Inquilab Logo Happiest Places to Work

نندہ اداکاری کے بجائے ’نیتا جی‘ کی معاون لکشمی سہگل کی طرح کیپٹن بننا چاہتی تھیں

Updated: June 26, 2026, 8:43 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

۱۹۴۸ء میں انہوں نے بطور ’چائلڈ ایکٹر‘ فلموں میں اپنے کریئر کا آغاز فلم ’مندر‘ میں ایک لڑکے کے کردار سے کیا اور پھر والد کے انتقال کے بعد ایک لڑکا بن کر خاندان کی کفالت کیلئے فلموں ہی کو کریئر بنالیا۔

Actress Nanda. Photo: INN
اداکارہ نندہ۔ تصویر: آئی این این

نندہ کا جنم ایک ایسے خاندان میں ہوا جو پہلے ہی سے فلمی صنعت سے جڑا ہوا تھا۔ اُن کے والد ماسٹر ونائک کرناٹکی اپنے زمانے کے مراٹھی فلموں کے مشہور و مقبول فلمساز، ہدایتکار اوراداکار تھے۔ اسی خاندان میں وی شانتارام، بھال جی پنڈارکر اور بابورائو پنڈارکر جیسے فلمی دُنیا کے مشہور و معروف فنکار بھی تھے۔ ماسٹر ونائک فلمی دُنیا سے وابستہ ہونے سے پہلے ایک اچھے اُستاد کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کے خاندان میں تعلیم اور اخلاقی قدروں کی بڑی اہمیت تھی۔ ۸؍جنوری ۱۹۳۹ء کونندہ کا جنم ہوا تو خاندان میں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ 
ایک دن اچانک ماسٹر ونائک نے اپنی لاڈلی نندہ کو بلاکر کہا کہ تمہیں ایک فلم میں لڑکے کا کردار ادا کرنا ہے۔ معصوم نندہ کویہ بات کچھ عجیب سی لگی کہ وہ جب لڑکی ہے تو لڑکے کا کردار کیوں ادا کرے؟ بلکہ وہ تو فلموں میں اداکاری کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ اُس کا خیال تھا کہ نیتاجی سبھاش چندر بوس کی معاون کیپٹن لکشمی بائی کی طرح اسے بھی ملک کیلئے کچھ کرنا ہے۔ حالانکہ ماسٹر ونائک نے اپنی بیٹی میں نہ جانے کب اداکارانہ صلاحیتوں اور فنکاریوں کو بھانپ لیا تھا۔ ان کے اصرار پر نندہ کی والدہ میناکشی دیوی نے نندہ کو سمجھایا، تب جاکر نندہ نے پہلی بار اپنے بال چھوٹے چھوٹے کٹواکر اور عجیب سا میک اپ کراکے لڑکے کا کردار فلم’مندر‘ میں کیا۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس فلم کی تکمیل کے دوران ہی نندہ کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح گھر کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے فرائض نے نندہ کو باقاعدہ فلمی اداکارہ بنا دیا اور فلم میں لڑکے کا رول کرنے والی نندہ ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے ایک بیٹا بن گئی۔ گھر کے مالی حالات دن بہ دن کمزور ہوتے چلے گئے۔ شیواجی پارک کے جس بنگلے میں یہ لوگ رہتے تھے، وہ فروخت ہو گیا اور گاڑی بھی بیچنی پڑی۔ نندہ کی سب سے چھوٹی بہن اس وقت چھ ماہ کی تھی اور یہ لوگ تاڑدیو میں نندہ کی خالہ کے گھر منتقل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی نندہ نے باقاعدہ چائلڈ آرٹسٹ کے بطور فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ ابتدا میں انہوں نے فلم ’’جگّو، شنکر آچاریہ، انگارے اورجاگرتی‘‘ میں چائلڈ آرٹسٹ کے بطور کام کیا اور ساتھ ہی ریڈیو اور اسٹیج پر بھی پروگرام کرنے لگیں۔ ان کے چچا وی شانتارام نے ان لوگوں کی کافی دیکھ بھال کی اور خاص طور پر نندہ کی پڑھائی مکمل کرانے میں بڑا تعاون دیا۔

یہ بھی پڑھئے: منگلورو میں مداح کے ساتھ شاہ رخ خان کا مزاحیہ جواب دل جیت گیا

ایک بار نندہ کے خاندان میں شادی کی کوئی تقریب تھی۔ وہاں نندہ کو وی شانتارام نے ایک ہیروئن کے روپ میں پہلی بار دیکھا۔ انہوں نے نندہ کی والدہ سے کہا کہ کل اس کو ساڑی پہناکر اسٹوڈیو لانا۔ اگلے ہی دن وی شانتارام نے نندہ سے تعلیم جاری رکھنے اور مکمل کرنے کی شرط کے ساتھ ہی اپنی فلم ’طوفان اور دیا‘ کیلئے بطور ہیروئن منتخب کر لیا۔ اس فلم میں راجندر کمار ہیرو تھے۔ یہ فلم ۱۹۵۶ء میں نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ راج کمل کی اس فلم کے ہدایتکار پربھات کمار تھے۔ نندہ کی پہلی ہی فلم کامیاب ثابت ہوئی، لہٰذا اُن کو باہر کی فلموں کے آفر بھی آنے شروع ہو گئے۔ اُنہوں نے اپنے چچا وی شانتارام سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف تعلیم درمیان میں ہی چھوڑ دی۔ نندہ کے خیال سے گھر کی ذمہ داریاں پوری کرنا اُن کیلئےزیادہ ضروری تھا۔ 
۱۹۵۶ء میں ’طوفان اور دیا‘ کے ساتھ نندہ کی۲؍ اور فلمیں نمائش کیلئے پیش ہوئیں۔ ’شطرنج اوردیوگھر‘ مگر’طوفان اور دیا‘ کی کامیابی نے نندہ کو پلٹ کر دیکھنے کا موقع نہیں دیا۔ ۱۹۵۷ء میں ان کی چار فلموں کی نمائش ہوئی۔ ’ششی گوپال، لکشمی، بھابی اور بندی‘۔ ان چاروں فلموں میں فلم ’بھابی‘ کو بڑی کامیابی ملی۔ اس طرح نندہ اپنے کریئر کے ساتھ ہی اپنے خاندان کو بھی چلانے میں کامیاب ہوتی جا رہی تھیں، اور اب سلور اسکرین پر لوگ ان کو پہچاننے لگے تھے۔ ۱۹۵۸ء میں نندہ کی صرف ایک فلم ’دلہن‘ ریلیز ہوئی، مگر اس کے اگلے برس ۱۹۵۹ء میں ۷؍ فلموں کی نمائش ہوئی۔ ’برکھا، ذرا بچ کے، قیدی نمبر ۹۱۱، پہلی رات، نیا سنسار، دھول کا پھول اور’چھوٹی بہن‘۔ فلم ’چھوٹی بہن‘ ایل وی پرساد کی فلم تھی جس کا ایک گانا ’’بھیا میرے راکھی کے بندھن کو نبھانا...‘‘ بے حد مقبول ہوا تھا۔ اس فلم میں اداکار بلراج ساہنی کی چھوٹی اندھی اور جوان بہن کے کردار میں نندہ کی بے حد تعریف ہوئی اور وہ اسٹار بن گئیں۔ اس کے ساتھ ہی بی آر چوپڑہ کی فلم ’دھول کا پھول‘ بھی کامیاب ہوئی۔ فلم’چھوٹی بہن‘ نندہ کیلئے میل کا پتھر ثابت ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: رتیک روشن نے رجنی کانت کے ساتھ ’’جیلر ۲‘‘ کی شوٹنگ مکمل کی

۱۹۶۰ء میں ان کی پھر ۷؍ فلموں کی نمائش ہوئی۔ ان میں ’اُس نے کہا تھا، قانون، کالا بازار، جو ہوا سو بھول جائو، چاند میرے آجا، اپنا گھر اورآنچل‘۔ ان فلموں نے نندہ کو ایک بار پھر شہرت اور مقبولیت کی طرف گامزن کیا۔ فلم ’کالا بازار‘ میں نندہ نے دیوآنند کی چھوٹی بہن کا کردار ادا کیا تھا، جو بے حد پسند کیا گیا۔ شوٹنگ کے دوران دیوآنند نے نندہ سے کہا تھا کہ تم ضرور ایک دن بلندی پر جائوگی۔ اگلے برس ۱۹۶۱ء میں نندہ کی۲؍ فلمیں ’چار دیواری اورامر رہے یہ پیار‘ ریلیز ہوئیں۔ ’چار دیواری‘ میں نندہ کا کردار بہت عمدہ تھا مگر یہ دونوں فلمیں ہی زیادہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ ۱۹۶۲ء میں ریلیز چار فلموں میں ’مہندی لگی میرے ہاتھ، عاشق، ہم دونوں اوراُمید‘ میں سے دیوآنند کے ساتھ فلم ’ہم دونوں ‘ نے بے حد کامیابی حاصل کی۔ یہ فلم نندہ کیلئے ایک خوشگوار موڑ ثابت ہوئی اور وہ ایک اچھی بہن سے اچھی بیوی بن گئیں۔ اس فلم میں دیوآنند کا ڈبل رول تھا۔ فوجی کردار میں دیوآنند کی بیوی بنی نندہ اور ساحرؔ لدھیانوی کے نغمے اور او پی نیّر کی موسیقی سے سجی اس فلم کے گانے بے حد مقبول ہوئے۔ اس فلم نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ خاص طور پر ہندوستانی افواج کے تینوں شعبوں میں یہ فلم بے حد مقبول ہوئی۔ لفافے میں پرساد ڈال کر بھیجنے والا منظر ہمارے فوجی جوانوں کو بہت جذباتی کر گیا۔ اس برس فلم ’عاشق‘ میں نندہ راجکمار کی بیوی بنیں۔ راجکمار نے کہا کہ تم اتنی چھوٹی عمر میں بھی کافی پختہ اداکاری کر لیتی ہو۔ ان فلموں کی کامیابی سے نندہ چھوٹی بہن کی امیج سے باہر نکلیں، مگر اگلے ہی برس فلم ’آج اور کل‘ میں بڑی بہن کے کردار میں پھر دکھائی دیں۔ اس فلم میں سنیل دت ان کے ہیرو تھے۔ 
۱۹۶۵ء نندہ کے فلمی کریئر کا ایک اور اچھا سال رہا۔ اس برس ان کی۶؍ فلمیں، ’گمنام، تین دیویاں، محبت اس کو کہتے ہیں، جب جب پھول کھلے، بے داغ اور آکاش دیپ‘ ریلیز ہوئیں۔ فلم ’مہندی لگی میرے ہاتھ‘ کے بعد ’گمنام‘ اور’جب جب پھول کھلے‘ میں نندہ کو مکمل طور پر ایک رومانی ہیروئن بننے کا بہترین موقع ملا۔ ششی کپور کے ساتھ فلم ’جب جب پھول کھلے‘ بے حد کامیاب فلم تھی اور اس فلم میں آنند بخشی کے کئی گیت بے پناہ مقبول ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی فلم ’تین دیویاں ‘ میں دیوآنند کے ساتھ نندہ نے ہیروئن کا کردار ادا کیا، اور’آکاش دیپ‘ میں دھرمیندر کے ساتھ بھی نندہ کو پسند کیا گیا۔ کل ملاکر یہ سال نندہ کیلئے زبردست کامیابی لایا تھا۔ اس کے اگلے ہی برس ۱۹۶۶ء میں ششی کپور کے ساتھ فلم ’نیند ہماری خواب تمہارے‘ میں نندہ نے پھر ایک رومانٹک ہیروئن کا کردار بخوبی ادا کیا اور فلم کامیاب ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: الکا یاگنک کی صحت پر شبہ کرنے والوں کے لیے اِلا ارون کا سخت پیغام

۱۹۶۹ء میں بی آر چوپڑہ کی فلم’اتفاق‘ میں وہ راجیش کھنہ کے ساتھ نظر آئیں۔ یہ بالکل الگ طرح کی فلم تھی۔ اس فلم میں کوئی گانا نہیں تھا اور پوری فلم ایک ہی سیٹ پر فلمائی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی جتندر کے ساتھ رومانی جوڑی میں فلم ’دھرتی کہے پکار کے‘ بھی اسی برس آئی اور کامیاب ہوئی۔ ۱۹۷۰ء میں رمیش بہل کی فلم ’دی ٹرین‘ میں راجیش کھنہ کی ہیروئن کے طور پر نندہ نے اپنی اداکاری سے فلم بینوں کو متاثر کیا۔ ۱۹۷۱ء میں ’ادھیکار‘ اور ۱۹۷۲ء میں منوج کمار کے ساتھ فلم’شور‘ کے کرداروں کو بھی بے حد پسند کیا گیا۔ ۱۹۷۳ء میں ونود مہرہ اور رنجیت کے ساتھ فلم ’نیا نشہ‘ میں نندہ بطور ہیروئن آخری بار دکھائی دیں۔ اس فلم میں منشیات کے جال میں پھنسی ایک جوان لڑکی کا کردار نندہ نے ادا کیا۔ یہ فلم اپنے دَور سے آگے کی کہانی بیان کرتی تھی، لہٰذا زیادہ لوگوں کو اپیل نہ کر سکی اور ناکام رہی۔ اس کے بعد فلم ’چھلیا، اصلیت، جرم اور سزا، پرائشچت، قاتل کون‘ اور ۱۹۸۱ء میں فلم ’آہستہ آہستہ‘ میں بھی نندہ دکھائی دیں مگر ۱۹۸۲ء میں راج کپور نے نندہ کو فلم ’پریم روگ‘ میں کریکٹر ایکٹر کے طور پر پدمنی کولہاپوری کی ماں کا کردار خوبصورتی سے ادا کرایا۔ اس کے بعد ۱۹۸۳ء میں فلم ’مزدور‘ میں دلیپ کمار کی بیوی کا کردار ادا کرکے انہوں نے اپنی ایک دیرینہ خواہش کی تکمیل کی۔ ۱۹۹۱ء میں ’اور ڈھول بجتا رہا‘، اور ۱۹۹۵ء میں فلم ’دیا اور طوفان‘ میں نندہ آخری بار دکھائی دیں۔ انہوں نے کل ملاکر ۶۷؍ فلموں میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ 
 فلم ’جب جب پھول کھلے‘ کی تکمیل کے دوران فلم کے ہدایتکار سورج پرکاش کا جھکائو نندہ کی طرف ہوا۔ انہوں نے نندہ کی والدہ تک پیغام بھجوایا کہ وہ نندہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں مگر ان دنوں نندہ اپنا کریئر بنانے اور گھریلو ذمہ داریوں کو نبھانے میں بے حد مصروف تھیں، لہٰذا انہوں نے اس رشتے کو ٹال دیا۔ فلم ’پریم روگ‘ سے قبل جب نندہ نے فلموں میں ہیروئن کے بطور کام کرنا بند کر دیا تھا تب راج کپور کے یہاں ایک تقریب میں نندہ کی ملاقات مشہور فلمسازمنموہن دیسائی سے ہوئی۔ وہ نندہ کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے۔ وہ شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی تھے، مگر وہ نندہ کو دل سے چاہنے لگے تھے۔ اداکارہ وحیدہ رحمن اور ہدایتکار یش جوہر کی کوششوں سے دونوں نے شادی کا فیصلہ بھی کر لیا اور ۱۹۹۲ء میں دونوں کی منگنی بھی ہو گئی مگر۱۹۹۴ء میں منموہن دیسائی کی بالکنی سے گرنے پر موت واقع ہو گئی اور اس طرح نندہ کا دلہن بننے کا خواب چکناچور ہو گیا۔ 
نندہ کو ۱۹۵۷ء میں فلم ’بھابی‘ کے کردار میں بہترین اداکارہ کیلئے ’فلم فیئر ایوارڈ‘ کیلئے نامزد کیا گیا۔ اس کے بعد ۱۹۶۰ء میں فلم ’آنچل‘ میں بہترین معاون اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے ان کو نوازا گیا۔ بعد ازاں ۱۹۶۹ء میں فلم’اتفاق‘اور ۱۹۸۱ء میں فلم ’آہستہ آہستہ‘ اور ۱۹۸۲ء میں فلم ’پریم روگ‘ کیلئے بطور معاون اداکارہ نندہ کو فلم فیئر ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا۔ 
۷۵؍برس کی عمر میں ۲۵؍مارچ ۲۰۱۴ء کی صبح ۷؍ بجے انہیں دل کا دورہ پڑا، اور وہ حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK