بی ایم سی یکم اکتوبر سے ۳۱؍ دسمبر تک خصوصی مہم چلائے گی جس میں ۱۴؍ فٹ اور اس سے زیادہ اونچی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بی ایم سی نے کہا ہے کہ متذکرہ تاریخ سے پہلے ہی ان غیرقانونی تعمیرات کو خالی کردیا جائے بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔
بی ایم سی کمشنر اشوینی بھیڈے۔ تصویر: آئی این این
بی ایم سی یکم اکتوبر سے ۳۱؍ دسمبر تک خصوصی مہم چلائے گی جس میں ۱۴؍ فٹ اور اس سے زیادہ اونچی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بی ایم سی نے کہا ہے کہ متذکرہ تاریخ سے پہلے ہی ان غیرقانونی تعمیرات کو خالی کردیا جائے بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔
اگرچہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ ان غیرقانونی تعمیرات اور ان کے مالکان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی تاہم سنیچر کو جاری کئے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جن افراد نے اپنی تعمیرات کو بلا اجازت اور غیرقانونی طور پر ۱۴؍ فٹ تک یا اس سے زیادہ اونچا بنا رکھا ہے وہ متذکرہ تاریخوں سے قبل اس جگہ کو خالی کردیں، ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
شہری انتظامیہ کے مطابق بی ایم سی افسران نے وارڈ کی سطح پر پہلے ہی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں شروع کردی ہیں تاہم یکم اکتوبر سے بی ایم سی کمشنر اشوینی بھیڈے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) پراجکتا ورما۔ لوانگرے اور جوائنٹ کمشنر (ویجیلنس) دیویندر سنگھ کی رہنمائی میں خصوصی مہم چلائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں تصحیح اور منسوخی کے عمل میں سختی
بی ایم سی کے ذریعہ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق شہر و مضافات میں کُل ۲؍ لاکھ ۲۳؍ ہزار ۱۵۰؍ جھوپڑ یاں آباد ہیں۔ ان میں سے ۳۹؍ ہزار ۱۱۱؍ جھوپڑے ۱۴؍ فٹ یا اس سے زیادہ اونچے ہیں۔ ان میں سے بھی ۳؍ ہزار ۳۴۸؍ جھوپڑے ممبئی شہر میں آباد ہیں۔ دیگر ۴؍ ہزار ۵۳۶؍ مغربی مضافات اور باقی ۳۱؍ ہزار ۲۲۷؍ جھوپڑے مشرقی مضافات میں واقع ہیں۔ یہ اعدادو شمار اس وقت ہیں جبکہ ۴؍ ہزار ۵۸۴؍ غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا جاچکا ہے۔ بی ایم سی نے ۲۴؍ اگست سے ۱۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کے درمیان کُل ۱۲۸؍ غیرقانونی تعمیرات کی خلاف کارروائی کی ہے جبکہ دیگر ۱۴۰؍ مزید ایسی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا منصوبہ تیار ہے۔ ۶۱۱؍ غیرقانونی تعمیرات کو پہلے ہی نوٹس جاری کئے جاچکے ہیں۔ شہری انتظامیہ نے ۱۴؍ فٹ اور اس سے زیادہ اونچی غیرقانونی تعمیرات کے مالکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ ڈھانچوں کو فوری طور پر خود ہی خالی کردیں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کارروائیوں کے درمیان شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ غیرقانونی تعمیرات نہ کریں اور اگر تعمیر کی جاچکی ہے تو اسے خود ہی خالی کردیں یا پھر کارروائی کیلئے تیار رہیں۔
اگرچہ بی ایم سی نے کارروائی کی نوعیت نہیں بتائی ہیں تاہم عام حالات میں غیرقانونی تعمیرات کو خالی کرکے انہیں منہدم کردیا جاتاہے اور ضرورت پڑنے پر مالکان کے خلاف فوجداری مقدمہ بھی درج کرایا جاتا ہے۔