ووٹر لسٹو ں کی خصوصی جامع نظر ثاتی(ایس آئی آر) مہم کے تحت کلیان (مغرب) اسمبلی حلقے میں ووٹر لسٹ کی درستگی کا عمل سست روی کا شکار نظر آ رہا ہے۔
EPAPER
Updated: September 20, 2026, 1:04 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
ووٹر لسٹو ں کی خصوصی جامع نظر ثاتی(ایس آئی آر) مہم کے تحت کلیان (مغرب) اسمبلی حلقے میں ووٹر لسٹ کی درستگی کا عمل سست روی کا شکار نظر آ رہا ہے۔
ووٹر لسٹو ں کی خصوصی جامع نظر ثاتی(ایس آئی آر) مہم کے تحت کلیان (مغرب) اسمبلی حلقے میں ووٹر لسٹ کی درستگی کا عمل سست روی کا شکار نظر آ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف حلقے کے کُل۴؍لاکھ ۶۳؍ ہزار۱۴۳ووٹرس میں سےایک لاکھ ۹۷؍ہزار ۴۷۲؍ افراد کے نام ڈرافٹ لسٹ سے خارج کر دئیے گئے ہیں وہیں دوسری جانب جن شہریوں کے نام فہرست میں شامل ہیں مگر ان کے دستاویزات میں تکنیکی یا تصدیقی خامیاں پائی گئی ہیں انہیں باضابطہ نوٹس جاری کرنے کا عمل اب تک باقاعدہ شروع نہیں ہو سکاہے۔ حالانکہ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب اعلان کیاگیا تھاکہ ۳۱؍ اگست سے نوٹس دینے اور سماعت کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا اور جو ۲۹؍ اکتوبر تک چلے گا۔
پیر سے نوٹس دینے کی یقین دہانی
نوٹس دینے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جب کلیان بھیونڈی لوک سبھا گروپ ( بی کے ایل جی) کے وفد نے الیکشن کمیشن کے ہیلپ ڈیسک سے رجوع کر کے نوٹس جاری نہ کرنے سے متعلق استفسار کیا تو متعلقہ افسرنے یقین دہانی کرائی کہ پیر سے باضابطہ نوٹس دینے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
ووٹرس بیداری مشن سے وابستہ تنظیم کے بی کے ایل جی کی ٹیم کے سنیچر کو کلیان مغرب(۱۳۸ ؍اسمبلی حلقہ) کے انتخابی دفتر کے دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈرافٹ لسٹ میں نشاندہی کئے گئے ووٹرس کو ۲؍ اہم زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے جن پر محکمہ انتخاب کی جانب سے نوٹس جاری کئے جائیں گے۔
ریکارڈ میں عدم مطابقت والا زمرہ
اس زمرے میں وہ رائے دہندگان شامل ہیں جن کے ۲۰۰۲ء کے پرانے ریکارڈ اور موجودہ انتخابی تفصیلات کے مابین تکنیکی فرق پایا گیا ہے۔
سابقہ ریکارڈ کی عدم دستیابی والا زمرہ
اس کیٹیگری میں ایسے شہریوں کوشامل کیا گیا ہے جن کا ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ سے کوئی ربط یا مطابقت (میپنگ) نہیں مل سکی یا جن کا سابقہ تصدیق ریکارڈ پیش نہیں ہو سکا۔ اس بارے میں بی کے ایل جی کے رکن عباد شملے نے بتایا کہ مذکورہ زمروں میں آنے والے ووٹرس کو ۲۱؍ ستمبر سے الیکشن کمیشن کی جانب سے باقاعدہ نوٹس موصول ہونا شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔ مذکورہ تنظیم کے ذمہ داروں نے شہریوں کو مطلع کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ اگر کسی ووٹر کو ایسا کوئی نوٹس موصول ہو تو وہ ہرگز پریشان یا ہراساں نہ ہوں۔ نوٹس میں درج ہدایات اور اعتراضات کو غور سے پڑھیں اور اپنے دعوے یا درستگی کے ثبوت کے طور پر متعلقہ دستاویزات تیار رکھ کر بروقت الیکشن حکام کے سامنے پیش کریں۔
نوٹس آیا یا نہیں کیسے چیک کریں
بی کے ایل جی کے رکن عامر خان نے بتایا کہ اگر کسی کو نوٹس جاری ہو تو اس کی تفصیل
https://voters.eci.gov.in
ویب سائٹ پر دیکھ سکتا ہے۔ سب سے پہلے اس ویب سائٹ پرجائیں اور
Submit Document Against Notice issued
پر کلک کریں۔ اس کے بعد اپنا ووٹر شناختی نمبر درج کریں۔ اگر نوٹس جاری ہوا ہوگا تو تفصیلات سامنے آجائیں گی ورنہ نوٹس نہ ہونے کی اطلاع اسکرین پر آ جائے گی۔
اس تعلق مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم سے استفسار کرنے پر انہوں نے بتایاکہ نوٹس الیکشن آفسران کو جاری کر دیئےگئے ہیں البتہ بی ایل او کی سطح پر انہیں ڈاؤن لوڈ کرنے کا عمل جاری ہے۔