Inquilab Logo Happiest Places to Work

کھڑک پاڑہ میں کتوں کے حملوں کے بعد کے ڈی ایم سی حرکت میں

Updated: August 28, 2026, 11:02 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | kalyan

۲۰؍ ہزار آوارہ کتوں کی ٹیکہ کاری کا پہلا مرحلہ شروع،کے ڈی ایم سی کی حدود میں تقریباً ۸۰؍ ہزار آوارہ کتے موجود ہیں جنہیں مرحلہ وار اینٹی ریبیز ویکسین دی جائے گی۔

Kalyan-Dombivli Municipal Corporation officials engaged in vaccination. Picture: Inquilab
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن کے اہلکار ٹیکہ کاری میں مصروف۔ تصویر :انقلاب

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کی حدود میں آوارہ کتوں کے بڑھتے حملوں اور شہریوں میں پھیلی تشویش کے پیش نظر میونسپل انتظامیہ نے بالآخر بڑے پیمانے پرٹیکہ کاری مہم شروع کر دی ہے۔ تقریباً دو ہفتے قبل کھڑک پاڑہ علاقے میں آوارہ کتوں کے حملوں میں ایک ہی روز متعدد افراد کے زخمی ہونے کے واقعہ نےشہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیئے تھے۔ معاملہ میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ تک پہنچنے کے بعد میونسپل انتظامیہ نے آوارہ کتوں کو اینٹی ریبیز ویکسین دینے کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: امیروں کی عمارت میں غیرقانونی فلیٹوں پر بی ایم سی کا ہتھوڑاچلا

ٹیکہ کاری مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز برلا کالج کے احاطے سے کیا گیا۔ میئر ہرشالی چودھری کے مطابق کے ڈی ایم سی کی حدود میں تقریباً ۸۰؍ ہزار آوارہ کتے موجود ہیں جنہیں مرحلہ وار اینٹی ریبیز ویکسین دی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں ۲۰؍ ہزار آوارہ کتوں کو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے لئے میونسپل کارپوریشن نے۲۰ ؍ہزار اینٹی ریبیز ویکسین خریدی ہیں۔ ہر وارڈ کی سطح پر یہ مہم چلائی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ آوارہ کتوں کو ویکسین دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکہ کاری مہم کیلئے ڈبلیو وی ایس نامی سماجی تنظیم کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔ اس کے تعاون سے گزشتہ۸؍ ماہ کے دوران بھی ۱۷۸۰ ؍آوارہ کتوں کو اینٹی ریبیز ویکسین دی جا چکی ہے۔ میونسپل انتظامیہ نے واضح کیا کہ صرف ٹیکہ کاری ہی نہیں بلکہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کیلئے نس بندی کے منصوبے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے نس بندی مرکز کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔ دریں اثنا آوارہ کتوں کی نس بندی کا منصوبہ مؤثر طریقے سے چلانے کیلئے نئے ٹھیکیدار ادارے کی تقرری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کو امید ہے کہٹیکہ کاری اور نس بندی کی کارروائی بیک وقت جاری رکھنے سے شہریوں کو آوارہ کتوں کے حملوں سے لاحق خطرات میں کمی لائی جا سکے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK