اس سے جو ہو کے مسلمانوں کیلئے تدفین کا مسئلہ اور میت دوسرے قبرستان لے جانے کی دشواری ختم ہوجائے گی، قبرستان ٹرسٹ کے سربراہ نے یقین دہانی کروائی۔
جوہوکپاس واڑی قبرستان میں صفائی ستھرائی کا ایک منظر۔ تصویر:آئی این این
اندھیری جوہو (لنک روڈ) کے مسلمانوں کے لئے یہ خبر باعث اطمینان ہوگی کہ یکم محرم سے کپاس واڑی قبرستان میت کی تدفین کے لئے کھول دیا جائے گا۔ تمام کام اور صاف صفائی کرلی گئی ہے۔ مقامی افراد کو اب مزید انتظار نہیں کرنا ہوگا۔اس قبرستان کے شروع کئے جانے کے بعد اب انہیں تدفین کے لئے میت دوسرے قبرستان لے جانے کی دشواری ختم ہوجائے گی۔ اس کا مقامی مسلمانوں کو کافی وقت سے انتظار تھا مگر کسی نہ کسی سبب یہ معاملہ التواء کا شکار ہوتا رہا لیکن اب دیر آید درست آید کے مصداق انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئی ہیں۔
اس کی تصدیق جامعہ قادریہ اشرفیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے سربراہ جسے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے قبرستان کی نگرانی کا ذمہ دیا گیا ہے، معین میاں نے نمائندہ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتائیں۔
مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نے یہ بھی بتایا کہ جامعہ کے ٹرسٹ کو ذمہ داری دی گئی ہے اور ہم نے دیکھ بھال کا کام عبدالرزاق چونا والا (جوگیشوری ) کو سونپ دیا ہے۔ یکم محرم سے اب مقامی افراد کو میت کی تدفین کے لئے کسی اور قبرستان میت لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس قبرستان میں تقریبا ً۴۰۰؍قبروں کی گنجائش ہوگی۔ اسے بہت ترتیب اور سلیقے سے بنایا گیا ہے جس سے میت دفنانے ، جنازہ قبر تک لے جانے اور تدفین کرنے کے بعد لوگوں کو واپس آنے میں قبروں کی بے حرمتی کا بھی احتمال نہیں رہےگا۔ معین میاں کے مطابق چند دن قبل انہوں نے وہاں کا جائزہ لیا تھا ، کچھ درخت لگانے اور صاف صفائی کی ضرورت تھی، وہ کام پورا کرلیا جائے گا۔
انہوں نے قبرستان کے کام اور تعمیر وغیرہ کے تعلق سے بتایا کہ اس میں مرحوم صفدر کرمالی اور سابق کارپوریٹر کا اہم رول رہا ہے۔ ان ہی حضرات کی مدد ، تعاون اور بھاگ دوڑ کے سبب ہی یہ اہم کام انجام تک پہنچ سکا اور مقامی مسلمانوں کو یہ سہولت حاصل ہوسکی ہے۔ اس لئے قبرستان شروع کئے جانے کے بعد اس طرح نگرانی کی جائے گی کہ کوئی مسئلہ نہ رہے اور نہ ہی کسی قسم کی دشواری پیش آئے۔ اسی طرح مقامی لوگ بھی تعاون کریں، ہدایات کو ملحوظ رکھیں تاکہ بہتر انداز میں نظام چلایا جاسکے۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ اس قبرستان کے شروع کئے جانے میں تاخیر پر۲۴؍ مئی اتوار کی صبح سماجی خدمت گار محمد پٹیل نے مقامی افراد کے ہمراہ قبرستان کے گیٹ پر ہار ڈال کر اور مٹھائی بانٹ کر علامتی افتتاح کا اعلان کردیا تھا۔ ساتھ ہی یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ مزید تاخیر ناقابل برداشت ہوگی۔اس ضمن میں کے ویسٹ وارڈ (جس کی نگرانی میں یہ قبرستان ہے) کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سچن گائیکواڑ سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے پہلے یہ یقین دلایا تھا کہ میں فوراً دیکھتا ہوں کہ تاخیر کی اصل وجہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ جو بھی مسئلہ ہوگا اسے جلد سے جلد حل کرلیا جائے گا اور عوام کو میت دفنانے کے لئے سہولت مہیا کرائی جائے گی۔