Updated: July 29, 2026, 1:06 PM IST
| Mumbai
سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد مغربی بنگال اور مہاراشٹر کی حکومتوں نے بھی اعلان کیا ہے کہ CJP اور امتحانی اصلاحات سے متعلق احتجاج میں شریک طلبہ اور دیگر مظاہرین کے خلاف مزید زبردستی یا جابرانہ کارروائی (Coercive Action) نہیں کی جائے گی، تاہم جن افراد کے خلاف سنگین مجرمانہ مقدمات یا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ملک بھر میں طلبہ مظاہرین کے خلاف مزید جابرانہ کارروائی نہ کرنے کی ہدایت کے بعد مغربی بنگال اور مہاراشٹر نے بھی اعلان کیا ہے کہ پرامن احتجاج میں شریک افراد کے خلاف مزید Coercive Action نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ان ریاستوں نے بہار اور آسام کی حکومتوں کی پالیسی اختیار کر لی ہے، جنہوں نے پہلے ہی مظاہرین کے خلاف کارروائیاں روکنے اور بعض مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ اسکرول کے مطابق مغربی بنگال حکومت نے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کا مکمل احترام کیا جائے گا اور ایسے مظاہرین کے خلاف کوئی جابرانہ اقدام نہیں ہوگا جن کا کوئی مجرمانہ پس منظر نہیں ہے۔ تاہم جن افراد پر سنگین جرائم کے مقدمات درج ہیں یا جن کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے: کل ملک کی تین ریاستوں میں تین اسمبلی حلقوں کیلئے ضمنی انتخابات، تیاریاں مکمل
اسی طرح مہاراشٹر حکومت نے بھی عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں پولیس کو ہدایت دی ہے کہ احتجاج میں شریک افراد کے خلاف مزید سخت اقدامات سے گریز کیا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج میں حصہ لینے والے طلبہ کو غیر ضروری قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جبکہ قانون شکنی یا دیگر قابلِ تعزیر جرائم کے معاملات اپنی قانونی حیثیت کے مطابق نمٹائے جائیں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز سپریم کورٹ نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ مظاہرین کے خلاف مزید جابرانہ کارروائی نہ کی جائے، گرفتار نابالغوں کو فوری رہا کیا جائے اور احتجاج کے دوران جمع کیے گئے سی سی ٹی وی، موبائل فون اور دیگر ڈجیٹل شواہد کو محفوظ رکھا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر پولیس کی جانب سے طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ملک بھر میںنوجوانوں کی دھر پکڑ ہورہی ہے‘‘
عدالتی حکم سے قبل بہار حکومت نے احتجاج سے متعلق درج مقدمات واپس لینے اور نئی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ آسام حکومت نے بھی تمام قانونی مقدمات واپس لینے اور مزید کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا مؤقف ہے کہ اگرچہ مختلف ریاستیں اعلانات کر رہی ہیں، لیکن کئی مقامات پر اب بھی طلبہ اور کارکنوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے یا ان کے خلاف ایف آئی آرز برقرار ہیں۔ تنظیم مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ تمام گرفتار مظاہرین کو رہا کیا جائے اور احتجاج سے متعلق درج تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔