• Tue, 27 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کن گائوں پتھرائومعاملہ: ۱۶؍ افراد گرفتار ،۳۱؍ اکتوبر تک پولیس کسٹڈی کے احکامات

Updated: October 27, 2026, 3:29 PM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon

۴۴؍ نامزد سمیت دیگر۴۰تا ۵۰ ؍ نا معلوم مرد و خواتین کے خلاف کیس درج کیا گیا، اے پی سی آر اور ایکتاسنگھٹن نے ملزمین کو قانونی مدد فراہم کی۔

Police personnel can be seen stationed near the Sunni Jamia Masjid in Kun village. Photo: INN
کن گاؤں میں سنی جامع مسجد کےپاس تعینات پولیس اہلکار دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

ضلع کےکن گائوں میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کے جلوس (پتھ سنچلن )کے روٹ کے معاملے میں دو الگ الگ فرقوں میں تنازع کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔فی الحال  بیاول کے کن گاؤں میں بگڑنے والے حالات پر پوری طرح سے کنٹرول پالینے کے بعد پولیس کی جانب سے کن گائوں میں روٹ مارچ بھی نکالا گیا۔ نیز متاثرہ علاقے میں اب بھی پولیس اہلکارتعینات ہیں۔ 

اس معاملے میں ۴۴؍ نامزد افرادسمیت دیگر۴۰؍تا۵۰؍ نا معلوم مرد و خواتین کے خلاف بیاول پولیس اسٹیشن کے پولیس سب انسپکٹر انیل مہاجن کی شکایت پر کیس درج کیا گیا ہے۔ گرفتارکئے گئے ۱۶؍ افراد کو پیر کی دوپہر ساڑھے تین تا پونے چار بجے کے درمیان میں بیاول کورٹ میںپیش کیا گیا ۔انہیں عدالت نے ۳۱؍ اکتوبر تک پولیس کسٹڈی کے احکامات دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بھیما شنکر میں درختوں کی کٹائی کیخلاف ناراضگی بڑھی

اس معاملے میں بیاول پولیس نے پتھراؤ اور فساد کے الزام میں کیس درج کرکے ہارون نصیر پنجاری ،اکشے سنتوش ساڑونکھے ،بھوشن شیواجی ساڑونکھے ،عرفان خان شیر خان ،عظیم شیخ کلیم ،الطاف کڑو پنجاری ،کلیم شکیل پنجاری ، آصف مشتاق کھاٹک ،سمیر خان شکیل خان ،وسیم خان ایوب خان ،ریاض راجو تڑوی ،ریحان اقبال فقیر ،سمیر خان یونس خان ،شیخ جاوید شیخ کلیم ،عمران فاروق باگوان ،رحیم شاہ رمضان شاہ فقیر ان۱۶؍ افراد کو گرفتار کیا  ہے جبکہ کچھ کو مفرور قرار دیا ہےاور کی تلاش جاری ہے۔ پیر کے روز گرفتار شدگان کو بیاول کورٹ میں پیش کیا گیا تو یہاں اے پی سی آر اور ایکتا سنگھٹن جلگائوں نےایڈوکیٹ خالدشیخ ، ایڈوکیٹ وودو شیخ بیاول ،ایڈوکیٹ معید شیخ جیسے وکلا ء کی ٹیم کو ساتھ لے کرجرح میں حصہ لیا ۔ حاصل کردہ اطلاعات  کے مطابق کم و بیش ایک گھنٹے  تک کورٹ میں بحث و مباحثہ ہوا۔ گرفتار شدگان کی پولیس نے سات روز کی کسٹڈی مانگی تھی۔  یاد رہے کہ اتوار کی صبح بیاول تعلقے کے کن گائوں میں آر ایس ایس کارکنان کے جلوس کے روٹ پر اعتراض کیا گیاتھا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ اب تک اس علاقے سے کبھی آرایس ایس کارکنان کا مارچ نہیں گزرا ہے،یہ بھی کہا گیا کہ تقریباً چھ سال سے تو آر ایس ایس کی مقامی یونٹ نے کوئی جلوس نہیں نکالا ہے تو پھر اس بار جان بوجھ کر کیوں اِدھر سے گزرنے پر اصرار کیا جارہا ہے۔ علاقے کے مرد و خواتین نےاسی سبب پرامن طریقے سے احتجاج کرتے ہوئے راستہ بند کر دیا  اور مطالبہ کہ وہ اس راستے سے سنگھ کاجلوس( پتھ سنچلن) گزرنے نہیں دیں گے۔پولیس کے ذریعے طاقت کا استعمال کیے جانے کے بعد سنگھ کا جلوس گزرا۔ تاہم الزام ہے کہ جلوس پر کسی نے پتھرائو کیا ۔جس میں ایک پولیس حولدار پرُشوتم پاٹل سمیت ،پولیس سب انسپکٹر سنیل مہاجن ،پولیس اہلکار سنیل پاٹل ،آر سی بی پولیس جوان دانش تمبولی ،پر ساد گائیکواڑ ،گیانیشور پاٹل اور آر  ایس ایس کے ضلع پرچارک سورومتفلکر زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK