Inquilab Logo Happiest Places to Work

یکم مئی سے رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی جاننا لازمی

Updated: April 15, 2026, 1:06 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک کے مطابق مہاراشٹر میں رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کرتے وقت مراٹھی سےواقفیت کا قانون پہلے سے موجود ہے۔

There Is A Fear That A Large Number Of Rickshaw And Taxi Drivers Will Have Their Licenses Cancelled. Photo:INN
بڑی تعداد میں رکشااور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لائسنس منسوخ ہونے کا خدشہ ہے۔ تصویر:آئی این این
 وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ یکم مئی، جسے یوم مہاراشٹر اور یوم مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے، سے ریاست میں اس قانون پر سختی سے عمل کیا جائے گا جس کے تحت رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو مراٹھی لکھنا اور پڑھنا آنا لازمی ہے اور جن ڈرائیوروں کو مراٹھی نہیں آتی ان کے لائسنس منسوخ کردیئے جائیں گے۔
پرتاپ سرنائیک نے اس تعلق سے کہا ہے کہ یہ قانون پہلے سے نافذ ہے کہ جس وقت ’موٹر ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ‘ کی طرف سے کسی کو ٹیکسی یا رکشا چلانے کا لائسنس جاری کیا جارہا ہو اس وقت اسے مراٹھی زبان لکھنے اور پڑھنے آنا چاہئے البتہ اب تک ممبئی اور اطراف کے علاقوں میں اس پر سختی سے عمل نہیں ہورہا تھا۔ اس قانون پر اب سختی سے عمل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن، چھتر پتی سمبھاجی نگر اور ناگپور جیسے شہروں سے ایسی بہت سی شکایتیں موصول ہورہی تھیں کہ لائسنس یافتہ ڈرائیوروں کو مراٹھی میں گفتگو کرنی نہیں آتی۔ 
ان کے مطابق ان شکایتوں کے پیش نظر اس قانون کو سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کیلئے موٹر ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے ۵۹؍ ریجنل اور سب ریجنل دفاتر پر لائسنس کی جانچ کی مہم چلائی جائے گی تاکہ اس بات کی تصدیق کی جاسکے کہ متعلقہ ڈرائیور کو مراٹھی آتی ہے یا نہیں۔ جنہیں مراٹھی نہیں آتی ان کے لائسنس منسوخ کردیئے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’’ہم جس خطے میں کاروبار کے لئے رہتے ہیں اس کی زبان سیکھنا ہر ایک کا فرض ہے۔ اپنی مادری زبان پر فخر کرنا جتنا ضروری ہے دوسری ریاستوں میں کاروبار کرتے ہوئے اس ریاست کی زبان کا احترام کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔‘‘
ٹرانسپورٹ منسٹر نے یہ بھی وارننگ دی ہے کہ جو ٹرانسپورٹ کے اہلکار قواعد کو نظر انداز کرکے غلط طریقہ سے لائسنس جاری کرتے ہیں ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس فیصلے کے تعلق سے جب انقلاب نے مدنپورہ کے ٹیکسی ڈرائیور اسلم عبدالباری سے گفتگو کی تو انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت میری عمر ۶۱؍ سال ہے اور میں نے ۸۲۔۱۹۸۱ء میں دسویں کا امتحان پاس کیا تھا۔ اس وقت ۹؍ویں اور ۱۰؍ ویں میں مراٹھی پڑھائی ہی نہیں جاتی تھی حتیٰ کہ پونے بورڈ کی میری دسویں کی مارک شیٹ پر مراٹھی مضمون ہے ہی نہیں۔‘‘ 
 
 
انہوں نے مزید کہا کہ ’’جس وقت ہم اسکول میں تھے اس وقت آٹھویں تک مراٹھی پڑھائی جاتی تھی لیکن اس کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی اور ۱۹۸۴ء کے بعد مراٹھی کو دسویں کلاس میں لازمی قرار دیا گیا۔ اگرچہ میں ٹوٹی پھوٹی مراٹھی جانتا ہوں لیکن روانی سے مراٹھی نہیں بول سکتا۔ اس عمر میں مراٹھی سیکھنے کیلئے اسکول بھی نہیں جاسکتا۔ حکومت کو متذکرہ حالات کا  لحاظ کرتے ہوئےہم جیسے ڈرائیوروں کا خیال رکھنا چاہئے۔‘‘
ان کے مطابق اب چھوٹی کلاس سے مراٹھی پڑھائی جاتی ہے تو ان کیلئے اس زبان کو سیکھنا آسان ہے تو نئی نسل کیلئے اس طرح کا قانون نافذ کیا جائے تو ٹھیک ہے۔
 
 
میرا روڈ کے نیا نگر میں رہنے والے رکشا ڈرائیور ۸۵؍ سالہ محمد کلیم وارث علی سلمانی نے اس تعلق سے کہا کہ ’’ہم لوگ برسوں سے ممبئی میں رہتے ہیں اور میں تقریباً ۱۴؍ برسوں سے میرا روڈ میں رکشا چلا رہا ہوں اس لئے مجھے کچھ حد تک مراٹھی آتی ہے۔ اگر کوئی گاہک مراٹھی بولنے والا آجائے تو ڈرائیور کو اس زبان کی کچھ تو سمجھ ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ راستوں پر کئی مقامات پر علاقوں کے نام انگریزی یا مراٹھی میں لکھے ہوتے ہیں اگر ڈرائیور ان زبانوں کو نہیں جانے گا تو منزل پر پہنچنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ جو ڈرائیور اس زبان سے بالکل نابلد ہیں ان کیلئے پریشانی ہوسکتی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK