ناندیڑ کے ایک گائوں میں پہلے دن ہی اسکول کی چھت کا پلستر گر پڑا، ایک اسکول میں اساتذہ کی کمی کے سبب پڑھائی نہیں ہو رہی ہے۔
ناندیڑ کے ایک گائوں میں اسکول کا یہ حال ہے -تصویر:آئی این این
گرمیوں کی دو ماہ طویل تعطیلات کے بعد پیر کے روز نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا۔ پہلی مرتبہ اسکول جانے والے بچوں کے ساتھ ان کے والدین کے چہروں پر بھی خوشی اور جوش و خروش نمایاں تھا، تاہم بعض علاقوں میں تعلیمی نظام کی خامیاں پہلے ہی دن سامنے آگئیں۔ ناندیڑ میں واقع تحصیل کیج کے تارنلی گاؤں کی سانپ بستی میں چوتھی جماعت تک کا ایک اسکول ہے جہاں ۲۰؍ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ۱۵؍ جون کو اسکول کھلنے کے بعد کلاسیں شروع ہونے سے قبل ہی اسکول کی عمارت کی چھت کا پلستر گر گیا۔ اس واقعے کے بعد والدین اور اسکول مینجمنٹ کمیٹی نے بچوں کو کلاس روم میں بٹھانے سے انکار کردیا۔
ایسی صورتحال میں ہیڈ ماسٹر کے سامنے یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ طلبہ کی تعلیم کا انتظام کہاں کیا جائے؟دوسری جانب تعلیمی سال کے پہلے دن محکمہ تعلیم اور محکمہ مالیات کے تقریباً ۱۰۰؍ افسران کی جانب سے مختلف اسکولوں کے معائنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں پیر کے روز کئی اسکولوں کا دورہ کیا گیا جبکہ منگل کو بھی بعض مقامات پر افسران کے دورے جاری رہے۔ادھر آشتی تعلقہ کے ہری نارائن آشتہ گاؤں میں واقع پی ایم شری اسکول میں ثانوی شعبے کیلئے ریاضی اور سائنس کے اساتذہ دستیاب نہیں ہیں۔ والدین نے اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر اساتذہ فراہم نہ کئے گئے تو اسکول پر تالا لگا دیا جائے گا۔
اسی طرح تحصیل دھارور کے ڈھگے واڑی اسکول میں نئے تعلیمی سال کے پہلے ہی دن اساتذہ وقت پر نہ پہنچنے کے باعث اسکول بند رہا۔ والدین کے مطابق طلبہ صبح تقریباً پونے ۱۰؍ بجے سے ۱۰؍ بجے تک اسکول کے باہر انتظار کرتے رہے، لیکن اساتذہ کی عدم موجودگی کے سبب تدریسی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں اور وہ واپس چلے گئے۔نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات، عمارتوں کی خستہ حالی اور اساتذہ کی کمی جیسے مسائل ایک بار پھر نمایاں ہوگئے ہیں، جس پر والدین اور مقامی شہریوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ ریاست کے دیہی علاقوں میں اسکولوں کی خستہ حالت اور ناقص تعلیمی نظام کی شکایت موصول ہوتی رہتی ہے۔ امید ہے نئے سال میں ان پر توجہ دی جائے گی۔