لال جھنڈے اٹھائے ہزاروں مظاہرین نے اتوار کوناسک سے ’لانگ مارچ‘ کا آغاز کیا تھا، منگل کی صبح کسان تھانے پہنچے۔
آل انڈیا کسان سبھا (اے آئی کے ایس) کے لانگ مارچ کے شرکا ء کسارا سے گزرتے ہوئے۔ تصویر :پی ٹی آئی
مہاراشٹر کے ہزاروں کسان اور آدیواسی زمین کے حقوق اور دیگر مطالبات کو منوانے کیلئےناسک سے ممبئی کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔ اس دوران مہاراشٹر حکومت نےمنگل کو ان کے ایک نمائندہ وفد کو بات چیت کے لئے مدعو کیا ہے۔ یہ اطلاع مظاہرین کے ایک نمائندے نے دی۔
سابق رکن اسمبلی جے پی گاوت نے صحافیوں کو بتایا کہ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی( سی پی آئی ایم) سے وابستہ آل انڈیا کسان سبھا (اے آئی کے ایس) کی قیادت میں لال جھنڈے اٹھائے مظاہرین نے اتوار کو’لانگ مارچ‘ کا آغاز کیا تھا۔ اس سے قبل ناسک ضلع کی دنڈوری تحصیل دفتر کے باہر کیا گیا ان کا احتجاج کوئی ٹھوس یقین دہانی حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔
اس کے بعد انہوں نے اپنی مانگیں براہِ راست ریاستی حکومت تک پہنچانے کا فیصلہ کیا اور پیدل ممبئی کی جانب روانہ ہو گئے۔ انہوں نے اپنے احتجاج کے دوران ضروری کھانے پینے کی اشیاء، اناج، ایندھن کی لکڑی اور دیگر ضروری سامان کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔
جے پی گاوٹ نے بتایا کہ اس مارچ میں بڑی تعداد میں کسان شامل ہیں اور انہوں نے گزشتہ دو دنوں میں تقریباً ۶۰؍کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے اور منگل کی صبح کسارا گھاٹ سے نیچے اترنا شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب وہ ناسک سے نکل کر پڑوسی ضلع تھانے میں داخل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلسل اجتماعی کوششوں اور میڈیا میں مارچ کی تشہیر کی وجہ ہی سے ریاستی حکومت نے مظاہرین کے ایک نمائندہ وفد کو منگل کو ممبئی میں واقع منترالیہ میں بات چیت کیلئے مدعو کیا ہے۔ خبر لکھے جانے تک مظاہرین کا یہ وفد منترالیہ نہیں پہنچاتھا۔
گاوت نے کہا کہ یہ نمائندہ وفد وزیر اعلیٰ اور دیگر متعلقہ وزراء سے بات چیت کرے گا۔ اس وفد میں وہ خود،سی پی آئی ایم کے پولٹ بیورو رکن اور آل انڈیا کسان سبھا کے قومی صدر اشوک دھولے، کسان سبھا کے قومی سیکریٹری اجیت ناولے اور رکن اسمبلی ونود نکولے شامل ہیں۔
گاوت نے بتایا کہ ناسک کے کلکٹر آیوش پرساد کے ساتھ پہلے ہی ایک میٹنگ ہو چکی ہے جس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ مقامی مسائل کو ضلع سطح پر حل کیا جائے گا جبکہ ریاستی سطح کے مطالبات ممبئی میں اٹھائے جائیں گے۔