ضلع پریشد کے ۶؍ اسکولوں پر مشتمل ایک سینٹرہوگا، ہر سینٹر کا ایک ہیڈ ہوگا جو اسکولوں کے نظام کی نگرانی کرے گا۔
اساتذہ بھی اب ’عہدیدار ‘ بن سکیں گے-تصویر:آئی این این
ریاست کے ضلع پریشد اسکولوں میں تقریباً ۳۸؍ ہزار اساتذہ نے’ سینٹر ہیڈ ‘کے عہدہ کیلئے مقابلہ جاتی امتحان دیا تھا۔ ان میں سے ۲؍ ہزار ۴۱۰؍ کو اس عہدے کیلئےاہل قرار دیا گیا اور اب انہیں ’سینٹر ہیڈ‘ کے عہدے پر فائز کیا جا ئے گا۔ یاد رہے کہ ریاستی حکومت نے حال ہی میں ریاست کے مختلف علاقوں میں ’سینٹر ہیڈ‘ کا عہدہ وضع کیا ہے۔ ۶؍ اسکولوں کو ملا کر ایک ’سینٹر‘ قائم کیا گیا ہے ۔ ہر ایک سینٹر کا ایک ہیڈ ہوگا جو اپنے سینٹر کے دائرےمیں آنے والے اسکولوں کے تعلیمی اور انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔ اس عہدے کیلئے برسرکار اساتذہ امتحان دے سکتے ہیں۔
۳؍ فروری اور ۴؍ فروری ۲۰۲۶ء کو سینٹر ہیڈ کے عہدے پرپرائمری اساتذہ کی تقرری کیلئے امتحان منعقد کیا گیا تھا۔ امتحان کے نتائج کا اعلان ۱۳؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو کیا گیا تھا۔ ان امتحانات کے بعد محکمہ تعلیم (پرائمری) کے ڈائریکٹر نے حال ہی میں تمام ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹیو افسروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاستی امتحانی کونسل کے ذریعہ منعقدہ سینٹر ہیڈ لمیٹڈ ڈپارٹمینٹل مسابقتی امتحان ۲۰۲۵ءکے مطابق ضلع وار انتخاب اور تقرری کے عمل کو نافذ کریں۔ لہٰذا ریاست میں سینٹر ہیڈ کے عہدے کیلئے مسابقتی امتحانات پاس کرنے والے اساتذہ کو ضلع پریشد اسکولوں کے سینٹر ہیڈ کے طور پر مقرر کیا جائے گا۔ ایک طرح سے اساتذہ کے عہدے میں ترقی کی یہ نئی راہ ہے اور انتظامی امور میں آسانی کا ذریعہ۔
ضلع پریشد نے اپنے اشتہار میں جتنی اسامیوں کی تعداد بتائی تھی ان کا ڈھائی گنا عرضی اور دستاویز انہیں موصول ہوئے جن میں سے ۲؍ ہزار ۴۱۰؍ امیدواروںکو اب اس عہدے پر مامور کیا جائے گا۔ دستاویز کی تصدیق کے بعد دو دن کے اندر منتخب امیداروں کی فہرست جاری کی جائے گی۔ اور انہیں تقرر نامہ دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ یہ ایک طرح سے اساتذہ کی ترقی ہے۔ لہٰذا جو ۲؍ ہزار ۴۱۰؍ اساتذہ سینٹر ہیڈ کے عہدے پر فائز ہوں گے اسکولوں میں ان کی جگہ خالی ہو جائے گی۔ اس طرح ان اسکولوں میں نئی اسامیاں نکلیں گی جن پر بھرتی ہوگی۔ فی الحال جو سینٹر معذوروں کیلئے مختص تھے ان پر کوئی امیدوار نہیںملا ہے اس لئے ان سینٹروں پر کوئی تقرری نہیں ہوگی۔