کرناٹک کےلکونڈی گائوںمیں ۹۰۰؍ سال قبل دفن زیورات سے بھرا برتن برآمد ہوا، جس کےبعد اس کی ملکیت پر تنازع ہوگیا ، جبکہ محکمہ آثار قدیمہ نے واضح کیا ہے کہ یہ کو تاریخی ورثہ نہیں ہے محض زیورات ہیں، جو اہل خانہ نے حفاظت کی خاطر دفنا دیا تھا۔
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 6:08 PM IST | Bengaluru
کرناٹک کےلکونڈی گائوںمیں ۹۰۰؍ سال قبل دفن زیورات سے بھرا برتن برآمد ہوا، جس کےبعد اس کی ملکیت پر تنازع ہوگیا ، جبکہ محکمہ آثار قدیمہ نے واضح کیا ہے کہ یہ کو تاریخی ورثہ نہیں ہے محض زیورات ہیں، جو اہل خانہ نے حفاظت کی خاطر دفنا دیا تھا۔
کرناٹک کے لکونڈی، گاؤں میں گھر کی بنیاد کھودتے ہوئے سونے کا ایک برتن ملا جس میں کئی زیورات تھے۔ گاؤں کی رہائشی گنگاووا بسوا راج رِٹّی کو تانبے کے برتن میں رکھا یہ خزانہ ملا۔ ماہرین آثار قدیمہ کو اطلاع دی گئی جنہوں نے آ کر سونے کا جائزہ لیا۔واضح رہے کہ لکونڈی، کبھی ایک تاریخی شہر تھا، جہاں کئی ہندو اور جین مندر تھے اور یہ ایک بڑا معاشی و تجارتی مرکز تھا۔ اس لیے جب یہ سونا ملا تو لوگ متجسس ہو گئے۔ تاہم، آثار قدیمہ کے محکمے نے وضاحت کی ہے کہ یہ خزانہ نہیں بلکہ محض پچھلی نسلوں کے چھپائے ہوئے زیورات ہیں۔ سونے کے سکوں کی عدم موجودگی کا مطلب ہے کہ اس دریافت کی کوئی تاریخی اہمیت نہیں ہو سکتی۔
دریں اثناء آثار قدیمہ کے محکمے کے سپرنٹنڈنٹ (دھرواڈ سرکل) رمیش مُلیمانی نے ڈیکن ہیرالڈ کے حوالے سے کہا، ’’تانبے کے برتن سے ملنے والے سونے کے زیورات ٹوٹے ہوئے ہیں اور گھریلو زیورات لگتے ہیں۔ پرانے زمانے میں لوگ اپنے زیورات حفاظت کے لیے باورچی خانے میں چولھے کے قریب دفن کر دیتے تھے۔ یہ ایسے ہی زیورات ہیں، خزانہ نہیں۔‘‘کرناٹک کے گاؤں میں ملا سونا کسی خاندان نے دفنایا تھا ۔بعد ازاں لکونڈی، میں گزشتہ برسوں میں۱۵۰؍ سے زائد کتبے، مندر اور مجسمے مل چکے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کبھی ایک خوشحال رہائشی علاقہ تھا۔
محقق اپپنا ہنجے کے مطابق زیورات اپنے ڈیزائن کی بنیاد پر۱۱؍ویں یا۱۲؍ویں صدی کے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کل وزن۴۷۰؍ گرام ہے اور یہ شاہی زیورات سے آسانی سے علاحدہ کیے جا سکتے ہیں کیونکہ شاہی زیورات میں مخصوص ڈیزائن ہوتی ہیں۔ تاہم، مقام سے ملنے والے زیورات عام قسم کے ہیں اس لیے احتمال ہے کہ یہ عام لوگوں کے ہوں گے۔اب وہ خاندان جو زیورات تلاش کر چکا ہے مشکل میں ہے۔ چونکہ ان کی کوئی تاریخی اہمیت نہیں ہے، وہ انہیں واپس کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ کسی خاندان نے دفنایا تھا تو پھر زیورات انہی کے ہیں۔ خاندان نے کہا، ہمیں سونے سے مطلب نہیں ہے۔ سرکار کو ہمارے لیے گھر بنانا چاہیے۔ اگر یہ ممکن نہیں ہے، تو جیسا افسران خود کہتے ہیں کہ یہ خزانہ نہیں ہیں، ہمارے دادا اور پر دادا کے یہ زیورات ہمیں واپس کیے جائیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جاپان: پڑھ سکنے اور رنگوں کی پہچان کرنے والی چمپینزی کا ۴۹؍ سال کی عمرمیں انتقال
دریں اثناء، وزیر اعلیٰ نے گڈگ کے ضلعی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس روہن جگدیش سے دریافت کی تفصیلات طلب کی ہیں۔سونے کو فی الحال سرکاری تحویل میں رکھا گیا ہے، اور ماہرین کی طرف سے اس کی تفصیلی تحقیق کی جائے گی۔ ریاستی آثار قدیمہ محکمے کی ماہر سْمِتھا ریڈی جلد ہی زیورات کی صحیح عمر اور دور کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کے لیے مقام کا دورہ کریں گی۔