فینیکولر سروس اور پہاڑ پر زائرین کی محدود گنجائش انتظامیہ کیلئے بڑا چیلنج۔مقامی پولیس اور انتظامیہ نے سیکوریٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے۔
عرس کی تقریبات کے پیش نظر آج فینیکولر سروس صبح ۸؍ بجے سے شام ۴؍ بجے تک دستیاب ہوگی۔ تصویر: آئی این این
کوہ سیہادری پر واقع حضرت حاجی عبدالرحمٰن شاہ عرف حاجی ملنگ بابا کے عرس کی تقریبات کا آغاز ۳۰ ؍جنوری کو جھنڈے کی سلامی کے ساتھ ہوچکا ہے۔ پیر (آج)کی شب صندل کی تقریب منائی جائے گی۔ اس کے ساتھ بھگوا عناصر پالکی نکال کر مزار شریف کے اندر آرتی بھی کریں گے۔عرس کی تقریبات میں شرکت کیلئے ہزاروں زائرین کی آمد متوقع ہے۔ عقیدتمندوں کے اس اجتماع اور پہاڑی علاقے کی جغرافیائی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی پولیس اور انتظامیہ نے سیکوریٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے ہیں۔ حال ہی میں متعارف کرائی گئی فینیکولر روپ وے سروس اور پہاڑ پر زائرین کی محدود گنجائش، انتظامیہ کیلئے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے جس کے پیش نظر ٹریفک اور آمدورفت کے تعلق سے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق الہاس س نگر کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سچن گورے نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یاترا اور عرس کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے اور بھیڑ پر قابو پانے کیلئے ہل لائن پولیس اسٹیشن کی جانب سے خصوصی ناکہ بندی اور پیٹرولنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ۲ ؍فروری (آج) جو کہ عرس کا اہم ترین دن ہے، اس روز نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کیلئے چند اہم پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔انتظامیہ کے مطابق حاجی ملنگ پہاڑ کی چوٹی پر ایک وقت میں صرف ۸ ؍سے ۱۰ ؍ہزار افراد کی گنجائش ہے جبکہ زائرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اس لئے۲ ؍فروری کو فینیکولرسروس صرف صبح ساڑھے ۸ ؍بجے سے شام ۴ ؍ بجے تک زائرین کو اوپر لے جانے کیلئے دستیاب ہوگی۔ شام ۴؍بجے کے بعد اوپر جانے پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ اوپر موجود زائرین کو نیچے لانے کیلئے سروس مزید ۳ ؍گھنٹے جاری رہے گی۔ چچنے گاؤں سے حاجی ملنگ کی جانب آنے والی تمام نجی گاڑیوں کے داخلے پر روک لگا دی گئی ہے۔ صرف ایمرجنسی اور ضروری خدمات والی گاڑیوں کو ہی اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔زائرین کی سہولت کیلئے تل ہٹی (پہاڑ کے دامن) میں ایک وسیع پارکنگ زون بنایا گیا ہے۔ وہاں سے درگاہ کے قریب تک پہنچنے کیلئے خصوصی بس سروس کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ سڑکوں پر اژدہام نہ ہو۔
پولیس نے تمام زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور قوانین کی پاسداری کریں۔