یوکرین کی جانب سے اس ہفتے روس کے اورین برگ گیس پروسیسنگ پلانٹ پر کیے جانے والے ڈرون حملے کے بعد قزاخستان نے کاراچاگاناک تیل اور قدرتی گیس کنڈینسیٹ فیلڈ سے گیس کی پیداوار کم کر دی ہے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi
یوکرین کی جانب سے اس ہفتے روس کے اورین برگ گیس پروسیسنگ پلانٹ پر کیے جانے والے ڈرون حملے کے بعد قزاخستان نے کاراچاگاناک تیل اور قدرتی گیس کنڈینسیٹ فیلڈ سے گیس کی پیداوار کم کر دی ہے۔
قزاخستان نےیوکرینی حملے کے بعد قدرتی گیس کی پیداوار کم کر دی ہے۔ قزاخستان کے وزیرِ توانائی ارلان آقنزینوف نے جمعہ کو کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے اس ہفتے روس کے اورین برگ گیس پروسیسنگ پلانٹ پر کیے جانے والے ڈرون حملے کے بعد قزاخستان نے کاراچاگاناک تیل اور قدرتی گیس کنڈینسیٹ فیلڈ سے گیس کی پیداوار کم کر دی ہے۔
کاراچاگاناک فیلڈ، جس کے حصص داروں میں شیورون اور شیل بھی شامل ہیں، سے حاصل ہونے والی خام گیس عموماً سرحد پار روس کے اورین برگ پروسیسنگ پلانٹ منتقل کی جاتی ہے۔ بدھ کو کیف کے حکام نے اعلان کیا تھاکہ انہوں نے یوکرین سے تقریباً ۱۷۰۰؍ کلومیٹر مشرق میں واقع روسی پلانٹ کو نشانہ بنایاہے۔
کاراچاگاناک میں تیل اور گیس کی پیداوار ایک دوسرے سے منسلک ہے لہٰذاجب گیس کی پیداوار کم ہوتی ہے تو تیل کی اضافی پیداوار بھی ممکن نہیں رہتی۔ اورین برگ کا یہ پلانٹ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی حملے کا نشانہ بنا تھا۔ آقنزینوف نے کہا ہے کہ ’’فطری طور پر ہم نے نظام میں داخل ہونے والی گیس کی مقدار کم کر دی ہے، تاہم قزاقستان بھر میں گیس کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:منگلورو میں مداح کے ساتھ شاہ رخ خان کا مزاحیہ جواب دل جیت گیا
انہوں نے مزید کہا ہے کہ کاراچاگاناک میں تیل اور قدرتی گیس کنڈینسیٹ کی پیداوار تقریباً ایک چوتھائی کمی کے ساتھ یومیہ۳۴۰۰۰؍ ٹن سے گھٹ کر ۲۵۰۰۰؍ میٹرک ٹن، یعنی تقریباً۱۹۶۵۰۰۰؍ بیرل رہ گئی ہے۔
۲۰۲۴ء میں یومیہ تقریباً۲۶۳۰۰۰؍ بیرل تیل پیدا کرنے والا یہ فیلڈ اپنی پیداوار روس کے بحیرۂ اسود کے ساحلی شہر نووروسیسک میں واقع ٹرمینل تک کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے ذریعے برآمد کرتا تھا اور مصنوعات روس کی دروجبا پائپ لائن کے ذریعے جرمنی بھی بھیجی جاتی تھیں۔
کاراچاگاناک فیلڈ چلانے والی بین الاقوامی مشترکہ کمپنی کاراچاگاناک پیٹرولیم آپریٹنگ کمپنی (کے پی او) اور قزاخستانی گیس کی مارکیٹنگ و پروسیسنگ کے لیے قائم قازق روسی مشترکہ ادارے کازروس گیس کے درمیان ۲۰۳۸ء تک جاری رہنے والے طویل مدتی خریداری معاہدے کے تحت اورین برگ کو گیس فراہم کی جاتی ہے۔
شیورون اور شیل کے علاوہ کاراچاگاناک کے دیگر حصص داروں میں اٹلی کی تیل و گیس کمپنی اینی ، روس کی بڑی خام تیل پیدا کرنے والی کمپنی لوک آئل اور قزاخستان کی قومی تیل و گیس کمپنی قازمونائے گیس بھی شامل ہیں۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کا مقصد روس کی جنگی مالی معاونت کو کمزور کرنا اور جنگ کے اثرات کو روسی عوام کے لیے زیادہ پُر اثر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کیپ ورڈے ورلڈ کپ کے اپنے خوابوں کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہےکہ شہری بنیادی ڈھانچے پر اس نوعیت کے حملوں کا مقصد عوام میں پھُوٹ اور بے چینی پیدا کرنا ہے۔ آقنزینوف نے صحافیوں کو بتایا ہےکہ روس نے قزاخستان سے ایندھن کی فراہمی کے لیے کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی۔ بدھ کو توانائی کے شعبے سے چار ذرائع نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ روس اپنی ریفائنریز میں خرابیوں اور غیر منصوبہ بند مرمت کے باعث پیدا ہونے والی اندرونی ایندھن کی قلت کو کم کرنے کے لیے تقریباً ۵۰۰۰۰؍ میٹرک ٹن اے آئی ۹۲؍ گریڈ پیٹرول درآمد کرنے کے سلسلے میں قزاخستان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔