ہارر فلم Obsession کی ہالی ووڈ میں دھوم، بجٹ ۷؍ کروڑ، کمائی ۸۰۰؍ کروڑ
فلمساز نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ چوری کے باوجود کمپنی کے پاس تمام اہم مواد کا بیک اپ موجود تھا، جس کی وجہ سے بڑے تخلیقی نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ ’’خوش قسمتی سے ہمارے پاس ہر چیز کی بیک اپ فائلیں موجود ہیں۔‘‘ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ۲۱؍ مئی کو اس وقت سامنے آیا جب دفتر کے عملے نے جاری فلمی اور اوٹی ٹی منصوبوں کیلئے درکار کئی ہارڈ ڈسک تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ دستیاب نہیں تھیں۔ بعد ازاں اندرونی جانچ میں معلوم ہوا کہ متعدد اسٹوریج ڈیوائسز دفتر سے غائب ہو چکی ہیں۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ تقریباً ۶۶؍ ہارڈ ڈسک مبینہ طور پر دفتر سے چرائی گئیں۔ یہ تمام ڈیوائسز ممبئی کے باندرہ میں واقع ٹائیگر بے بی کے دفتر سے غائب ہوئیں۔
پولیس حکام کے مطابق گمشدہ ڈیٹا میں غیر ریلیز شدہ فوٹیج، رف ایڈیٹس، پوسٹ پروڈکشن میٹریل، اشتہاری پراجیکٹس، آرکائیو فوٹیج، مکمل فلمیں اور بیک اپ فائلیں شامل تھیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق نقصان کی مالیت ۱۳؍ لاکھ روپے سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران دفتر سے ۱۰۰؍ سے زیادہ ہارڈ ڈسک غائب ہوئی ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے: لوور میوزیم کی ۱۰۰؍ ملین ڈالر ڈکیتی پر فلم اور دستاویزی سیریز بنے گی
پولیس نے اس کیس میں محمد شاہد عظیم خان (۲۸) کو اہم ملزم قرار دیا ہے، جو سانتا کروز کے واکولہ علاقے کا رہائشی اور دفتر میں آفس بوائے کے طور پر کام کرتا تھا۔ حکام کے مطابق خان ہارڈ ڈسک کی دیکھ بھال اور حفاظت کا ذمہ دار تھا۔ تفتیش کاروں نے الزام لگایا کہ اس نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران متعدد ہارڈ ڈرائیوز چرائیں اور بعد میں انہیں گرے مارکیٹ میں فروخت کیا۔ دوسرے ملزم کی شناخت رتیش سریش شاہ (۴۴) کے طور پر ہوئی ہے، جو بوریولی کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے مبینہ طور پر یہ ہارڈ ڈسک ۱۵؍ ہزار سے ۲۰؍ ہزار روپے فی ڈیوائس کے حساب سے خریدیں۔
دونوں ملزمان کے خلاف ہندوستانی قانون کی دفعہ ۳۰۶؍ کے تحت ملازم کی جانب سے چوری کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو ۲۹؍ مئی تک پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ ٹائیگر بے بی فلمز کو حالیہ برسوں میں ہندی فلم اور او ٹی ٹی انڈسٹری کے اہم پروڈکشن ہاؤسز میں شمار کیا جاتا ہے۔ کمپنی نے ’’کھو گئے ہم کہاں‘‘ میڈ اِن ہیون سیزن ۲‘‘ ’’دی آرچیز‘‘ ’’دہاڈ‘‘ اور ’’سپر بوائز آف مالیگاؤں‘‘ جیسے نمایاں پراجیکٹس کی پشت پناہی کی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فلم اور او ٹی ٹی انڈسٹری میں ڈجیٹل مواد کے تحفظ، ڈیٹا سیکوریٹی اور اندرونی رسائی کے نظام پر سوالات مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔