Inquilab Logo Happiest Places to Work

قزاخستان ریفرنڈم: نئے آئین کے حق میں ۸۷؍ فیصد ووٹ

Updated: March 17, 2026, 2:05 PM IST | Almaty

قزاخستان میں نئے آئین کے حق میں ہونے والے ریفرنڈم میں ۱۵ء۸۷؍ فیصد ووٹرز نے حمایت کی جبکہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ ۱۲ء۷۳؍ فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

قزاخستان کے مرکزی الیکشن کمیشن نے پیر کو اعلان کیا کہ ملک میں منعقد ہونے والے ریفرنڈم میں عوام کی بھاری اکثریت نے نئے آئین کی منظوری دے دی ہے۔ کمیشن کے مطابق ۱۵ء۸۷؍ فیصد ووٹرز نے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیا جبکہ مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ ۱۲ء۷۳؍ فیصد رہا۔ نیا آئین قزاخستان کے سیاسی نظام میں کئی اہم تبدیلیاں متعارف کراتا ہے۔ اس کے تحت پارلیمانی ڈھانچے میں اصلاحات کی جائیں گی اور نائب صدر کا عہدہ دوبارہ قائم کیا جائے گا، جو ۱۹۹۶ء میں ختم کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان میں مسجد اقصیٰ کی بندش: عرب لیگ کی اسرائیل پر شدید تنقید

آئینی ترامیم کے مطابق صدر کو نائب صدر سمیت کئی اہم سرکاری عہدوں پر تقرری کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس اقدام کو بعض تجزیہ کار ملک کے سیاسی نظام میں اختیارات کے توازن کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ آئین کے مسودے کی تیز رفتار منظوری نے کچھ سیاسی مبصرین کو یہ قیاس آرائیاں کرنے پر بھی مجبور کیا ہے کہ صدر قاسم جومارت توقایف ممکنہ طور پر کسی جانشین کو نائب صدر کے طور پر نامزد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اس آئینی تبدیلی کا مقصد مستقبل میں اقتدار منتقلی کو آسان بنانا ہو سکتا ہے، جبکہ بعض حلقوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئی آئینی ترتیب صدارتی مدت کے حوالے سے نئی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے اپنی موت کی افواہوں کا جواب ویڈیو سے دیا، ویڈیو کے اے آئی جنریٹڈ ہونے پر شبہات برقرار

دارالحکومت آستانہ میں ووٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر قاسم جومارت توقایف نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ آئین کا مقصد اقتدار کی فوری منتقلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے صدارتی انتخابات ۲۰۲۹ء میں ہوں گے جب ان کی موجودہ مدت ختم ہو جائے گی۔ توقایف کے مطابق آئینی اصلاحات کا مقصد ملک کے سیاسی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی واضح تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ریفرنڈم کے نتائج قزاخستان میں آئندہ سیاسی سمت اور حکمرانی کے ڈھانچے پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK