• Sat, 29 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرناٹک : وزیراعلیٰ کی کرسی کیلئے رسہ کشی ،سدارمیا اور شیوکمار کی بیان بازی

Updated: November 29, 2025, 10:05 AM IST | Bengaluru

کانگریس صدرملکارجن کھرگے نے راہل گاندھی سے معاملہ کو سلجھانے کوکہا، بی جے پی نے پارٹی میںتقسیم کی پیش گوئی کی۔

Tension In Karnataka.Photo:INN
کرناٹک میں سیاسی کشیدگی۔ تصویر:آئی این این
کرناٹک  میں حکمراں جماعت کانگریس کے مابین وزیراعلیٰ کی تبدیلی اب بھی پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔اسی درمیان بی جے پی نے بھی اس مسئلہ میں کانگریس کی چٹکی لیتے ہوئے پارٹی کے درمیان تقسیم کے امکانات کا اشارہ کیا ہے۔ریاست میں قیادت کے بڑھتے ہوئے تنازع کے درمیان نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اس مسئلہ پر اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے دہلی آنے اور ہائی کمان کی ہدایات پر عمل کرنے  کی بات  کہی ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کانگریس کو اپنا مندر بتایا ہے۔
ریاست میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے جاری کشمکش  کے تعلق سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ کرناٹک میں کانگریس کی حکومت بننے کے موقع پر سدارامیا نے پانچ سالہ مدت کے دوران خود کے ڈھائی سال تک اقتدار پر فائز رہنے  اور باقی ڈھائی سال کیلئے ڈی کے شیوکمار کے وزیراعلیٰ بننے کی بات کہی تھی ۔ اگرچہ اس کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا لیکن  اب جبکہ سدارامیا کے ڈھائی سال گزر چکے ہیںتو ڈی کے شیوکمار کے حامی بہت سے  ممبران اسمبلی  یہ بات کہہ رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے شیوکمار دھڑے کے کئی ایم ایل ایز نے پارٹی ہائی کمان سے ملاقات کے لیے دہلی کا دورہ بھی کیاتھا۔ کانگریس نے اس وقت   کہاتھا کہ پارٹی کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے اور سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ اس وقت توڈی کے شیوکمار خاموش رہے تاہم اب  انہوں نے اپنی خاموشی توڑی ہے۔اندرونی کشمکش کے درمیان نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کانگریس کو اپنا مندر بتاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی ایک طویل تاریخ ہے اور دہلی نے ہمیشہ رہنمائی کی ہے۔ شیوکمار نے کہا کہ جب بھی ہائی کمان فون کرے گا، وہ اور چیف منسٹر دونوںوہاں موجود ہوں گے۔
ڈی کے شیوکمار نے یہ کہتے ہوئے کہ وہ سماج کے تمام طبقات کیلئے کام کرتے ہیں، کہا کہ وہ کسی عہدے کے خواہاں نہیں ہیں لیکن پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی وہ قابل قبول ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی وفاداری مکمل طور پر کانگریس کے ساتھ ہے اور وہ تنظیمی اتحاد کو برقرار رکھنے کیلئے پرعزم ہیں۔  تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ سدارامیا پورے پانچ سال تک وزیر اعلیٰ رہیں گے۔
دریں اثنا کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے راہل گاندھی پر زور دیا کہ وہ۸؍ دسمبر کو اسمبلی کا سرمائی اجلاس شروع ہونے سے پہلے اس تنازع کو حل کردیں۔اسی درمیان بی جے پی نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ اگر کرناٹک کانگریس میں تقسیم  ہوجاتی ہے تو کسی کو حیرت نہیں ہوگی۔ بی جے پی کرناٹک کے صدر بی وائی وجیندر نے کانگریس کے دو حصوں میں تقسیم کے امکان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان جاری تنازع ریاستی انتظامیہ کو متاثر کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK