• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرناٹک: مسلمانوں نے ہندو بھائیوں کو پالا، بڑے بھائی کی ہندو رسومات کے مطابق شادی

Updated: February 12, 2026, 8:18 PM IST | Bengaluru

کرناٹک میں ایک مسلم جوڑے نے ۲؍ یتیم ہندو بھائیوں کی پرورش کی اور حال ہی میں بڑے بھائی کی ہندو رسومات کے مطابق شادی کروائی۔ دونوں بچوں کے والدین فوت ہو جانے کے بعد محبوب حسن نائکواڑی اور ان کی بیوی نور جہاں نائکواڑی نے انہیں اہنے پانچ بچوں کے ساتھ پالا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

کرناٹک میں ضلع بیلگاوی (بیلگام) کے تعلقہ رائے باغ کے ایک گاؤں بستواڈہ میں ایک مسلم جوڑے نے ملک کیلئے ہمدردی اور بین المذاہب یکجہتی کی ایک عمدہ مثال قائم کردی۔ رٹائر بس ڈرائیور محبوب حسن نائکواڑی اور ان کی بیوی نور جہاں نائکواڑی نے دو ہندو یتیم بھائیوں کی ان کی مرحوم والدہ سے کئے گئے وعدے کو پوارا کرتے ہوئے ان کی پرورش کی اور حال ہی میں بڑے بھائی کی شادی ہندو رسومات کے مطابق کی ہے۔ تقریباً ۲۰؍ سال قبل لنگایت برادری سے تعلق رکھنے والے شیوآنند کدایا کسی بیماری کی وجہ سے فوت ہو گئے۔ ان کے دو بچے تھے اور کچھ روز بعد شیو آنند کی بیوی شیلا کی بھی موت ہو گئی۔ اس وقت ان کے بڑے بیٹے کی عمر محض ۴؍ سال تھی اور چھوٹا بیٹے کی عمر کافی کم تھی۔

یہ بھی پڑھئے: کرناٹک: درگاہ میں پوجا روکنے کیلئے انتظامیہ سپریم کورٹ سے رجوع، مزار کے مذہبی تشخص کے تحفظ کا مطالبہ

شیلا نےاپنے آخری دنو میں اپنے دونوں بچوں کو نور جہاں کو سپرد کر دیا تھا۔ نور جہاں بڑی جذباتی ہو کر ان باتوں کو یاد کر کے کہتی ہیں، ’’میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ فکر نہ کریں، تمھارے بچے ہمارے بچوں کی طرح ہیں۔‘‘ نور جہاں کے کہنے کے مطابق، انہوں نے اپنے پانچ بچوں کے ساتھ ان دو بچوں کی پرورش کی، انہیں اچھی تعلیم، اخلاقی رہنمائی اور دیکھ بھال فراہم کی تاکہ انہیں آئندہ زندگی کیلئے تیار کیا جا سکے۔ آج دونوں بھائی سوم شیکھر اور وسنت نجی کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں۔ سوم شیکھر نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ ہم اس خاندان کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے ہماری تعلیم، ضروریات اور راستے کے ہر قدم کا خیال رکھا، جیسا کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی نے لیبر کوڈ اور تجارتی معاہدے پر مرکز سے سوال کیا

محبت، بھروسے اور عقیدت کی کہانی حال ہی میں ایک یادگار سنگ میل تک پہنچی جب سوم شیکھر نے گاؤں کے کداسادھیشور مندر میں پونم سے شادی کی۔ محبوب حسن اور نور جہاں نے شادی کی رسومات میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے والدین کا کردار ادا کیا۔ نور جہاں نے جذبات سے لبریز آواز میں کہا، ’’یہ دونوں میرے اپنے بچے ہیں، میں نے بطور ماں اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارا خاندان ہندو اور مسلم دونوں تہوار ایک ساتھ مناتا ہے۔ محبت اور باہمی احترام ہی اصل رشتہ ہے، مذہب نہیں۔‘‘ سوم شیکھر نے اس جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے کہا، ’’آج کے دور میں، جب نفرت کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، معاشرے کو نور جہاں کے خاندان سے سیکھنا چاہیے کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک خاندان کے طور پر رہ سکتے ہیں۔‘‘ اس کہانی نے دیہاتیوں اور مہمانوں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمدردی، انسانیت، اور مذہبی محبت سماجی تقسیم سے بالاتر ہو سکتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مذہبی عدم رواداری اکثر سرخیوں میں رہتی ہے، محبوب حسن اور نور جہاں کے اقدامات ہندوستان کے تنوع میں اتحاد کی حقیقی روح کا ثبوت ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK