Updated: January 12, 2026, 7:01 PM IST
| Mumbai
مشہور گلوکار میکا سنگھ نے ہندوستان میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ جانوروں کی فلاح کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ۱۰؍ ایکڑ زمین عطیہ کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ شیلٹر ہومز، دیکھ بھال اور مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ سپریم کورٹ اس وقت آوارہ کتوں کی منتقلی اور عوامی تحفظ سے متعلق درخواستوں پر سماعت کر رہی ہے۔
میکا سنگھ۔ تصویر: آئی این این
ہندوستان میں آوارہ کتوں (اسٹرے ڈاگز) کے مسئلے پر جاری قومی بحث کے درمیان معروف گلوکار میکا سنگھ نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ اس حساس معاملے میں جانوروں کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔ میکا سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آوارہ کتوں کے لیے شیلٹر ہومز اور نگہداشت کے منصوبوں کے لیے ۱۰؍ ایکڑ زمین عطیہ کرنے کو تیار ہیں۔ میکا سنگھ کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ صرف سڑکوں پر موجود جانوروں کا نہیں بلکہ یہ ایک انسانی، سماجی اور انتظامی چیلنج بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلے کا حل تشدد یا سخت اقدامات نہیں بلکہ منظم دیکھ بھال، مناسب انفراسٹرکچر اور تربیت یافتہ عملے کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر حکومت، مقامی ادارے اور سماجی تنظیمیں مل کر کام کریں تو نہ صرف جانوروں کی جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ عوامی تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں مظاہروں پر ردِعمل کے معاملے میں امریکی حکام میں اختلاف: رپورٹ
خیال رہے کہ یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ میں آوارہ کتوں کی منتقلی، نس بندی (اسٹرلائزیشن) اور عوامی سلامتی سے متعلق متعدد درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔ عدالت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح اینیمل ویلفیئر گائیڈ لائنز کے تحت آوارہ کتوں کے مسئلے کو حل کیا جائے تاکہ شہریوں، بچوں اور بزرگوں کی سلامتی کو بھی یقینی بنایا جا سکے اور جانوروں پر ظلم بھی نہ ہو۔ میکا سنگھ نے عدالت اور حکام سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ صرف زمین فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ مناسب عملہ، ویٹرنری سہولیات، خوراک، علاج اور نگرانی کے نظام کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شیلٹر ہومز کو صحیح طریقے سے چلایا جائے تو آوارہ کتوں کی تعداد میں قدرتی طور پر کمی آئے گی اور شہروں میں خوف و ہراس کی فضا بھی کم ہو گی۔
یہ بھی پڑھئے: آر بی آئی کے برخلاف ایس بی آئی نے ڈپازٹ میں اضافہ کا دعویٰ کیا
یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ملک کے مختلف حصوں سے آوارہ کتوں کے حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد یہ مسئلہ سیاسی، سماجی اور عدالتی سطح پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بعض حلقے سخت اقدامات اور بڑے پیمانے پر منتقلی کے حق میں ہیں جبکہ جانوروں کے حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ طریقے غیر انسانی اور قوانین کے خلاف ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نس بندی، ویکسینیشن اور شیلٹر ہومز ہی واحد پائیدار حل ہیں۔ میکا سنگھ کی پیشکش کو کئی سماجی کارکنان نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب معروف شخصیات آگے بڑھ کر عملی مدد کی پیشکش کرتی ہیں تو اس سے نہ صرف عوامی شعور میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ حکومت پر بھی مثبت دباؤ پڑتا ہے کہ وہ مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرے۔ بعض تنظیموں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس ماڈل کو سرکاری سطح پر اپنایا جائے تو دوسرے شہروں میں بھی ایسے شیلٹر ہومز قائم کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ: فلو میں تیزی سے اضافہ، ایک کروڑ ۵۰؍ لاکھ افراد بیمار، ایک لاکھ ۸۰؍ ہزار اسپتال داخل
دوسری جانب، قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ مستقبل میں آوارہ کتوں سے متعلق پالیسی کی سمت متعین کرے گا۔ عدالت کو ایک طرف عوامی تحفظ اور دوسری طرف جانوروں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ ایسے میں میکا سنگھ جیسے اقدامات اس بحث کو ایک انسانی اور عملی رخ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ فی الحال، سپریم کورٹ میں اس معاملے پر سماعت جاری ہے اور ملک بھر کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ عدالت کس طرح اس پیچیدہ مسئلے کا حل پیش کرتی ہے۔ میکا سنگھ کی جانب سے ۱۰؍ ایکڑ زمین عطیہ کرنے کی پیشکش نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا نجی سطح پر ایسے اقدامات سرکاری نظام کے ساتھ مل کر دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں۔