شیوسینا (ادھوٹھاکرے) کے لیڈران نے۲؍دن تک ناسک، اگت پوری، سِنّر اور گھوٹی کے متعدد ہوٹلوں میں چھان بین کی لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔
کلیان میں ایک جگہ کارپوریٹروں کی گمشدگی کے پوسٹرچسپاں کئے جارہے ہیں۔ تصویر: انقلاب
گزشتہ ۱۰؍دن سے شیو سینا (ادھو ٹھاکرے ) کے کلیان کے۴؍ کارپوریٹر لاپتہ ہیں جن کی تلاش کیلئے پارٹی نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اسی کے تحت پارٹی کے کارکنان اور ذمہ داران نے گزشتہ ۲؍ دنوں کے دوران ناسک، اگت پوری، سِنّر اور گھوٹی کے مختلف علاقوں میں واقع متعدد ہوٹلوں کی چھان بین کی۔ تاہم اس وسیع تلاش کے باوجود ان کارپوریٹروں کا کوئی سراغ ہاتھ نہ لگ سکا۔ذرائع کے مطابق ان چاروں کارپوریٹروں کو تھانے کے ایک بااثر سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق کارپوریٹر کی مدد سے ناسک کے اطراف کسی خفیہ مقام پر رکھے جانے کی مصدقہ اطلاع منگل کی صبح شیوسینا (ادھوٹھاکرے ) کے کلیان کے عہدیداروں کو موصول ہوئی جس کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق شیوسینا( ادھو ٹھاکرے) کے ضلعی صدر شرد پاٹل اور سابق شہر پرمکھ سچن باسرے کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو ناسک، اگت پوری، سنر اور گھوٹی کے علاقوں میں خیمہ زن ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹیم نے درجنوں ہوٹلوں، ڈھابوں اور گیسٹ ہاؤس کی چھان بین کی ہے۔ معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اگت پوری کے قریب ’مانس ہوٹل‘ کے پیچھے گھنے جنگل میں واقع ایک پرتعیش ریسورٹ میں شیوسینا (شندے) کے ۵۳ ؍کارپوریٹروں کو سخت پہرے میں رکھا گیا ہے جہاں موبائل فون استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ادھو سینا کو شبہ ہے کہ ان کے چاروں لاپتہ ساتھی بھی اسی مقام پر قید ہیں۔
ایک طرف لاپتہ کارپوریٹروں کی تلاش جاری ہے تودوسری طرف کلیان شہر کے اہم چوراہوں پر ان کارپوریٹروں کی گمشدگی کے پوسٹرس چسپاں کر دیئے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی گمشدگی کے حوالے سے مہم تیز ہو گئی ہے۔ لاپتہ کارپوریٹروں میں ایڈوکیٹ کیرتی ڈھونے، مدھر مہاترے، راہل کوٹ اور سوپنالی کینے شامل ہیں۔
اس تعلق سے شیوسینا( شندے ) نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ برسر اقتدار گروہ کےلیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ کارپوریٹرس اپنی مرضی سے دیو درشن( مذہبی سفر) کیلئے گئے ہوں گے۔ لاپتہ کارپوریٹر مدھر مہاترے کے والد امیش مہاترے نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا بیٹا مذہبی سفر پر ہے اور اگلے ۲؍ روز میں واپس آ جائے گا۔ تاہم شیوسینا( ادھو ٹھاکرے) کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ کارپوریٹرس اپنی رکنیت منسوخ ہونے کے خوف سے واپس آنے کیلئے بے چین ہیں مگر انہیں سخت پہرے میں رکھا گیا ہے۔
اس واقعے نے کلیان اور تھانے کی سیاست میں تناؤ پیدا کر دیا ہے اور اب تمام نظریں ان کارپوریٹروں کی واپسی پر لگی ہوئی ہیں۔