آدتیہ ٹھاکرے نے علاقے کا دورہ کیا، مہایوتی حکومت پر جانبداری برتنے کا الزام لگایا،کہا کہ اس کے خلاف لڑائی جاری رہے گی۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 3:26 PM IST | Inquilab News Network/Agency/ Saeed Ahmed Khan | Mumbai
آدتیہ ٹھاکرے نے علاقے کا دورہ کیا، مہایوتی حکومت پر جانبداری برتنے کا الزام لگایا،کہا کہ اس کے خلاف لڑائی جاری رہے گی۔
رائے گڑھ ضلع کے کرجت میںواقع بھیما شنکر پہاڑی سلسلے اور سائی پہاڑی کے پاس درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کے خلاف عوامی ناراضگی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے کارکنوں اور تنظیموں کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے اس کٹائی کی مذمت کی جارہی ہے۔ یہاں ٹورینٹ پاور کے ۳؍ہزار میگا واٹ والے مجوزہ پن بجلی منصوبے کے لئے۶۰۰؍ ایکڑ جنگلاتی اراضی پر موجود۳۲؍ ہزار سے زائد درختوں کو کاٹنے کی تجویز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
شیوسینا (یوبی ٹی ) لیڈر آدتیہ ٹھاکرے کا دورہ
بھیما شنکر علاقے میں ہزاروں بڑے درختوں کو کاٹ دیا گیا ہے، جس کے باعث عوامی غصہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ اسی پس منظر میں شیو سینا (یوبی ٹی) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے پیر کے روز علاقے میں درختوں کی کٹائی کے مقام کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اپنے کارکنان اور وہاں اکھٹا ہونے والے مقامی افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’چاہے جان چلی جائے، لیکن اب یہ لڑائی نہیں رکے گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آئی آئی ٹی بامبے، ساحل واکوڑے کی موت: ۸۴؍ تنظیموں کا ڈائریکٹر کے استعفے کا مطالبہ
آدتیہ ٹھاکرے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا، ’’آپ میگاواٹ، میگاواٹ کی بات کر رہے ہیں، لیکن یہاں تو آپ ماحولیات کو تباہ کرنے کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ کمپنی کون سی ہے؟ گجرات کی۔ خشک سالی کا اعلان کرنے کے بعد اب یہاں درختوں کی کٹائی کرکے فرنویس یہاں بھی خشک سالی کا اعلان کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ کام بی جے پی کے مالکانہ مفادات رکھنے والی کمپنیوں کو دیا جا رہا ہے۔ آپ کو چیک بھی دیے جائیں گے۔ وہ اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ کو خریدتے ہیں، تو آپ کی کیا حیثیت ہے؟ تباہی مچا کر ترقی نہیں کی جا سکتی۔‘‘ وزیر اعلیٰ پر سوال اٹھاتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا، ’’شفافیت آپ کا پسندیدہ لفظ ہے۔ اب شفاف طریقے سے بتائیے کہ عوامی سماعت ہوئی تھی یا نہیں؟ اس منصوبے کے متبادل کیا مقرر کیے گئے تھے؟ عوامی سماعت کے دوران جو اعتراضات اٹھائے گئے تھے، ان کا کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہم مہاراشٹر کی زمین فروخت نہیں ہونے دیں گے۔ چاہے جان چلی جائے، لیکن یہ لڑائی رکنی نہیں چاہیے۔‘‘ مقامی افراد کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا، ’’آپ کو مبارک ہو کہ آپ نے درختوں کی کٹائی رکوائی۔ آپ بھی یہاں چپکو تحریک چلائیے۔ جو لوگ درخت کاٹنے آئیں، انہیں روک کر واپس بھیجئے۔ ہمیں اپنے جنگلات کو ہاتھ نہیں لگانے دینا چاہیے۔‘‘
’’ شیواجی مہاراج کے سہیا دری کو بچاؤ‘‘
اے بی پی ماجھا کی رپورٹ کے مطابق کرجت میں ٹورینٹ پاور کے منصوبے کے خلاف درختوں کی کٹائی کے مقام پر واقع سائی پہاڑی علاقے کی جانب آدتیہ ٹھاکرے کا قافلہ روانہ ہوا۔ ان کے ساتھ شیو سینا کی نائب لیڈر سشما اندھارے، رکن پارلیمنٹ سنجے راوت اور امباداس دانوے بھی موجود تھے۔اسی دوران ایک نوجوان اپنی موٹر سائیکل پر آدتیہ ٹھاکرے کے قافلے میں داخل ہوا اور نعرے بازی کرنے لگا۔ اس نوجوان کے ہاتھ میں موجود پوسٹر نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔نوجوان نے ’’شیواجی مہاراج کے سہیا دری کو بچاؤ‘‘ کے پیغام والا پوسٹر اٹھا رکھا تھا اور وہ اپنی موٹر سائیکل پر قافلے کے ساتھ سائی پہاڑی علاقے میں پہنچا۔
بھیما شنکر جنگل بچانے کیلئے ’دھاراوی بچاؤ آندولن‘ بھی متحرک،ماحولیات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہرکیا
مہاراشٹر حکومت نے کرجت کے بھیماشنکر نام کا جنگل گجرات کی کمپنی ٹورینٹ کے حوالے کر دیا ہے، کمپنی نے منصوبے کے تحت درختوں کی کٹائی بھی شروع کر دی ہے۔ یہ کافی بڑا اور گھنا جنگل پانی کی سپلائی کا اہم ذریعہ ہے، اس میں ایک جھیل اور ایک ڈیم بھی شامل ہے جس کی مدد سے ممبئی اور تھانے کے مختلف علاقوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ ان تفصیلات کے ساتھ دھاراوی بچاؤ آندولن نے شہریوں اور مقامی ذمہ داران کو متوجہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی۔ دھاراوی بچاؤ آندولن کے فعال رکن کامریڈ نصیرالحق نے کہا کہ جنگل کاٹے جانے سے ممبئی اور تھانے کو پانی حاصل کرنے سے روک دے گا۔ اس جنگل میں مختلف اقسام کے حشرات الارض بھی موجود ہیں ، ان کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔ یہاں۵۰؍ ہزار سے زیادہ درخت ہیں۔ ان کو کاٹنے سے سنگین ماحولیاتی بحران پیدا ہو جائے گا اور ممبئی شہر صاف ہوا سے محروم ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کرجت کے لوگوں نے جنگل ، درخت اور جانوروں کو بچانے کے لئے متحدہ تحریک شروع کی ہے۔ ہم ممبئی والوں اور تھانے کے شہریوں کو ان میں شامل ہونا چاہئے، آئیے اس مہم کا حصہ بنیں۔
یہ بھی پڑھئے:’ ای سی آئی نیٹ‘ کے تعلق سے الیکشن کمیشن کی رازداری پر اپوزیشن کی تنقیدیں
کامریڈ نصیرالحق ٹورینٹ کمپنی کے ذریعے بی جے پی کو بڑا مالی حاصل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسی کے عوض یہ جنگل اسے دیا گیا ہے۔ ایسے میں ہر شہری کو یہ سوچنا ہے کہ ماحولیات کا تحفظ خود اس کی ذمہ داری ہے، اس لئے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اور اپنے اور اپنے بچوں کی بہتر اور صاف ستھرے اور خوش گوار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مہم کا حصہ بنیں اور آواز بلند کریں۔
بھیما شنکر معاملہ : اڈانی گروپ کو تردید کرنی پڑی،ہمارا کوئی تعلق نہیں
بھیما شنکر جنگل کے اطراف درختوں کی کٹائی اور لوگوں کی بے دخلی سے متعلق سوشل میڈیا پر کیے جانیوالے دعوؤں کی تردید کی ہے۔ گروپ نے ان دعوؤں کو جھوٹا، گمراہ کن اور من گھڑت قرار دیا ہے۔اڈانی گروپ کے ترجمان نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دکھائی گئی درختوں کی مبینہ کٹائی اور لوگوں کی بے دخلی کو اڈانی گروپ سے جوڑنا بالکل غلط ہے۔گروپ اس علاقے میں یا اس کے آس پاس کوئی پروجیکٹ نہیں ہے۔
ماحولیاتی تنظیمیں اور کارکن چراغ پا
الہاس ندی بچاؤ کریتی سمیتی، شہید دلیپ کپوٹے فاؤنڈیشن اور مقامی گاؤں والوں نے درختوں کی اس بڑے پیمانے پر کٹائی کی سخت مخالفت کی ہے۔عرضی گزاروں نے نیشنل گرین ٹریبونل(این جی ٹی ) اور محکمۂ ماحولیات سے مطالبہ کیا ہے کہ درختوں کی کٹائی پر فوری روک لگائی جائے ۔ مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کے جنگلی حیات پر پڑنے والے اثرات سے متعلق مطالعہ (وائلڈ لائف امپیکٹ اسٹڈی)، ماحولیاتی اثرات کا جائزہ اور بازآبادکاری سے متعلق معلومات عوام کے سامنے پیش کی جائے۔