کلیان : ڈیوائڈر کی ریلنگ ٹوٹ جانے سے سڑک حادثہ کا خطرہ

Updated: January 14, 2020, 4:18 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کی حدود میں ٹریفک کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے ۔ اس کی متعدد وجوہات میں سے ایک شہر کے اہم راستوں پر موجود ڈیوائڈر کے خستہ حالی بھی ہے۔

ٹریفک اہلکاروں کو گری ہوئی ریلنگ کو بانس سے باندھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر : انقلاب
ٹریفک اہلکاروں کو گری ہوئی ریلنگ کو بانس سے باندھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر : انقلاب

کلیان : کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کی حدود میں ٹریفک کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے ۔ اس کی متعدد وجوہات میں سے ایک شہر کے اہم راستوں پر موجود ڈیوائڈر کے خستہ حالی بھی ہے۔اس کے ٹوٹ جانے سے موٹر سائیکل ، رکشا اور کارچلانے والے ڈرائیور کہیں سے بھی یو ٹرن لینے لگے ہیں جس سے مصروف اوقات میں ٹریفک جام ہو نے لگا ہے۔ اس مسئلہ کو حل کر نے کی ذمہ داری مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( ایم ایس آر ڈی سی) اورکے ڈی ایم سی کی ہے لیکن دونوں محکموں کی لاپروائی اور عدم توجہی کا خمیازہ شہر یوں کو ٹریفک جام میں پھنس کر اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس مسئلہ سے عار ضی طور پر نمٹنے کیلئے ٹریفک اہلکار وں نے خستہ حال اور  ہوئی ڈیوائڈر کی ریلنگ کو در میان سے بانس سے با ندھنے کی کوشش کی  ہے۔
تین سال قبل مودی سر کار نے کلیان کو اسمارٹ سٹی کی فہرست میں شامل کیا تھا جس کے بعد ایک کوریائی کمپنی نے شہر کے ٹریفک نظام کو اعلیٰ درجہ کا بنانے کیلئے ایک پر وجیکٹ پیش کیا تھا جس سے نہ صرف شہر کی سڑ کیں کشادہ ہو جائے گی بلکہ ٹریفک جام کا مسئلہ بڑی حد تک حل بھی ہو جائے گا لیکن ۳؍ سال کا طویل عرصہ گزر نے کے بعد پروجیکٹ صرف کاغذتک ہی محدود ہے ۔عملی طور پر ابھی تک حالات جوں کے توں بر قرار ہے۔
  در گاڑی چوک سے پتری پل تک جانے والی اہم سڑ ک کے درمیان نصب لوہے کی ریلنگ زنگ لگنے سے متعدد جگہوں پر ٹوٹ ہو چکی ہے ۔ بیل بازار، کے سی گاند ھی اسکول ، سجا نند چوک اور لال چوکی پر نصب ڈیوائڈر کی ریلنگ کے ٹوٹ جانے سے موٹر سائیکل سوار اور رکشا ڈرائیور یو ٹرن لینے کیلئے گھو م کر آنے کےبجائے ٹو ٹے ہو ئے ڈیوائڈر کے در میان سے گزرتے ہیں جس سے نہ صرف حادثہ کا خطرہ بڑ ھ جاتا ہے بلکہ ٹریفک نظام بھی در ہم بر ہم ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ڈیوائڈر کی در ستگی کی ذمہ داری ایم ایس آر ڈی سی اور شہر ی انتظامیہ دونوں کی ہے لیکن اس جانب کوئی تو جہ نہ دینے سے محکمہ ٹریفک کے اہلکاروں کو کافی دقتوں کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ اس مسئلہ سے عار ضی طور پر نمٹنے کیلئے محکمہ ٹریفک کے انچارج سکھ دیو پاٹل نے ایک انوکھی تر کیب نکالی اور جن جگہوں پر ڈیوائڈر کی ریلنگ ٹوٹی ہوئی تھیں وہاں بانسباند ھ کر انہیں جوڑ دیا تا کہ کم ازکم کوئی موٹر سائیکل سوار اور رکشا ڈرائیور در میان سے گزر نہ سکیں۔حالانکہ کچھ گاڑی والوں نے بانس کو توڑ کر دوبارہ راستہ بنالیا ہے ۔یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ ایم ایس آر ڈی سی بڑی اور ہیوی گاڑیوں سے ٹول بھی وصول کر تا ہے اس کے باوجود سڑ ک کی دیکھ بھا ل اور مر مت میں جان بوجھ کر کوتاہی بر تی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK