Updated: March 16, 2026, 6:06 PM IST
| Tel Aviv
اپنی موت کی افواہوں کو ختم کرنے کی نیتن یاہو کی کوشش کے باوجود، انٹرنیٹ صارفین ابھی مطمئن نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ کلپ اصلی ہے؟ کچھ صارفین نے چند غیر معمولی تفصیلات کی نشان دہی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ویڈیو اے آئی کی مدد سے تیار کردہ لگ رہی ہے۔
نیتن یاہو کے پوسٹ کردہ ویڈیو کے مناظر۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اپنی موت کی افواہوں کو مسترد کردیا ہے۔ ان افواہوں میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ وہ ایرانی حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ افواہیں اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران سامنے آئیں۔ مختلف سازشی نظریات میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ نیتن یاہو ہلاک ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیوز دکھائے جا رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے یروشلم کے ایک کافی شاپ میں بنایا گیا ویڈیو پوسٹ کیا جس میں انہوں نے ان قیاس آرائیوں کا مذاق اڑایا اور اپنے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی۔ اتوار کے دن اپنے ایکس اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کئے گئے ویڈیو میں نیتن یاہو کو کافی کا آرڈر دیتے اور ایک اسسٹنٹ کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کا جواب بھی دیا۔
ویڈیو کلپ میں نیتن یاہو نے ان دعوؤں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، ”وہ کہتے ہیں کہ میں کیا ہوں؟“ جس کے بعد عبرانی زبان کی ایک اصطلاح استعمال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ”کافی کے لئے مرتا ہوں۔“ (مجھے کافی بہت پسند ہے۔) انہوں نے مزید کہا کہ ”میں اپنی قوم پر مرتا ہوں۔“ انہوں نے جاری بحران کے دوران اسرائیلیوں کی تعریف کی۔
ویڈیو کلپ میں وزیراعظم نے کیمرے کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ بھی دکھائے، کیونکہ ایک افواہ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے سابقہ ٹیلی ویژن خطاب میں ان کے ایک ہاتھ کی چھ انگلیاں نظر آ رہی تھیں، جس سے ان خدشات کو ہوا ملی کہ وہ ویڈیو فوٹیج اے آئی سے تیار کی گئی تھی۔ نیتن یاہو کے دفتر نے ان افواہوں کو پہلے ہی مسترد کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ ”یہ فیک نیوز ہے؛ وزیراعظم بالکل ٹھیک ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: ایران کی جدید میزائلوں سے اسرائیل میں تباہی
کافی شاپ ویڈیو نے ’کافی گیٹ‘ بحث چھیڑ دی
افواہوں کو ختم کرنے کی نیتن یاہو کی کوشش کے باوجود، انٹرنیٹ صارفین ابھی مطمئن نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نیتن یاہو کے ذریعے جاری کردہ ویڈیو کلپ اصلی ہے؟ کچھ صارفین نے اس میں چند غیر معمولی تفصیلات کی نشان دہی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ویڈیو اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ کئی صارفین نے یہ دلیل دی کہ نیتن یاہو کے کافی کا گھونٹ بھرنے کے بعد بھی کافی کی سطح اور اس پر موجود جھاگ کا ڈیزائن تبدیل نہیں ہوا، ان کے بقول یہ ڈجیٹل ہیرا پھیری کی علامت ہو سکتی ہے۔ دیگر صارفین نے پس منظر میں کیشیئر اسکرین پر مبینہ طور پر ”۱۳ مارچ ۲۰۲۴“ کی تاریخ کی نشان دہی کی اور دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج پرانی ہو سکتی ہے۔
جب صارفین نے ایکس اے آئی کے چیٹ بوٹ گروک کو ویڈیو کا تجزیہ کرنے کیلئے کہا تو اس نے جواب دیا کہ کافی کی سطح کا تبدیل نہ ہونا اکثر ’ڈیپ فیک‘ سے وابستہ علامت ہو سکتی ہے۔ گروک کے اس نتیجے کے بعد قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
بعد ازیں، ویڈیو میں دکھائے گئے کیفے ’دی ساطاف‘ نے اپنے انسٹاگرام ہینڈل سے نیتن یاہو کے دورے کی متعدد تصاویر پوسٹ کرکے افواہوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ تصاویر میں وزیراعظم کو کیفے کے اندر اور باہر عملے کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے بعد میں کیفے کے اندرونی حصے کا سابقہ تصاویر سے موازنہ کرکے مقام اور وقت کی تصدیق کی۔
اب تک کسی مستند حکومتی یا انٹیلی جنس ذریعے نے نیتن یاہو کو نقصان پہنچنے یا ان کے لاپتہ ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم سرکاری چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے بیانات جاری کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے اسرائیلی لیڈر کو دھمکیاں دی ہیں لیکن ان پر کسی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقائی تنازع کے گرد جاری شدید معلوماتی جنگ وائرل غلط معلومات اور ڈیپ فیک قیاس آرائیوں کو مزید عام بنا رہی ہے
یہ بھی پڑھئے: ایران خلاف جنگ کے دوران اسرائیل کے پاس میزائل شکن کی شدید قلت: رپورٹ
ہندوستان میں اسرائیلی سفیر کا بیان: نیتن یاہو زندہ ہیں
ہندوستان میں متعین اسرائیلی سفیر رووین آذر نے وائرل افواہوں اور سازشی نظریات کو سختی سے مسترد کردیا۔ ان دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی لیڈر ”بالکل زندہ“ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب میں اسرائیل میں تھا تو میں نے ذاتی طور پر انہیں ایک سے زیادہ بار دیکھا ہے۔
رووین آذر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حال ہی میں یروشلم کے ایک کیفے میں نیتن یاہو کے کافی پینے کی ویڈیو بھی بالکل اصلی ہے۔ یہ ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ نہیں ہے۔ اس بارے میں بہت زیادہ غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایرانی فریق اور ان کے سہولت کار ایسی بے بنیاد افواہوں کو ہوا دے رہے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔