Updated: May 27, 2026, 6:04 PM IST
| Los Angeles
ہالی ووڈ کی کم بجٹ انڈی ہارر تھریلر ’’Obsession‘‘ (اوبسیشن) باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اس وقت سال کی سب سے بڑی سرپرائز ہٹ بن گئی ہے۔ صرف ۷؍ کروڑ روپے کے بجٹ میں بننے والی فلم نے اب تک ۸۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ کمائی کر لی ہے اور جلد ۱۰۰؍ ملین ڈالر کے ہندسے کو عبور کرنے کی توقع ہے۔ فلم کی ہدایتکاری ۲۶؍ سالہ سابق یوٹیوبر کوری بارکر نے کی ہے۔
بڑے بجٹ کی ہالی ووڈ فلموں ’’مائیکل‘‘، ’’پروجیکٹ ہیل میری‘‘، ’’دی ڈیول ویئرس پراڈا ۲‘‘ اور ’’دی سپر ماریو گیلیکسی مووی‘‘ کے درمیان ایک کم بجٹ اِنڈی ہارر فلم نے باکس آفس پر غیر متوقع طور پر سب کو چونکا دیا ہے۔ ’’اوبسیش‘‘ کے عنوان سے ریلیز ہونے والی اس آزاد ہارر تھریلر نے نہ صرف شائقین بلکہ انڈسٹری تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے، کیونکہ فلم اپنے انتہائی کم بجٹ کے مقابلے میں ۱۰۰؍ گنا سے زیادہ بزنس کی جانب بڑھ رہی ہے۔ فلم کی ہدایتکاری ۲۶؍ سالہ فلمساز کوری بارکر نے کی ہے، جو اس سے قبل یوٹیوب پر مواد تخلیق کرنے کیلئے جانے جاتے تھے۔ یہ ان کے کریئر کی دوسری فیچر فلم ہے۔ فلم میں مائیکل جان اسٹون اور انڈی نیوریٹ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: لوور میوزیم کی ۱۰۰؍ ملین ڈالر ڈکیتی پر فلم اور دستاویزی سیریز بنے گی
فلم ’’اوبسیشن‘‘ کو ۱۵؍ مئی کو امریکی سنیما گھروں میں ریلیز کیا گیا، ایسے وقت میں جب کئی بڑے اسٹوڈیوز کی بھاری بجٹ فلمیں بھی سنیما گھروں میں موجود تھیں، جن میں ’’مائیکل‘‘، ’’پروجیکٹ ہیل میری‘‘، ’’دی ڈیول ویئرس پراڈا ۲‘‘، ’’مورٹل کومبیٹ ۲‘‘ اور ’’گروگ اینڈ دی مینڈولورین‘‘ شامل تھیں۔ اس کے باوجود، فلم نے اسٹوڈیو کے ۸؍ ملین ڈالر کے ابتدائی تخمینے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپنے پہلے ہی ویک اینڈ میں ۲۰ء۱۷؍ ملین ڈالر کا شاندار بزنس کیا اور باکس آفس پر سرفہرست فلم بن گئی۔ رپورٹس کے مطابق فلم کا مجموعی بجٹ صرف ۷۵۰؍ ہزار ڈالر یعنی تقریباً ۷؍ کروڑ ہندوستانی روپے تھا، لیکن اب تک اس کی عالمی کمائی ۸۰؍ ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو تقریباً ۸۰۰؍ کروڑ روپے بنتی ہے۔ انڈسٹری ماہرین کے مطابق فلم اگلے ویک اینڈ تک ۱۰۰؍ ملین ڈالر یعنی تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کے ہندسے کو عبور کر سکتی ہے۔
یہ کامیابی فلم ’’اوبسیشن‘‘ کو حالیہ برسوں کی سب سے زیادہ منافع بخش فلموں میں شامل کر رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ گزشتہ ۱۷؍ برسوں میں پہلی ایسی فلم بن گئی ہے جس کا بجٹ ایک ملین ڈالر سے کم تھا اور اس نے امریکی باکس آفس پر نمبر ون پوزیشن حاصل کی۔ اس سے قبل یہ کارنامہ ۲۰۰۹ء میں ’’پیرانارمل ایکٹیوٹی‘‘ نے انجام دیا تھا۔ فلم کو ناقدین اور ناظرین دونوں کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی ہے۔ ۲۱۹؍ ناقدین کے جائزوں کی بنیاد پر فلم کا کریٹکس اسکور ۹۵؍ فیصد ہے، جبکہ ۵؍ ہزار سے زائد تصدیق شدہ ریٹنگز کے مطابق ناظرین کا اسکور ۹۴؍ فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’چنری چنری‘‘ ریمیک: ابھیجیت بھٹاچاریہ اور انو ملک کی تنقید
اسی طرح آئی ایم ڈی بی پر فلم کو ۳۳؍ ہزار سے زائد ووٹس کی بنیاد پر ۱۰؍ میں سے ۲ء۸؍ کی مضبوط ریٹنگ حاصل ہوئی ہے، جو ایک اِنڈی ہارر فلم کیلئے غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔ امریکہ میں ۱۵؍ مئی کو ریلیز ہونے کے بعد اب فلم ’’اوبسیشن‘‘ ۲۹؍ مئی کو ہندوستانی سنیما گھروں میں بھی نمائش کیلئے پیش کی جائے گی، جہاں اس کا مقابلہ فلم ’’دی گریٹ گرینڈ سپرہیرو‘‘ سے ہوگا، جس میں جیکی شروف اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم کی غیر متوقع کامیابی نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ مضبوط کہانی، ماحول اور ناظرین کے ساتھ جذباتی یا نفسیاتی تعلق قائم کرنے والی فلمیں اب بھی بڑے بجٹ اور اسٹار پاور پر بھاری پڑ سکتی ہیں۔